آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 مارچ 2011 ,‭ 06:36 GMT 11:36 PST

بڑے ایونٹ کا بڑا میچ

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں آج بدھ کو موہالی میں کرکٹ ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں مدمقابل ہو رہی ہیں۔سیمی فائنل اس وقت کرکٹ کی دنیا کی سب سے بڑی خبر اور زبردست دلچسپی کے طور پر سب کے سامنے ہے۔

دونوں ٹیموں کا اگر جائزہ لیں تو واضح طور پر بھارت کی بیٹنگ اس کی طاقت ہے`اور پاکستان کی طاقت اس کے بالرز میں ہے۔

شائقین کرکٹ سیمی فائنل کا بڑی بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں مساجد میں خصوصی دعائیں مانگی جا رہی ہیں تو دوسری جانب بھارت میں بھی پوجا پاٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

بڑے ایونٹ کا بڑا میچ

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں آج بدھ کو موہالی میں ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں مدمقابل ہو رہی ہیں۔

فاتح ٹیم دو اپریل کو ممبئی میں ہونے والے فائنل میں سری لنکا کے سامنے ہوگی جس نے پہلے سیمی فائنل میں اعصاب پر قابو پانے کے بعد نیوزی لینڈ کو پانچ وکٹوں سے قابو کر لیا۔

پاکستان اور بھارت کا سیمی فائنل اس وقت کرکٹ کی دنیا کی سب سے بڑی خبر اور زبردست دلچسپی کے طور پر سب کے سامنے ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سیمی فائنل تک پیش قدمی کسی سر چڑھتے طوفان کے بجائے خاموش دریا کی مانند رہی ہے جس میں اسے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی لیکن کینیڈا، کینیا، زمبابوے، سری لنکا اور سب سے بڑھ کر عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دے کر اس نے اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور پچھلے دو عالمی کپ مقابلوں میں پہلے ہی راؤنڈ سے وطن واپسی کی خفت کا ازالہ کر دیا۔

عمرگل بھی چودہ وکٹوں کے ساتھ کسی طور بھی پیچھے نہیں رہے ہیں

کوارٹر فائنل میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے دس وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

اگرچہ اوپننگ بیٹنگ اس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کا ایک بڑا مسئلہ بنی رہی ہے اور مڈل آرڈر بیٹنگ بھی صرف کینیا کی کمزور بولنگ کے سامنے تیس سو کا سکور پار سکی ہے لیکن اس کے باوجود حریف ٹیموں کو اس بیٹنگ کے کسی بھی وقت چل پڑنے کا بخوبی اندازہ ہے جس میں مصباح الحق اور یونس خان کے تجربے کا ٹھہراؤ بھی موجود ہے اور عمر اکمل اور عبدالرزاق کا جوش وولولہ بھی۔

بولنگ پاکستانی ٹیم کا سب سے موثر ہتھیار رہی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں اکیس وکٹیں حاصل کرتے ہوئے حریف بیٹسمینوں کو ہر وقت سوچنے اور مشکل میں ڈالنے والے شاہد آفریدی تقریباً ہر جیت میں پیش پیش نظر آئے ہیں جبکہ عمرگل بھی چودہ وکٹوں کے ساتھ کسی طور بھی پیچھے نہیں رہے ہیں۔

شاہد آفریدی، شعیب اختر کی فٹنس اور فارم دیکھتے ہوئے انہیں کھیلانے کا رسک لینا نہیں چاہتے

عبدالرزاق، محمد حفیظ، عبدالرحمن اور سعید اجمل کو جب جب موقع ملا وہ حریف بیٹنگ میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں البتہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا شعیب اختر کو ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد میدان میں اترنے کا موقع مل سکے گا یا نہیں؟

کپتان شاہد آفریدی، شعیب اختر کی فٹنس اور فارم دیکھتے ہوئے انہیں کھلانے کا رسک لینا نہیں چاہتے۔

دوسری جانب بھارتی ٹیم بھرپور بیٹنگ اور غیرموثر بولنگ کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

گروپ میچوں میں بھارتی ٹیم نے انگلینڈ سے میچ ٹائی کیا۔جنوبی افریقہ سے اسے شکست ہوئی جبکہ اس نے بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز، ہالینڈ اور آئرلینڈ کو ہرا کر گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

اس ورلڈ کپ میں دو سنچریاں بنانے والے سچن تندولکر اور چار مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرنے والے یوراج سنگھ مرکز نگاہ ہونگے۔

یوراج سنگھ ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں بنانے کے ساتھ ساتھ لیفٹ آرم سپن بولنگ سے گیارہ وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں

یوراج سنگھ ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں بنانے کے ساتھ ساتھ لیفٹ آرم سپن بولنگ سے گیارہ وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔

بولنگ میں سترہ وکٹیں حاصل کرنے و الے ظہیر خان جتنے کامیاب رہے ہیں دوسرے بولرز اتنے ہی غیرمتاثر کن رہے ہیں اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کے لیے یہی بات پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ پانچواں میچ ہے۔ چاروں میچز ہارنے والی پاکستانی ٹیم روایتی حریف کے خلاف ورلڈ کپ میں اپنی پہلی جیت کی منتظر ہے۔

موہالی میں یہ دونوں کے درمیان تیسرا ون ڈے ہے اس میدان پر کھیلے گئے دونوں میچ پاکستان نے جیتے ہیں لیکن نیوزی لینڈ سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف اس نے چار میچز کھیلے ہیں اور کسی میں بھی کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔

موہالی کی پچ

سیمی فائنل سے ایک روز قبل بھارتی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے موہالی پچ کے بارے میں کہا کہ اگرچہ انہوں نے یہ وکٹ ابھی نہیں دیکھی ہے لیکن عام طور پر یہ پچ بلے بازوں کے حق میں رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچ کے بارے میں کوئی بات حتمی طور پر پچ دیکھنے کے بعد ہی کہی جا سکتی ہے۔

موہالی پچ کی یہ روایت رہی ہے کہ اس پچ پر جس نے پہلے بیٹنگ کی ہے اس کا پلڑا عمومًا بھاری رہا ہے۔

منگل کو موہالی کے پی سی اے سٹیڈیم کی پچ پر ہلکی سی گھاس تھی اور پچ کے کیوریٹر نے کہا ہے کہ’ پچ کے اس گرین کو برقرار رکھا جا ئے گا۔‘

موہالی میں اس موسم میں شام میں چھہ بجے کے بعد فضا میں عموماً خنکی رہتی ہے اور کھلے میدانوں میں شبنم گرتی ہے۔ منگل کی رات موہالی اور اس کے اطراف میں تیز رفتار آندھی کے ساتھ دیر تک تیز بارش ہوئی ہے۔ اس سے موہالی کے سٹیڈیم کی فیلڈ پر ایک اثر تو یہ پڑ سکتا ہے کہ فیلڈنگ میں کچھ دقت پیدا ہو۔ دوسرا یہ کہ شبنم زیادہ گرے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

شام میں چھ بجے کے بعد شبنم گرنے اور پچ پر گھاس کی موجودگی سے بال تیزی سے سوئنگ ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں پاکستان کے عمر گل، محمد حفیظ اور بھارت کے ظہیر خان جیسے بالروں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

دونوں ٹیموں کا اگر جائزہ لیں تو واضح طور پر بھارت کی بیٹنگ اس کی طاقت ہے`اور پاکستان کی طاقت اس کے بالرز میں ہے۔ لیکن اگر ان دونوں ٹیموں کا سیمی فائنل تک کا سفر دیکھیں تو دونوں ہی کئی مرحلوں پر اپنی طاقت کے شعبے میں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔

منگل کو پاکستان کی ٹیم نے پریکٹس نہیں کی اور اس نے اپنی توجہ سیمی فائنل کی اپنی حکمت عملی پر مرکوز کی ہے۔

یہ میچ دونوں کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ عالمی کپ کے سیمی فائل میں یہ ان کا پہلا مقابلہ ہے۔ دونوں ٹیمیں ایک طویل عرصے کے بعد ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔

یہ میچ دونوں کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ عالمی کپ کے سیمی فائل میں یہ ان کا پہلا مقابلہ ہے۔ دونوں ٹیمیں ایک طویل عرصے کے بعد ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔

دونوں ملکوں میں اس مقابلے سے کرکٹ کا ایسا جنون پیدا ہوا ہے کہ دونوں ٹیموں کو اس دباؤ کا شدید اندازہ ہے۔

بھارتی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کسی دباؤ میں نہ آ کر گیم کو گیم کے طور پر کھیلے گی۔

پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی نے بھی کہا ہے کہ ان کی ٹیم کسی دباؤ میں نہیں ہے اور وہ اس مقابلے کو ایک مثبت پہلو کے طور پر دیکھ رہی ہے کہ یہ دونوں ٹیموں کے لیے ایک اچھی شروعات ہے۔

جب ایک غیر ملکی صحافی نے دھونی سے پوچھا کہ اس میچ کے` بارے میں جس طرح کا جنون پیدا ہوا ہے اس کے پیش نظر کیا ان کی ٹیم ہارنے کی متحمل ہو سکتی ہے تو ان کا جواب تھا کہ ایک ٹیم کو تو ہارنا ہی ہو گا، ہار اور جیت تو ہر کھیل کا حصہ ہے۔‘

موہالی کی پچ اس تاریخی پاک بھارت میچ کا انتظار کر رہی ہے اور اس سے کہیں زیادہ دونوں ملکوں کے شائقین کرکٹ کو اس میچ کا انتطار ہے۔ کرکٹ کے جنون میں لو گ قطعی یہ بھول گئے ہیں یہ صرف سیمی فائنل ہے لیکن ان کے لیے یہی فائنل ہے۔

شائقین کرکٹ کی بے تابی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا موسم اب سرد سے گرم ہو رہا ہے، عام طور پر زینب مارکیٹ میں ان دنوں لوگ گرمی کے کپڑوں اور خاص طور پر ٹی شرٹس کی خریداری کرتے ہیں مگر آج کل خریداروں میں سے اکثر کی طلب پاکستان کے قومی پرچم کے رنگوں والی ٹی شرٹس ہیں۔ جو اب نایاب ہوتی جا رہی ہے۔

عدم دستیابی کے باعث یہ ٹی شرٹس منہ مانگے داموں فروخت ہورہی ہیں مگر خریدار اس کے باوجود اس میں دلچسپی رکھتے ہیں، عام ٹی شرٹس کے مقابلے میں ان کی قیمت دوگنی ہے یعنی چھوٹی ٹی شرٹ ساڑہ چار سو رپے اور بڑی ٹی شرٹ ایک ہزار میں فروحت کی گئی۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر میں کہیں قرآن خوانی اور اجتماعی دعا کا انتظام کیا گیا ہے تو کہیں قوالی کی محفل سجائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے میچ دیکھنے کے لیے صحافتی، سماجی اور ثقافتی مراکز کے ساتھ کئی جگہوں پر نوجوانوں نے الگ سے انتظامات کیے ہیں۔

دکانوں پر ٹی وی سیٹ، یا ریڈیو موجود ہے، اگر یہ دونوں نہیں تو موبائل ٹیلیفون کے ذریعے اس شوق کو پورا کیا جارہا ہے۔

آڈیو اور ویڈیو البم بھی مارکیٹ میں موجود ہیں، جن میں ورلڈ کپ اور پاکستان کے ملی نغمے موجود ہیں، دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مزید کیسٹوں کا آرڈر دیا ہے ۔

شہر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی وردی پہنے نوجوان موسیقی پر رقص کرتے ہوئے لوگوں کو بڑی سکرین پر میچ دیکھنے کے لیے مدعو کر تے نظر آئے۔

کراچی کے چند نوجوانوں نے کرکٹ ریولیشن ورلڈ کپ دو ہزار گیارہ کے عنوان سے ایک ویڈیو گیم بنائی ہے، جس میں پاکستان اور انڈیا کے مابین بھی میچ کھیلا جاسکتا ہے۔

پشاور میں بھی شائقین بے تابی سے پاکستان اور بھارت کے میچ کا انتظار کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق صوبائی حکومت نے قیوم سٹیڈیم میں ایک بڑی سکرین لگائی ہے جہاں توقع ہے کہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اہم شخصیات میچ دیکھنے آئیں گی۔

شہر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی وردی پہنے نوجوان موسیقی پر رقص کرتے ہوئے لوگوں کو بڑی سکرین پر میچ دیکھنے کے لیے مدعو کر تے نظر آئے ۔

لاہور میں بھی سیمی فائنل دیکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیئے گئے ہیں۔نامہ نگار عبادالحق کے مطابق لاہور کی بڑی مارکیٹوں کے ساتھ سئنیما گھروں میں بڑی اسکرین پر میچ دکھانے کے انتظامات کیئے گئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے باہر اراکین اسمبلی اور اداکاروں نے پاکستان کی ٹیم سے اظہار یکہجتی کے لیے فضا میں کبوتر اور غبارے چھوڑے۔ اس کے علاوہ جیل میں بھی قیدیوں کو میچ دکھانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پاکستان اور بھارت میں میچ کے موقعے پر نصف دن چھٹی کا اعلان کیا ہے، شہر میں کئی مقامات پر میچ بڑی اسکرینوں پر دیکھنے کے انتظامات کیئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم پچھلے دو ورلڈ کپس میں ابتدائی مراحل میں ہی خارج ہوگئی اس بار سیمی فائنل اور وہ بھی انڈیا کے ساتھ ہر گیند پر امیدیں بندھیں گی اور ٹوٹیں گی۔

ادھر اُدھر کے تماشائی

دسویں کرکٹ ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل بھارت اور پاکستان کے مابین ہندوستان کے شہر موہالی میں بدھ کو ہو رہا ہے۔ اس میچ کو لے کر دونوں ممالک میں بڑی گہما گہمی ہے۔ پاکستان میں جہاں سبز ٹی شرٹس کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے وہاں مساجد میں پاکستان کی جیت کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئی ہیں۔ بڑی تعداد میں شائقین بھارت میچ دیکھنے کے لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں بھی پوجا پاٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔