
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں تقریباً تین ماہ پہلے سیلاب سے متاثرہ ہونے والے اضلاع میں بحالی اور تعمیر نو کا کام جاری ہے تاہم چند پہاڑی علاقے اب بھی ملک کے دیگر حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔
صوبائی حکام کے مطابق متاثرین میں نقد رقم کی تقسیم کےلیے بیس اضلاع میں وطن کارڈ کا اجراء کردیا گیا ہے جس کے تحت اب تک ساٹھ کروڑ کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے تاہم اکثر اضلاع میں متاثرین نے حکومتی اقدامات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ میں مہاجر کیمپوں میں مقیم بیشتر متاثرین اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔ تاہم یہ وہ خاندان ہیں جو مالی طورپر خوشحال تھے اور جنھوں نے اب اپنی مدد اپ کے تحت دوبارہ اپنے مکانات کی تعمیر نو کا کام شروع کیا ہے۔
ان متاثرہ علاقوں میں قائم کیےگئے زیادہ تر عارضی کیمپ بھی بند کر دیےگئے ہیں لیکن چارسدہ اور نوشہرہ میں اب بھی دو تین ایسے کیمپ موجود ہیں جہاں بدستور ہزاروں بےگھر متاثرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔یہ کیمپ حکومت اور مخیر ادارے مشترکہ طورپر چلارہے ہیں۔
خیبر پختونخواہ میں مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع سوات، دیر اپر، دیر لوئر، شانگلہ اور کوہستان ہزارہ کے علاقوں میں سیلاب نے سب سے زیادہ نقصان انفرسٹرکچر کو پہنچایا اور درجنوں پل اور ہزاروں کلومیٹر سڑک سیلابی پانی کی نذر ہو چکی ہے۔
تاہم سوات، شانگلہ اور دیر کے اضلاع میں چند اہم پلوں کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے لیکن کوہستان اور بالائی سوات کے علاقے گزشتہ تین ماہ سے بدستور ملک کے دیگر حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
کالام کے ایک مقامی صحافی رحمت الدین صدیقی نے علاقے کی تازہ صورتحال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وادی میں حالات جوں کے توں ہیں اور ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ کالام کے عوام نے خود اپنی مدد اپ کے تحت بحرین سے کالام تک چھ پلوں کو ’فور بائی فور‘ گاڑیاں کےلیے کھول دیا ہے جبکہ علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء بدستور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی پہنچائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کالام میں سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور برفباری کی صورت میں متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع ٹانک اور ڈیرہ اسمعیل خان میں تقریباً آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ اور ان اضلاع میں متاثرین کے مطابق اکثر مقامات پر بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے۔
اب تک پینتالیس ہزار کے قریب وطن کارڈ متاثرہ خاندانوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ اس کارڈ کے ذریعے سے ہر متاثرہ خاندان کو بیس ہزار روپے نقد فراہم کیے جا رہے ہیں۔
عدنان خان، پی ڈی ایم اے
دوسری طرف خیبر پختونخواہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین میں نقد رقوم کی تقسیم کے لیے بیس اضلاع میں وطن کارڈ کا اجراء کردیا گیا ہے۔
پشاور میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا ادارہ پی ڈی ایم اے کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک پینتالیس ہزار کے قریب وطن کارڈ متاثرہ خاندانوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ اس کارڈ کے ذریعے سے ہر متاثرہ خاندان کو بیس ہزار روپے نقد فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق وطن کارڈ کے ذریعے سے تقریباً ساٹھ کروڑ ورپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے خیبر پختونخواہ میں قریباً تین سو کے قریب پل اور دو ہزار کلومیٹر سڑک سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے جس کی کی تعمیرِنو اور بحالی کا کام جاری ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ زیادہ تر علاقوں میں اہم پل دوبارہ بحال کر دیےگئے ہیں جن میں چکدرہ کا اہم پل بھی شامل ہے۔
چکدرہ پل کی تباہی سے دیر لوئر، دیر اپر، چترال اور ضلع سوات کے چند علاقوں سے بقیہ علاقوں کا زمینی رابطہ ایک ڈیڑھ ماہ تک منقطع رہا تھا۔
سیاسی رہنما، منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی وطن کارڈ اپنے منظور نظر افراد میں تقسیم کررہے ہیں جبکہ اس میں کمیشن بھی لے رہے ہیں۔
عامر یوسفزئی، نوشہرہ
سیلاب سے متاثرہ اکثر علاقوں میں متاثرین نے وطن کارڈ کے حصول میں سیاسی اثر رسوخ اور اقربا پروری کا الزام لگایا ہے۔ نوشہرہ کے ایک رہائشی ملک عامر خان یوسفزئی نے الزام لگایا کہ سیاسی رہنما، منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی وطن کارڈ اپنے منظور نظر افراد میں تقسیم کررہے ہیں جبکہ اس میں کمیشن بھی لے رہے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں اگرچہ امدادی سرگرمیوں کے دوران ملکی اور بین الاقوامی مخیر اداروں نے کسی حد تک بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا لیکن اب بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں وہ سرگرمی نہیں دکھائی جارہی جبکہ دوسری طرف سردی کا موسم شروع ہوجانے کی وجہ سے متاثرین کے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔