آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 اپريل 2011 ,‭ 09:12 GMT 14:12 PST

’دہشتگردی نے تعلیمی سلسلہ روک دیا‘

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستانی معاشرے میں کچھ لوگ آج بھی خود مختاری کو عموماً ایک مردانہ صلاحیت تصور کرتے ہیں اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں عورت معاشرے کا وہ جزو سمجھی جاتی ہے جس کے رہن سہن کا مکمل انحسار مرد پر ہوتا ہے۔

لیکن اگر کوئی عورت خود مختار ہونا چاہے تو وہ کیا کرے؟

ایسی ہی کچھ خواتین سے بی بی سی کی نوشین عباس کی ملاقات ہوئی جنہوں نے تعلیی شعبے میں اپنے آپ کو منوانے کے لیے بابر علی فاؤنڈیشن کے ذریعے سکالرشپ حاصل کیں اور اب اپنے علاقے کی بہتری کے لیے خود کچھ کرنا چاحتی ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔