آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’صدارتی انتخاب میں ناکامی انتہائی تکلیف دہ ہے‘
ہلیری کلنٹن نے اپنی شکست پر اپنے حامیوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ الیکشن جیت نہیں سکیں جو بڑی تکلیف دہ بات ہے اور جو بڑی دیر تک رہے گی۔
ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار انتخاب میں اپنی غیر متوقع ناکامی پر خطاب کر رہی تھیں جو امریکی جمہوریت میں ایک روایت ہے۔ انھوں نے یہ خطاب نیویارک کے ایک ہوٹل میں کیا۔
اپنی ناکامی پر تقریر کرتے وقت ان کے ساتھ سٹیج پر ان کے شوہر سابق صدر بل کلنٹن اور بیٹی چیلسی کلنٹن بھی موجود تھیں۔
انھوں نے اپنی حامیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدارتی انتخاب کے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کو کھلے ذہن اور دل سے ملک اور قوم کی قیادت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی جمہوریت اقتدار کے پرامن انتقال پر قائم ہے۔
ایک انتہائی تلخ انتخابی مہم جس کے دوران ذاتی نوعیت کے الزامات کا بھی تبادلہ دیکھنے میں آیا ہلیری کلنٹن نے کہا کہ انتخابی مہم میں شرکت کرنا ان کی زندگی میں انتہائی اعزاز کی بات تھی۔
کلنٹن نے اپنے شکست کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کوششیں ان کی ذات کے لیے نہیں تھیں بلکہ اس ملک کے لیے تھیں جس سے وہ محبت کرتی ہیں۔
کلنٹن جب سٹیج پر آئیں تو کافی دیر تک ان کے حامیوں نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی تقریر کے دوران ان کی مہم چلانے والے پتھریلے چہروں کے ساتھ اگلی صفحوں میں خاموش بیٹھے تھے جب کہ ان کی حامیوں میں بہت سے لوگ اپنے آنسو پونچھتے رہے۔
ہلیری کلنٹن کے ساتھ نائب صدر کے امیدوار ٹم کین نے کہا کہ ہلیری کلنٹن نے پہلی مرتبہ خاتون صدارتی امیدوار ہونے کا اعزاز حاصل کر کے امریکی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔