ٹوری پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے درمیان معاہدے کے تحت بننے والی حکومت جمعرات کو اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ملکی معیشت پر غور کرنے والی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کو نو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے اور انتخابی مہم کے دوران دونوں پارٹیوں کے سربراہوں نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بجٹ کے خسارے سے نمٹنے کے منصوبوں پر زور دیا تھا۔
کلِک
مسلم خواتین پہلی بار پارلیمان میں
کلِک
وہ جو جیت نہ سکے
کلِک
انتخابات پر خصوصی ضمیمہ
کابینہ میں اتحادی جماعت لب ڈیم کے سربراہ نائب وزیر اعظم نگ کلیگ اور ان کی پارٹی کے چار وزیر بھی شامل ہونگے۔ ایک نومنتخب وزیر نے عندیہ دیا ہے کہ ہر شعبے میں کٹوتیوں کا امکان ہے، یہاں تک کہ دو ہزار بارہ میں ہونے والے اولمپکس بھی اس مبرا نہیں ہونگے۔
اس سے پہلے بدھ کو برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی سربراہی میں قائم ہونے والی ’تاریخی‘ مخلوط حکومت متحد رہے گی اور مضبوط اور مستحکم قیادت فراہم کرے گی۔
مخلوط حکومت میں حکمران جماعت کے ساتھی لبرل ڈیموکریٹس کے رہنما نِک کلیگ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں ڈیوڈ کیمرون نے اس سیاسی اتحاد کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ دونوں رہنما برطانیہ کو ایک نئی سمت سے روشناس کرائیں گے۔
برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ دو مختلف سیاسی جماعتوں کی مشترکہ حکومت کے وجود میں آنے کے بعد ان کے درمیان طے پانے والے معاملات کی تفصیلات بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں امیگریشن پر سختی اور آئندہ برس میں پبلک سروس کے اخراجات میں نو ارب ڈالرکی کٹوتییوں کی شرائط شامل ہے۔
دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کے ایجنڈے میں خسارہ کم کرنا، افواج کی حوصلہ افزائی، سیاست کی تطہیر اور ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل شامل ہے۔
نکِ کلیگ نے یہ بات تسلیم کی کہ مخلوط حکومت میں ’بڑے خطرات‘ ہیں لیکن انھوں نے عہد کیا کہ حکومت ’دلیر‘ ہوگی اور اصلاحات لائےگی۔
حکومت بنانے والی دو بڑی جماعتوں کنزرویٹیو اور لبرل ڈیموکریٹ کے درمیان حکومت میں شامل ہونے کے لیے گزشتہ روز ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں سے کچھ نکات کنزروییٹو اور کچھ نکات لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے انتخابی وعدوں اور منشور سے شامل کئے گئے ہیں۔
اسی معاہدے کے تحت لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے کچھ ارکان کو کنزرویٹیو پارٹی کے راہنما اور وزیر اعظم ڈیوڈ کمیرون اپنی کابینہ میں شامل کرنے کے پابند ہیں۔ معاہدے کے تحت لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ نک کلیگ کو ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ دیا جائے گا۔
کلِک
ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ
- ڈپٹی پرائم منسٹر : نک کلیگ
- وزیر خزانہ : جارج اوسبرون
- وزیر دفاع : لیئم فوکس
- وزیر خارجہ : ولیم ہیگ
- وزیر داخلہ : ٹریزا مے
- بینکس اینڈ بزنس: ونس کیبل
- وزارت انصاف: کینٹ کلارک
- سکاٹش سیکریٹری : ڈینی الیکزینڈر
- سکولز : مائیکل گوو
- توانائی اور ماحولیات : کرس ہیون
- صحت : اینڈریو لینزلی
اس کے علاوہ لبرل ڈیموکریٹ کے ایک اور رکن ونس کیبل کو بینکوں اور بزنس کا قلمدان دیا جائے گا۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان ولیم ہیگ اور وزراتِ خزانہ کی ذمہ داریاں جارج اوسبورن کو دی جائیں گی۔ ڈیوڈ کیمرون نے وزیر داخلہ کا قلمدان ٹریزا مے کو سونپ دیا ہے اور وزیر دفاع لائم فوکس کو مقرر کیا ہے۔
کنزرویٹیو یا ٹوری پارٹی نے لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف پیش کردہ جن نکات کو تسلیم کر لیا ہے ان میں ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد کو بلند کرنے اور وزیراعظم کو پانچ برس مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کرنے کے اختیار کو ختم کرنے کی شرائط شامل ہیں۔
کلِک
دوسری طرف لبرل ڈیموکریٹ نے اپنے انتخابی وعدوں سے متصادم ٹوری پارٹی کی جن پالیسیوں کو تسلیم کرلیا ہے ان میں امیگریش پر پابندیاں لگانے اور پبلک سروسز کے اخراجات میں کمی کرنے کے معاملات شامل ہیں۔
اُدھر گورڈن براؤن کے مستعفی ہوجانے کے بعد لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کے لیے دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ سابق وزیر داخلہ ایلن جانسن نے کہا ہے کہ وہ اس دوڑ میں شامل نہیں ہیں اور وہ سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کی حمایت کریں گے۔
گورڈن براؤن نے گزشتہ روز وزیر اعظم کے عہدے کے ساتھ لیبر پارٹی کی سربراہی سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔
توقع ہے کہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کم از کم بیس ارکان جو کہ حالیہ انتخابات میں منتخب ہونے والے لبرل ڈیموکریٹ ارکان کی ایک تہائی تعداد ہے، مختلف سرکاری عہدوں پر کھپائے جائیں گے۔
کنزرویٹیو پارٹی کے حامیوں کو ایک پیغام میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ کچھ چیزوں پر سمجھوتہ کیا گیا ہے لیکن کنزرویٹیو پارٹی کے منشور کے اہم نکات جن میں رواں سال سرکاری اخراجات میں چھ ارب پونڈ کی کٹوتی اور ٹرائڈنٹ جوہری پروگرام کو برقرار رکھنا شامل ہیں، معاہدے کا حصہ ہیں۔
جب کہ لبرل ڈیموکریٹ کے تعلیمی شعبے اور سیاسی نظام میں اصلاحات اور منصفانہ ٹیکسوں کا نظام کی شرائط کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کچھ معاملات پر جن میں ’گرین اکانومی‘ اور شخصی آزادیوں کا دفاع شامل دونوں جماعتوں کے خیالات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔