آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حلب میں شدید لڑائی کی وجہ سے انخلا رک گیا
شام کے شہر حلب سے باغیوں اور شہریوں کو نکالنے کے لیے کیے معاہدے پر عملدرآمد رک گیا ہے کیوں کہ اطلاعات کے مطابق وہاں شدید گولا باری ہو رہی ہے۔
منگل کے روز جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد انخلا کے لیے بڑی تعداد میں بسیں روانہ کر دی گئی تھیں۔
تاہم بدھ کے روز پھر سے لڑائی پھوٹ پڑی۔ شامی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرقبضہ علاقے پر فضائی حملے بھی شروع ہوگئے ہیں۔
روسی اور ترک ثالثی میں ہونے والے معاہدے کی ناکامی کا سبب شامی حکومت کے مطالبات بتائے جا رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ حکومت مخالفین کے محاصرے والے قصبوں سے اپنے زخمی جنگجوؤں اور شہریوں کو نکالنا چاہتی تھی۔
اس سےقبل اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کہا تھا کہ شام کے شہر حلب کے مشرقی علاقوں میں جہاں اب بھی باغی جنگجو موجود ہیں انھیں وہاں سے نکلنے کی مہلت دینے پر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشرقی حلب پر 2012 سے باغیوں کا قبضہ تھا۔ مگر حالیہ مہینوں میں روسی مدد سے ہونے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں باغی نہایت چھوٹے علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
روس کی طرف سے باغیوں کے انخلا کے معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب اقوام متحدہ نے حلب میں شہریوں کو بے دریغ قتل کیے جانے کی اطلاع دی تھی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ 82 شہریوں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
روسی سفیر ویٹالی چرکن کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق باغی جنگجوؤں کے شہر سے انخلا کا معاہدہ ہو گیا ہے لیکن اس میں شہری شامل نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف جنگجوؤں کے شہر سے انخلا کے بارے میں ہے۔
روسی سفیر کے مطابق شہری ان علاقوں میں رہ سکتے ہیں اگر وہ وہاں سے کسی محفوظ علاقے میں جانا چاہتے ہیں جا سکتے ہیں وہ امداد کے لیے جو انتظامات کیے گئے ہیں ان کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کوئی انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔
جنگجوؤں نے معاہدے کے بارے میں خبر کی تصدیق کی تھی لیکن وہ شہریوں کو اس میں شامل کرنے پر اصرار کر رہے تھے۔
حلب شہر پر قبضے اور جنگجوؤں کو شکست دینے کی خبر کو صدر بشار الاسد کی حکومت ایک بڑی فتح کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔
حلب میں شامی فورسز کی فتح صرف صدر بشار الاسد کی حکومت کے لیے فتح نہیں ہے بلکہ یہ ان کے اتحادی ایران اور روس کے لیے بھی فتح ہے۔