آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 نومبر 2010 ,‭ 17:53 GMT 22:53 PST

کراچی: روسی کارگو طیارہ گر کر تباہ، آٹھ افراد ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ایک روسی ساخت کا کارگو جہاز رہائشی علاقے پر گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں عملے کے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار جعفر رضوی نے بتایا کہ روسی ساخت کا یہ سامان بردار جہاز کراچی سے سوڈان کے شہر خرطوم جا رہا تھا۔ اس جہاز پر عملے کے آٹھ افراد سوار تھے۔

کلِک میں ہڑ بڑا کر باہر بھاگا: عینی شاہد

کلِک کارگو جہاز گر کر تباہ: تصاویر

سپرینٹینڈنٹ پولیس شاد مسیح نے میڈیا کو بتایا کہ چار لاشیں ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔

حکومتِ سندھ نے کراچی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

پاک بحریہ کے کموڈور خالد نے میڈیا کو بتایا کہ جہاز گرنے کے ایک گھنٹے بعد آگ بجھا دی گئی تھی۔ ’لیکن ابھی بھی کبھی آگ بھڑک اٹھتی ہے کیونکہ جہاز سے بہنے والا تیل پھیلا ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جہاں یہ جہاز گرا ہے وہ زیر تعمیر علاقہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی پانچ سے دس مزدور لاپتہ ہیں۔

اس جہاز نے کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے اڑان لی اور ٹیک آف کے ڈیڑھ منٹ بعد کراچی کے علاقے گلشنِ جمال میں گر کر تباہ ہو گیا۔

اس جہاز پر ساڑھے تیس ٹن امدادی سامان لدا ہوا تھا۔ یہ جہاز آئی ایل 76 ساخت کا تھا۔

یہ طیارہ گلشنِ جمال میں واقع نیول ہاؤسنگ سکیم میں گرا ہے۔ جہاں یہ جہاز گرا ہے اس کے قریب ہی زیرِ تعمیر عمارت تھی جہاں کوئی نہیں مقیم تھا۔

میڈیا پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں دور دور تک آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتے دکھائی دے رہا ہے۔

نیول ہاؤسنگ سکیم کے ایک رہائشی ثاقب نے بی بی سی کو بتایا ’میں سویا ہوا تھا جب ایک دھماکہ ہوا اور میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا اور باہر بھاگا۔ میرے ایک پڑوسی نے بتایا کہ اس جہاز میں آگ لگی ہوئی تھی۔‘

واضح رہے کہ نیول ہاؤسنگ سکیم میں زیادہ تر ریٹائرڈ بحری فوج کے افسران رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

نیول ہاؤسنگ سکیم کے رہائشی ایاز پیر محمد نے بی بی سی کو بتایا ’جہاز میرے گھر سے آٹھ سو میٹر کے فاصلے پر گرا۔ ایک زور دار دھماکہ سن کر ہم گھر سے باہر بھاگے۔ میرا بیٹا جاگ رہا تھا اور اس نے جہاز کے کاک پٹ میں آگ لگے دیکھی۔ میں فوراً جائے حادثہ پر پہنچا۔‘

روسی جہاز فائل فوٹو

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔