آخری وقت اشاعت:  منگل, 5 جنوری, 2010, 07:57 GMT 12:57 PST

مہمند: ایک سال میں پانچ سو افراد ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شدت پسندی کے خلاف جاری کارروائی کے دوران پانچ سو انیس افراد ہلاک، چار سو سے زائد زخمی اور آٹھ سو چودہ مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں تین سو پچاس شدت پسند،ایک سو چار قبائلی مشران اور امن کمیٹی کے رضاکار اور پینسٹھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

مہمند ایجنسی کے ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ سید احمد جان نے مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئ میں پشاور کے صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہمند ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجووں سے صاف کر لیا گیا ہے البتہ کچھ پہاڑی علاقوں میں ان کے ٹھکانے موجود ہیں۔

پولیٹکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت کم وقت میں مہمند ایجنسی کے اکثر علاقے کو شدت پسندوں سے محفوظ کرا لیا ہے۔ان کے مطابق تحصیل صافی، تحصیل علیمزئی، تحصیل ترکزئی اور تحصیل پنڈیالی کے علاقے میں شدت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اب ان علاقوں میں لوگ اپنے معمول کے مطابق کاروبار اور دوسرے سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں شدت پسند موجود ہیں۔ان علاقوں میں بائیزئی، شیخ بابا، چمرکنڈ، سوران اور جڑوبی شامل ہیں۔

شدت پسندوں کی خوف سے مہمند ایجنسی کے اکثر لوگوں نے علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں منتقل ہوگئے ہیں۔جو اب بھی واپسی کے لیے تیار نہیں۔ ان لوگوں سے مطالبہ ہے کہ اب علاقے میں امن امان قائم ہے اور علاقہ چھوڑنے والے لوگ واپس اپنے علاقے میں آجائے

ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین سو پچاس شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ تین سو کو زخمی کر دیا گیا اور سکیورٹی فورسز کے پینسٹھ اہلکار ہلاک اور اڑتالیس زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے قبائلی مشران سمیت ایک سوچار امن کمیٹی کے رضاکاروں کو بھی ہلاک کیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی خوف سے مہمند ایجنسی کے اکثر لوگوں نے علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں منتقل ہوگئے ہیں۔جو اب بھی واپسی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے ان کا مطالبہ ہے کہ اب علاقے میں امن امان قائم ہے اور علاقہ چھوڑنے والے لوگ واپس اپنے علاقے میں آجائے۔

پولیٹکل ایجنٹ کے مطابق اس وقت شدت پسند خالی مکانات کو اپنے مورچے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اگر اس میں لوگ دوبارہ آباد ہوجائے تو شدت پسند ان کے خالی گھروں کو اپنے ٹھکانے طور پر استعمال نہیں کرینگے۔اس موقع پر متاثرہ خاندانوں میں تین کروڑ سولہ لاکھ کے چیک تقسیم کیےگئے۔

بریفنگ کے بعد صحافیوں کو مہمند ایجنسی کی مختلف تحصیلوں میں لے جایاگیا ہے۔جہاں پر پہلے شدت پسندوں کا کنٹرول تھا اور اب ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار پہنچ گئے ہیں۔

علاقے میں کارروائی کی وجہ سے بڑی تعداد میں سکلول اور گھر تباہ ہوئے ہیں

غلنئی سے علیمزئی،لکڑو اور جنگ آزادی کے مشہور مجاہد ترنگزئی کے مزار کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک درجن سے زیادہ تباہ شدہ سکولوں کے عمارتیں اور کئی عام شہریوں کے تباہ شدہ گھروں کو دیکھنے کو ملے۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ دن کے وقت سکیورٹی فورسز کی حکومت ہوتی ہے اور رات کو علاقے کا کنٹرول شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ ایک سال سے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔اس سے پہلے بھی مہمند ایجنسی میں متعدد بار آپریشن کیے گئے تھے جن میں سکیورٹی فورسز کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔لیکن اس مرتبہ سکیورٹی فورسز نے اسی فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے شدت پسند خیبر،اورکزئی اور کُرم ایجنسی میں منتقل ہوگئے ہیں لیکن مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے آنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

البتہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد سے مبینہ طور پر شدت پسندوں نےشہری علاقوں میں بڑی تعداد میں کارروائیاں کی ہیں جن میں پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، چارسدہ اور بنوں میں خودکش حملے اور بم دھماکے شامل ہیں۔ ان تمام کارروائیوں میں سینکڑوں عام لوگ ہلاک ہوئے ہیں

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔