آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جون 2010 ,‭ 17:48 GMT 22:48 PST

کرغزستان:ہلاکتیں پچاس، فوج تعینات

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

وسط ایشیائی ریاست کرغزستان کے دوسرے بڑے شہر اوش میں پرتشدد نسلی فساد کا سلسلہ دوسرے دن میں داخل ہو گیا ہے اور جھڑپوں میں اب تک پچاس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

اوش میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور کرغز وزارتِ صحت کے حکام نے ان جھڑپوں میں ساڑھے چھ سو افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔

کرغز فوج کو متاثرہ علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے اوش سے ازبکستان کی سرحد کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

کرغز اور ازبک آبادی کے درمیان یہ جھڑپیں جمعرات کی رات شروع ہوئی تھیں اور پھر شہر کی گلیاں میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگیں۔تاحال ان فسادات کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ان جھڑپوں کے بعد حکام نے اوش اور اس سے ملحقہ قصبات میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے کرفیو لگا دیا تھا اور بکتربند گاڑیاں علاقے میں بھیج دی تھیں۔

جلائے جانے والے گھروں میں سے بیشتر ازبک آبادی میں ہیں

کرغزستان کی عبوری حکومت نے روس سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی فوجیں علاقے میں بھیجے تاکہ امن قائم ہو سکے۔ اس سے قبل چین اور روس نے ان جھڑپوں کے جلد از جلد خاتمے کی امید ظاہر کی تھی۔

کرغزستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان رخمتیلو اخمیدوو نے کہا ہے کہ ’گلیاں کی گلیاں جلا دی گئی ہیں۔ حالات بہت خراب ہیں اور اس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آ رہا‘۔

اطلاعات کے مطابق اوش میں نذرِ آتش کیے جانے والے زیادہ گھر ازبک آبادی کے ہیں۔خیال رہے کہ اوش شہر میں زیادہ تر ازبک افراد رہائش پذیر ہیں اور یہ سابق کرغز صدر قربان بیگ باقیوف کا مضبوط گڑھ ہے جنہیں رواں برس اپریل میں پرتشدد مظاہروں کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔

قربان باقیوف کی برطرفی کے بعد سے ملک میں عبوری حکومت قانون کی عملداری بحال کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہے تاہم ان حالیہ جھڑپوں کے بعد ملک میں کرغز اور ازبک باشندوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

.

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔