بالآخر فوج اور سیاستدانوں کا ایک ہی موقف؟

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سوشلستان میں اس ہفتے وفاقی حکومت، رینجرز، فوج اور میاں نواز شریف کا تذکرہ رہا جن کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ میاں نواز شریف اپنی سیاسی جماعت کے دوبارہ صدر بننے میں کامیاب ہوئے تو اسی دوران شہباز شریف کے اپنے بھائی کو اچھے مشیر چننے کے مشورے بھی نیوز چینلز کی کوریج کا حصہ رہے۔

مگر ہم آج بات کریں گے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی پریس کانفرنس کی جسے بدھ کے دن سے بہت شیئر کیا جا رہا ہے۔

'جمہوریت اسی تنخواه پہ کام کرے گی'

جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس جس موضوع پر کی تھی اس کے بارے میں شاید ہی کسی نے بات کی ہو مگر ہر ایک کی زبان پر اس کانفرنس کے بعد سوال و جواب ہیں۔

اور حسبِ معمول ہر ایک ان جوابات کو اپنی تجزیاتی عینک سے دیکھ رہا ہے اور اس پر تبصرے کر رہا ہے، ان جوابات کی تشریح در تشریح اور اس کے معارف اور معانی پر اینکروں، سوشل میڈیا کے جانباز سب کام کر رہے ہیں۔

اس سارے عمل و عرفان کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے بعد چند ایک تبصرے کچھ یوں ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان جمعرات کو اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ رینجرز کے جن جوانوں نے وزیرِ داخلہ کو روکا ان کی تعریف ہونی چاہیے کیونکہ بغیر خصوصی کارڈ کے فوج کہ سربراہ کو بھی ایک سپاہی داخلے سے روک سکتا ہے۔

راجہ کبیر نے اس پر چند فوجی افسران کے ہاتھوں پٹتے ہوئے ٹریفک پولیس کے اہلکار کی تصاویر لگا کر سوال کیا کہ 'محترم ڈی جی صاحب جان کی امان ہو تو یہ پولیس والا بھی آئین اور قانون کے تحت فرائض انجام دے رہا تھا۔ شاید آپ نے شاباش دی ہو۔ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟'

احمد وقار نے لکھا کہ 'پولیس والے روکیں تو ہم نہیں رکتے تھے ۔۔ ہم نے کون سےکوئی غلط کام کیا ہے آئی ایس پی آر اگر یہ بیان کوئی سیاستدان دیتا تو آج قیامت کھڑی ہوجاتی۔'

اس پریس کانفرنس کے نتیجے میں شروع ہونے والی دوسری بحث ملی مسلم لیگ کے حوالے سے فوج کے ترجمان کے جواب پر جاری ہے۔

مصنف محمد حنیف نے لکھا کہ 'بالآخر فوج اور سیاستدانوں کا ایک ہی موقف ہے۔ یہ سیاستدان ملی مسلم لیگ والے ہیں۔'

سلمان حیدر نے ٹویٹ کی کہ 'ہمیں کیونکہ صرف سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے کی عادت ہے اس لیے پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کو سیاست میں لا رہے ہیں۔'

احمد وقار ہی نے ایک اور تبصرہ لکھا کہ 'کیا (ڈی جی آئی ایس پی آر) آصف غفور کی پریس کانفرنس کے بعد الیکشن کمیشن میں اتنی جرت ہے کہ وہ ان جماعتوں پر پابندی لگائے ؟'

اور ایک اور ٹوئٹر صارف جن کا نام ہم نہیں لکھ رہے ٹویٹ کی کہ 'ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں سمجھداروں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں'

خاور رندھاوا نے لکھا 'آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت اسی تنخواه پہ کام کرے گی۔'

اس ہفتے کی تصاویر