'ایک ٹویٹ مرگی کے دورے کا سبب بنا'

وقت اشاعت

وینیٹی فیئر اور نیوز ویک جیسی میگزن میں لکھنے والے مصنف کرٹ آئخنوولڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انتہائي چمکدار تصاویر والے بھدے اور کینہ پرور ٹویٹ کے سبب انھیں مرگی کا دورہ پڑا ہے۔

ایک صارف نے لکھا: 'تمھیں اپنے پوسٹ کے سبب دورہ پڑنا ہی چاہیے۔' اس کے بعد سے اس کا اکاؤنٹ بند ہے۔

اس کے تھوڑی دیر بعد آئخنوولڈ کی اہلیہ نے اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا جس میں بتایا کہ ان تصاویر سے ان کے شوہر کو دورہ پڑ گيا۔

امریکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے کی شکایت پولیس میں کر دی گئي ہے۔

اس سے قبل آئخنوولڈ نے لکھا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کس طرح ان پر حملہ کیا گیا۔

انھوں ٹویٹ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ اس واقعے کے پس پشت شخص کے خلاف قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'گذشتہ رات دوسری بار ایک گھٹیا شخص نے مجھ پر حملہ کیا اور وہ کامیاب رہا۔'

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ شخص اس بات سے واقف ہے کہ انھیں مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔

انھوں نے لکھا: 'دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ میری اہلیہ خوفزدہ ہیں۔ میں تنگ آ چکا ہوں۔ آئندہ چند دنوں تک میں عدالتی دستاویزات اور پولیس دستاویزات کی کاپیاں ہی ٹویٹ کرتا رہوں گا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'ایک بار جب مقدمہ دائر ہو جاتا ہے اس کے بعد میں ٹوئٹر کو اس شخص کی شناخت ظاہر کرنے کی اپیل کروں گا جو اس حملے میں شامل ہے۔'

ایپیلیپسی ایکشن کے نائب چیف ایگزیکٹو سائمن وگلزورتھ نے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ایسا بھی کوئی شخص ہو سکتا ہے جو دوسروں کو مرگی کے دورے دلائے؟'

انھوں نے کہا کہ دورے بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں اور اس کے سبب زخم آ سکتے ہیں اور مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔

ایسٹن یونیورسٹی میں نیورولوجی کے شعبے سے منسلک پروفیسر سٹیفانو سیری کا کہنا ہے کہ روشنی کی شدت یا چمک دمک سے مرگی کا دورہ پڑ سکتا اور سب سے زیادہ حساس رینج 15 سے 25 فلیش فی سیکنڈ ہے۔