آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 مئ 2010 ,‭ 06:53 GMT 11:53 PST

بینکاک میں مظاہروں میں سولہ ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں سرخ پوش مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری رہا جس میں اب تک سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شہر کے مرکزی حصہ سے جہاں وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے سرخ پوش مظاہرین خیمہ زن ہیں دہوئیں کے دبیز بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔

حکام نے سرخ پوش مظاہرین سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مظاہرین اور تھائی حکام دونوں پر زور دیا ہے کہ مزید تشدد سے باز رہیں۔

بان کی مون سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دونوں فریق مذاکرات کی میزپر واپس آ جائیں تاکہ موجودہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی

امریکہ نے بھی تھائی حکام اور مظاہرین کو ضبط سے کام لینے کے لیے کہا ہے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تھائی حکومت کا اصرار ہے کہ صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے اور تھائی فوج نے اپنے دفاع میں قوت کا استعمال کیا ہے۔

بینکاک کی انتظامیہ نے شہر کے مرکزی حصہ کی جہاں گزشتہ دو ماہ سے سرخ پوش مظاہرین قابض ہیں پانی اور بجلی کی سپلائی بند کر دی ہے تاکہ مظاہرین سے اس حصہ کو خالی کرایا جا سکے۔

گزشتہ منگل کو شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اب تک ڈیڑھ سو افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

شہر کا ایک تہائی حصہ پر ہنگامی حالت نافذ ہے اور کچھ حصوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ان علاقوں کے علاوہ شہر کے باقی حصوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

سرخ پوشوں کے کیمپ کے اندر موجود راہنما کاونچای پرائپانہ نے کہا ہے کہ پولیس کے محاصرے کی وجہ سے اشیاء ضروری کی چیزوں میں کمی ہو رہی ہے لیکن وہ آخری دم تک مزاحمت جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی وہ لڑتے رہیں گے۔

گزشتہ روز فوج اور پولیس نے مظاہریں پرگولیاں چلائی، آنسو گیس کا استعمال کیا اور ربڑ کی گولیوں سے بھی مشتعل مظاہرین کو نشانہ بنایا۔ مظاہرین کی طرف سے پولیس اور فوج پر پیٹرول بم پھینکے گئے اور پتھراؤ کیا گیا۔

مظاہرین کے حامی ایک سابق فوجی جنرل کو گزشتہ منگل کو کسی نامعلوم شخص نے سر میں گولی ماردی تھی جس کے بعد سے پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

جنرل کھٹیا سواشڈیپول کی جو کمانڈر ریڈ کے نام سے بھی مشہور ہیں حالت تشویش ناک ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے بچنے کی امید کم ہے۔

بینکاک میں امریکہ اور برطانیہ کے سفارت خانوں کو جمعہ کو بند کر دیا گیا تھا۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے فرانس ٹوئنٹی فور کے رپورٹر نیلسن رینڈ کو پاؤں، ہاتھ اور پیٹ میں گولیاں لگی تھیں۔ تاہم ان کے آپریشن کے بعد ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ایک اور مقامی نشریاتی ادارے کے مطابق ان کے ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین کو پاؤں میں گولیاں لگی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ فوج پر حملہ کیا گیا جس کے بعد ان کو گولی چلانی پڑی۔ فوج کا کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین نے ان پر گولیاں چلائیں اور دستی بم پھینکے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔