آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زوزانا کاپوتووا سلواکیا کی پہلی خاتون صدر کیسے بنیں؟
بدعنوانی کے خلاف مہم کو بنیاد بنا کر انتخابات میں حصہ لینے والی زوزانا کاپوتووا نے سلواکیا کا صدارتی الیکشن جیت کر ملک کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
اگرچہ زوزانا کاپوتووا کا سیاسی تجربہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے صدارتی الیکشن میں حکومتی پارٹی کے نامزد امیدوار اور اعلیٰ پائے کے سفارت کار ماروس سیفکووک کو انتخاب کے دوسرے مرحلے میں شکست دی۔
انھوں نے اپنی انتخابی مہم کو اچھائی اور برائی کے درمیان جدوجہد قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
گزشتہ برس ایک تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی کا قتل ہوا تھا۔
جان کیوکییک نامی صحافی سیاستدانوں اور منظم جرائم کے درمیان رابطوں پر تحقیق کر رہے تھے۔ ان کو فروری 2018 میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنی منگیتر کے ساتھ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زوزانا کاپوتووا نے صحافی کے قتل کو اپنے صدارتی الیکشن لڑنے کے فیصلے کی ایک وجہ بتایا تھا۔ سلواکیا میں صدر کا عہدہ رسمی نوعیت کا ہوتا ہے۔
تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور زوزانا کو 58 فیصد جبکہ ان کے حریف امیدوار کو 42 فیصد ووٹ ملے۔
زوزانا کاپوتووا کون ہیں؟
انھیں وکالت کے شعبے میں اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب انھوں نے ایک غیر قانونی کوڑا پھینکنے کی جگہ کا کیس لڑا۔ یہ کیس 14 سال تک جاری رہا۔
وہ طلاق یافتہ اور دو بچوں کی والدہ ہیں۔ ان کا تعلق لبرل پراگریسیو سلواکیا پارٹی سے ہے جس کی پارلیمان میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔
سلواکیا میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے تاہم زوزانا اس حوالے سے بنیادی حقوق کا پرچار کرتی ہیں۔
زوزانا کاپوتووا نے کسے شکست دی ہے؟
انھیں حکومتی جماعت کی نامزدگی حاصل تھی۔ حکومتی پارٹی کے سربراہ رابرٹ فیسو ہیں جنھیں صحافی کے قتل کے بعد وزارت عطمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
انتخاب کے پہلے مرحلے میں زوزانا نے 40 فیصد جبکہ ان کے حریف نے 19 فیصد سے بھی کم ووٹ لیے تھے۔