انیس سو بانوے ورلڈ کپ کی جیت بلاشبہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے یادگار لمحہ ہے۔
آج انیس سال گزرجانے کے باوجود جب اس فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں سے بات کی جائے تو ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ آنکھوں میں عجب سی چمک آجاتی ہے اور لہجہ پرجوش ہوجاتا ہے۔
اس تاریخی جیت کے حوالے سے کراچی میں ہمارے نامہ نگار عبدالرشید شکور نے عمران خان، معین خان، وسیم اکرم اور جاوید میانداد سے انٹرویو کیے۔

اس تاریخی جیت کے مرکزی کردار عمران خان تھے جنہوں نے پانچ عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی لیکن جب بھی انہیں بانوے ورلڈ کپ یاد دلایا جاتا ہے تو وہ بھی اس کی سحرانگیزی میں کھوجاتے ہیں۔
عمران خان کہتے ہیں کہ سرکالن کاؤڈرے سے ورلڈ کپ کی کرسٹل ٹرافی وصول کرنا ان کے کرکٹ کریئر کا ایک اہم لمحہ تھا۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ بانوے ورلڈ کپ کی ٹیم منتخب ہوتے وقت اچھی تھی لیکن دو اہم کھلاڑی سعید انور اور وقاریونس ان فٹ ہوکر عالمی ایونٹ سے باہر ہوگئے۔
’یہ دونوں میچ ونرز تھے۔ کسی بھی ٹیم میں چار یا پانچ ہی میچ ونرز ہوا کرتے ہیں اور آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب کسی ٹیم سے دو میچ ونر نکل جائیں تو کیا ہوسکتا ہے۔ وقاریونس اور سعید انور جیسے کھلاڑیوں کا ٹیم سے یوں نکل جانا بہت بڑا دھچکہ تھا اور اسی وجہ سے ابتدائی میچوں میں ٹیم کی پرفارمنس بھی اچھی نہیں تھی۔‘
عمران خان کہتے ہیں کہ وہ خود ان فٹ ہوگئے جبکہ جاوید میانداد کو بھی انجری ہوگئی یوں پے درپے یہ حادثے ٹیم کو برداشت کرنے پڑے تھے۔
عمران خان اس ٹیم کو اس لیے بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں کہ اس نے ابتدائی میچوں میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے باوجود ہمت نہیں ہاری تھی۔
’اس ٹیم نے اس مقام پر آکر فائٹ بیک کی جہاں ٹیمیں عام طور پر ہاتھ کھڑے کرچکی ہوتی ہیں۔ یہ ٹیم پیچھے نہیں ہٹی اور اس کی کارکردگی بتدریج بہتر ہوتی گئی۔‘
واضح رہے کہ ورلڈ کپ فائنل میں عمران خان نے ون ڈاؤن پر بیٹنگ کرتے ہوئے72 رنز بنائے تھے جو میچ کا سب سے بڑا انفرادی سکور تھا جبکہ پاکستانی ٹیم کی جیت کا اختتام بھی عمران خان پر ہی ہوا جب انہوں نے انگلینڈ کے آخری بیٹسمین رچرڈ النگورتھ کی وکٹ حاصل کی۔
عمران خان کا کہنا ہے ’انیس سو بانوے کے بعد بھی پاکستان ورلڈ کپ جیت سکتا تھا۔ انیس سو چھیانوے، انیس سو ننانوے اور دو ہزار تین میں جیتنے کے امکانات تھے۔ ان عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیمیں اچھی تھیں البتہ گزشتہ ورلڈ کپ کی ٹیم اتنی مضبوط نہیں تھی۔‘
عمران خان موجودہ ٹیم کے بارے میں زیادہ توقعات نہیں رکھتے اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی ٹیموں کے مقابلے میں یہ ٹیم زیادہ مضبوط نہیں ہے۔

وکٹ کیپر معین خان کہتے ہیں کہ 1992ء کا عالمی کپ جیت کر انہیں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ کرکٹ میں آئے تھے اس کی تکمیل ہوگئی ہو۔
’اس عالمی کپ کے بعد پاکستان نے اگرچہ ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا عالمی اعزاز بھی اپنے نام کیا لیکن پہلی جیت کی مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔‘
معین خان کہتے ہیں کہ یہ جیت جیسے کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے لیکن جب ان سے اسے بیان کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو الفاظ ساتھ چھوڑجاتے ہیں۔
معین خان کا کہنا ہے ’فائنل میں پاکستانی ٹیم کے249 رنز برا سکور نہ تھا لیکن انگلینڈ کی اننگز میں ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ میچ پاکستانی ٹیم کی گرفت سے نکل سکتا ہے۔ اس مرحلے پر وسیم اکرم نے لگاتار دو گیندوں پر ایلن لیمب اور کرس لوئس کو آؤٹ کرکے جیسے یہ یقین دلا دیا تھا کہ اب کوئی بھی دنیاوی طاقت پاکستان کو عالمی چیمپئن بننے سے نہیں روک سکے گی۔ یہ دو گیندیں جس نے بھی دیکھی ہیں زندگی بھر انہیں نہیں بھول سکتا۔‘
ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل زیادہ تر کھلاڑی پہلی بار آسٹریلیا کا دورہ کررہے تھے جہاں کی کنڈیشنز آسان نہیں۔ ایسے میں عمران خان، جاوید میانداد اور وسیم اکرم ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل تھے۔
معین خان اس جیت کا سہرا عمران خان کی کپتانی اور جاوید میانداد کی رہنمائی کو قرار دیتے ہیں۔
’ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل زیادہ تر کھلاڑی پہلی بار آسٹریلیا کا دورہ کررہے تھے جہاں کی کنڈیشنز آسان نہیں۔ ایسے میں عمران خان، جاوید میانداد اور وسیم اکرم ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل تھے۔‘
معین خان کو وہ وقت بھی اچھی طرح یاد ہے جب ابتدائی میچوں میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی اور ایک وقت ایسا بھی آگیا تھا کہ پاکستانی ٹیم عالمی مقابلے سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئی تھی۔
’ایسے میں آسٹریلیا کے خلاف میچ سے قبل ٹیم میٹنگ میں ہر کھلاڑی نے کھل کر اظہار خیال کیا اور خود عمران خان نے زبردست حوصلہ مندی دکھائی اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ ٹیم کا انداز ہی بدل گیا۔ اور اس نے اگلے چاروں میچ جیتے جس میں تاریخی فائنل بھی شامل ہے۔‘
معین خان کو اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستانی ٹیم 1992 کے بعد دوبارہ عالمی کپ نہ جیت پائی حالانکہ 1999ء میں وہ فائنل میں پہنچی تھی اور وہ بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ بانوے کی طرح انیس سو ننانوے میں بھی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کےساتھ ساتھ نوجوان کرکٹرز بھی شامل تھے لیکن بیٹنگ کی ناکامی نے فائنل کو یکطرفہ بنادیا تھا۔

وسیم اکرم ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
1992 کے عالمی کپ کے فائنل میں انہوں نے تنتیس رنز بنائے تھے اور پھر بولنگ میں ان کی لگاتار دو گیندوں پردو وکٹوں نے پاکستان کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کردی تھی۔
’عظیم عمران خان کی قیادت میں اس کامیابی پر یقیناً خوشی ہوتی ہے اور میں خود کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میں بھی اس جیت کا حصہ تھا۔‘
وسیم اکرم نے کہا کہ عمران خان نے ہر قدم پر کھلاڑیوں کو حوصلہ دیا۔ ’ٹیم نے ورلڈ کپ کے لیے بہت محنت کی تھی۔ ٹیم عالمی کپ سے تین ہفتے پہلے آسٹریلیا جاکر پریکٹس کرتی رہی تھی۔ اگرچہ آغاز اچھا نہ تھا لیکن عمران خان یہی کہتے تھے کہ ایک اچھا میچ جیتنے سے صورتحال بدل جائے گی اور آسٹریلیا کے خلاف جیت کے بعد ایسا ہی ہوا تھا۔‘
وسیم اکرم کو جب دو گیندوں پر ایلن لیمب اور کرس لوئس کو آؤٹ کرنا یاد دلایا جاتا ہے تو وہ جیسے اس کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ چوبیس سال کے نوجوان کرکٹر تھے اور ان کے لیے وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے والی بات تھی کہ عالمی کپ کے فائنل میں وہ کچھ ایسا کرجائیں کہ میچ کا نقشہ ہی بدل جائے۔
وسیم اکرم 1999 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے لیکن انہیں آسٹریلیا کے خلاف فائنل ہارنے کا افسوس ہے۔
وسیم کہتے ہیں کہ اس عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم بہترین تھی۔ شعیب اختر اس وقت تیز ترین بولر اور ان کے علاوہ ثقلین، مشتاق، عبدالرزاق۔ ’عبدالرزاق کے ہونے سے بولنگ میں ورائٹی تھی جبکہ بیٹنگ میں سعید انور، یوسف، انضمام اور اعجاز تھے۔ ہر کھلاڑی نے وقت پر پرفارمنس دی لیکن فائنل میں ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی اس شکست کا اب تک افسوس ہے۔‘

عظیم بیٹسمین جاوید میانداد 1992 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے۔
انہیں چھ ورلڈ کپ کھیلنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان کا ریکارڈ بھارت کے سچن تندولکر آنے والا ورلڈ کپ کھیل کر برابر کریں گے۔
جاوید میانداد کو اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستانی ٹیم صرف ایک بار عالمی کپ جیت سکی ہے۔ ’ماضی کی ٹیمیں اتنی اچھی تھیں کہ پاکستان کو ایک سے زیادہ مرتبہ عالمی کپ جیتنا چاہیے تھا۔‘
جاوید میانداد کہتے ہیں کہ 1992 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ کئی اتار چڑھاؤ آئے اور ایک لمحہ ایسا بھی آیا تھا کہ واپسی کا سفر دکھائی دے رہا تھا۔ ’لیکن انگلینڈ کے خلاف ملنے والا ایک پوائنٹ ہی دراصل ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ ایسے بڑے ٹورنامنٹ میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ٹیم صحیح وقت پر کلک کرجائے اور کھلاڑیوں کی فارم برقرار رہے۔‘
جاوید میانداد کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ جیسے اہم اور بڑے ٹورنامنٹ میں سینئر کھلاڑیوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود بھی کارکردگی دکھائیں اور نوجوان کرکٹرز کی رہنمائی بھی کریں۔ ’اگر وہ نوجوان کرکٹرز کی طرح ہوجائیں تو ان میں اور سینئرز میں کیا فرق رہ جائے۔ 1992 ورلڈ کپ کی ٹیم میں نوجوان کرکٹرز بھی شامل تھے جنہوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘
جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر پاکستان میں ورلڈ کپ کے سلسلے میں شائقین پرجوش ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ٹیم جیتے لیکن یہ اتنا آسان نہیں اس کے لئے ٹیم کو غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
جاوید میانداد کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کا کیریئر اتنا طویل ہوگا اور وہ اپنے کریئر میں چھ عالمی کپ کھیلنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
’جب کوئی کرکٹر یہ سوچتا ہے کہ کھیل اس کا اوڑھنا بچھونا ہے اور ذریعہ معاش ہے تو پھر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو فٹ رکھے اور کارکردگی دکھائے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر اس کا کیریئر یقینی طور پر طویل ہوگا۔‘
جاوید میانداد کو اس بات پر قطعاً حیرانی نہیں کہ سچن تندولکر ان کا چھ ورلڈ کپ کھیلنے کا ریکارڈ برابر کرنے والے ہیں۔
’سچن کے لیے یہ باعث اعزاز ہے کہ وہ عالمی ریکارڈ برابر کریں گے۔ کچھ کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں نظر آرہا ہوتا ہے کہ وہ کوئی خاص ریکارڈ یا سنگ میل قائم کرسکتے ہیں۔ اور ریکارڈ بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں۔ جہاں تک سچن تندولکر کا تعلق ہے وہ ایک ایسے کرکٹر ہیں جو نوجوان نسل کے لئے آئیڈیل ہیں۔ نوجوان کرکٹرز ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
جاوید میانداد نے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز 1975 کے عالمی کپ سے کیا تھا اور وہ اس وقت اپنی اٹھارہویں سالگرہ سے ایک دن کم کے کھلاڑی کی حیثیت سے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کےسب سے کم عمر کرکٹر تھے۔اس عالمی کپ کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان کی حییثت سے ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش تو اپنی جگہ اہم لیکن سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کہ اس دور کے تمام ہی بڑے نام جنہیں دیکھنے کی صرف حسرت ہی رہتی تھی ان کے ساتھ کھیلنے میں کامیاب رہے جن میں روہن کنہائی، ڈینس للی اور ویوین رچرڈز کے علاوہ کئی دوسرے بڑے کھلاڑی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے اس عروج کے دور میں انہیں ان بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔