اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری مُہم کے سلسلے میں قائم ایف ایم ریڈیو سٹشنوں کا مستقبل فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن فاٹا سیکرٹیریٹ کا کہنا ہے کہ فی الحال چینل بند ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور جنوبی اور شمالی وزیرستان میں حکام نے اس وقت چار ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو قائم کیا تھا جب مقامی طالبان اور بعض مذہبی تنظیموں نے اپنی تبلیغ کے لیے علاقے میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کا استعمال شروع کیا۔
شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز وانا ہی سے ہوا تھا اس لیے پہلا ریڈیو سٹیشن بھی دو ہزار چار میں وانا کے مقام پر قائم کیاگیا تھا مگر اپریل دو ہزار نو کو مقامی طالبان نے حملہ کر کے سٹیشن کے تمام الات کو قبضے میں لے کر عمارت کو بارودی مواد سے اُڑا دیا جس کے بعد سے وانا ایف ایم ریڈیو بند ہے۔ وانا ریڈیو سٹیشن پر مذیبی تعلیمات اور طالبان طرز کے نغمے نشر کیے جاتے تھے لیکن اس کے باجود بھی مقامی طالبان نے اسے چلنے نہیں دیا۔ آج کل وانا کے لوگ افغانستان کے علاقے برمل میں واقع ریڈیو شکین سنتے ہیں۔

ریڈیو خیبر کے پروڈیوسرز ریڈیو پرورگام تراوال ماما کے ساتھ
دو ہزار چار میں ہی حکومت نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی میں اپنا موقف قبائلیوں تک پہنچانے کے لیے شمالی وزیرستان کے سب ڈویژن رزمک اور سب ڈویژن میران شاہ میں دو الگ الگ ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کیے تھے مگر وہ بھی طالبان کے خوف سے ایسے پروگراموں کو نہ چلا سکے جس میں شدت پسندوں کے خلاف کوئی بات شامل ہو۔
پشاور سے متصل خیبر ایجنسی کے سب ڈویژن جمرود میں ریڈیو خیبر وزیرستان کے ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں سے مختلف ہے۔ اس چینل پر دس ہفتہ وار پروگرام چلتے ہیں جس میں موسیقی، سپورٹس، بزنس، خبریں، حالات حاضرہ اور دینی پروگرام شامل ہیں (رزمک اور میران شاہ سے موسیقی کے پروگرام نشر نہیں ہوتے)۔
ریڈیو خیبر کی بنیاد دو ہزار چھ میں رکھی گئی تھی۔ اس ایف ایم ریڈیو سٹیشن کی کوریج ایریا باقی ایف ایم چینل کے مقابلے میں زیادہ ہے خیبر ریڈیو نہ صرف خیبر ایجنسی بلکہ مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں سُنا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں کے ساتھ نیم قبائلی علاقے ایف ار کوہاٹ، پشاور، مردان اور چارسدہ میں بھی سنا جاتا ہے۔
ان ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کا مستقبل تاریک نظر نہیں آتا ہے کیونکہ ان ریڈیو سٹیشنوں میں فاٹا سکرٹریئٹ کے تعینات کردہ پروڈیوسرز اور انجینئرز کو غیر مستقل بنیاد پر رکھا گیا ہے۔ ان کو ’فکس پے ملازمین‘ کا نام دیاگیا ہے، انہیں نہ کوئی کنٹریکٹ اور نہ کوئی الاؤنس دیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی وقت فارغ کیا جاسکتا ہے۔

فلک ناز المعروف تیراوال ماما جو ریڈیو خیبر کی معروف شخصیت ہیں
ویسے تو خیبر ریڈیو کے تمام پروگرام بہت مشہور ہیں لیکن چند پروگرام جن میں خبرونہ، کرنٹ افئیر، میوزک شو اور تیراوال ماما بہت زیادہ مشہور ہیں۔تیراوال ماما تو اتنا مشہور ہے کہ بعض جگہوں پر خیبر ریڈیو کو لوگ تیراوال ماما ریڈیو کے نام سے جانتے ہیں۔اس میں کمال یہ ہے کہ بڑی سے بڑی بات سادگی اور سلیقے سے کہہ دی جاتی ہے۔ اور حد سے زیادہ حاضر جواب ریمارکس ایسے دیتے ہیں کہ اس پر لوگ ہنس لیتے ہیں۔
فلک ناز المعروف تیراوال ماما کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی قصیہ شعر و شاعری بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ اس میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے نصیحت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ’ہم علاقائی زبان میں پروگراموں کو پیش کرتے ہیں اس لیے بوڑھے، بچے اور خواتین ہر بات کو آسانی سے سمھجہ سکتے ہیں۔‘
تیراوال ماما نے بتایا کہ پروگرام کرنے کے بعد جب وہ گھر کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو راستے میں درجنوں لوگ ان سے ملنے کے لیے آگے آجاتے ہیں۔ان کے مطابق سٹیشن سے گھر تک راستے میں جگہ جگہ ’اتنے لوگ ملنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک دوست نے مھجے مشورہ دیا کہ گھر جاتے وقت برقعہ پہنا کرو۔‘

ریڈیو خیبر کا سامع حفیظ اللہ باڑہ کا رہنے والا ہے اور اپنی پسندیدہ شخصیت تراوال ماما سے ملنے آیا تھا
سنئیر پروڈیوسر طیب خان کا کہنا تھا کہ کہ یہ بات درست ہے کہ ان کو تین مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں لیکن اب فاٹا سکرٹریٹ نے تمام سٹاف کے تنخواہ جات ادا کردیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں ریڈیو کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ پورے علاقے میں کسی قسم کا ٹی وی چینل موجود نہیں ہے اور لوگ خبروں اور ٹائم پاس کرنے کے لیے ریڈیو ہی سنتے ہیں۔
میڈیا ڈائریکٹر فاٹا جہانزیب لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں چار ایف ایم ریڈیو چینل چلائے گئے تھے جن میں وانا ریڈیو سٹیشن حالت کی وجہ سے بند ہوگیا ہے لیکن دوسرے تین ریڈیو چینل کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فنڈنگ میں کچھ مسئلہ تھا لیکن اب گورنر نے فنڈ دیا ہے جس سے تمام سٹاف کے تنخواہیں اور دوسری ضروریات کوپورا کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اب کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اب تمام ریڈیو چینل صحیح حالت میں چل رہے ہیں۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔