آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میرا ملک ہے، ہر حال میں واپس جاؤں گا‘
- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
- وقت اشاعت
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت کی جانب سے دی جانے والے مقررہ مدت کے اندر پاکستان واپس جائیں گے۔
لندن میں بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میرا ملک ہے اور میں ہر حالت میں واپس جاؤں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتوں میں اپنے مقدمات کا دفاع کریں گے۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر عاصم کے مطابق وہ عارضہ قلب اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں اسی بنیاد پر سپریم کورٹ کی جانب سے ان کو علاج کی خاطر ایک ماہ کے لیے لندن جانے کی اجازت دی گئی۔
ڈاکٹر عاصم پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں جن کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں، ان کا موقف ہے کہ نواز حکومت نے ان کے خلاف سیاسی عداوت کی وجہ سے جعلی مقدمے بنائے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ ان کو اپنے اوپر چلائے جانے والے مقدمات کے حوالے سے تحفظات ہیں لیکن انھیں معلوم ہے کہ مقدمات میں کوئی صداقت نہیں ہے اس لیے وہ پر امید ہیں کہ وہ قانونی جنگ میں کامیاب ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ سیاست میں آ کر پیسہ بنانا تو دور کی بات ہے الٹا ان کو مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ میں اپنی جماعت کی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس سے کچھ حد تک تو مطمئن ہیں لیکن وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ جو چیلینجز سندھ حکومت کو درپیش ہیں وہ دیگر صوبوں سے مختلف اور پچیدہ ہیں۔
ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ اگر آپ سندھ میں صرف کراچی کو ہی دیکھ لیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہاں کے مسائل کتنے پیچیدہ ہیں، اس لیے سندہ کا موازنہ پنجاب سے کرنا مناسب نہیں ہے۔ وفاق کی جانب سے پنجاب کو جو مالی وسائل دستیاب ہیں وہ دیگر صوبوں کو نہیں ملتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جمہوری نظام اسی طرح چلتا رہا تو یقیاناً اس میں وقت کے ساتھ مزید بہتری بھی آئے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم کہنا تھا کہ سندھ کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی سے خوش ہیں تو اسے ووٹ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر عاصم کے مطابق اگرچہ انھوں نے پاکستان پیلز پارٹی میں سنہ 2011 میں شمولیت اخیار کی لیکن وہ زمانہ طالبعلمی سے ہی بائیں بازو کی نظریاتی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
مستقبل میں ان کے سیاسی عزائم کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ 'میری دلچسپی پاکستان کی سیاست میں کم ہوگئی ہے۔'