آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 اکتوبر 2010 ,‭ 20:40 GMT 01:40 PST

چلی، کان کن توقع سے زیادہ صحت مند، گھروں کو روانہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

چلی میں ستر روز قبل سونے کی کان میں پھنس جانے والے تینتیس کان کنوں کے جسمانی معائنے کے بعد انہیں گھروں کو بھیجا جا رہا ہے۔ کان کنوں کی بحفاظت واپسی کے بعد پورے ملک میں خوشی کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ستر روز تک زیرِ زمین پھنسے رہنے والے کان کنوں کی صحت ان کی توقع سے زیادہ اچھی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کم از کم دو کان کنوں کو جمعرات کے روز ہی گھر بھیج دیا جائے گا جبکہ کچھ کان کنوں کو دانتوں کی تکلیف ہے۔ کچھ کان کن آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوچکے ہیں اور دو پھیپڑے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

پھنسے ہوئے کان کنوں کو نکالے جانے کا عمل اندازوں سے بہت جلد مکمل ہوگیا۔ کان سے سے نکالے جانے والےآخری کان کن لوئیس ارزاؤ تھے جنہیں مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر پچپن منٹ پر (گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات بارہ بج کر پچپن منٹ پر) تالیوں کی گونج میں کیپسول سے باہر نکالا گیا۔

لوئیس اس شفٹ کے سربراہ تھے جس کے تینتیس کارکن اگست کی پانچ تاریخ کو ایک حادثے کی وجہ سے زیرِ زمین پھنس گئے تھے۔

کلِک کانکنوں کی رہائی پر جشن

کلِک اندھیرے سے روشنی کا سفر: خصوصی ضمیمہ

جیسے ہی آخری کان کن، زیرِ زمین سے سطحِ زمین تک پہنچے اور چلی کے صدر نے ان کا استقبال کیا، وہاں موجود لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے نعرے لگائے اور چلی کا قومی ترانہ گانا شروع کر دیا۔لوگوں نے فضا میں غبارے چھوڑے اور شمپین کے جام پینا شروع کر دیے۔ آخری کان کن کے بعد ان چھ امدادی کارکنوں کو زیرِ زمین سے ایک ایک کر کے نکالا گیا جنھیں بدھ کو سب سے پہلے نیچے اتارا گیا تھا کہ وہ کان کنوں کو سطحِ زمین پر بھیجنے میں مدد دے سکیں۔

گزشتہ روز شروع ہونے والے اس ریسکیو آپریشن کو جسے پوری دنیا میں براہِ راست ٹی وی کے ذریعے دکھایا گیا، انتہائی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے جس میں بائیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ایک ایسی کارروائی کی گئی جس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔جرمنی اور پینسلوینیا میں دس سال قبل ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے لیکن موجودہ واقعے کی کوئی نظیر نہیں ہے۔

چلی کے وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین سے بچائے جانے والے بہت سے کان کنوں کو دانتوں کے انفیکشن کی شدید شکایت ہے جبکہ کچھ کو آنکھوں کے مسائل در پیش ہیں۔ ایک کان کن نمونیے کا شکار ہے لیکن اس کی حالت بہت تشویشناک نہیں۔

چلی کے صدر سیبیسٹیئن پینارا کا کہنا ہے کہ کان کنوں کو بچانے کے لیے جو کارروائی کی گئی اس سے دنیا میں چلی کا امیج بدل جائے گا اور لوگ اب چلی کو فوجی اقتدار کے سابق برسوں کی بجائے ان کان کنوں کے سبب سے جانیں گے جنھیں بچانے کے لیے ایک متحدہ قومی کوشش کا آغاز کیا گیا۔

بدھ کی رات شروع ہونے والے اس ریسکیو آپریشن کی رفتار کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیان شب کے اختتام سے قبل شاید تمام کان کنوں کو نکال لیا جائے گا۔

چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو میں سین جوز کان میں پانچ اگست سے پھنسے افراد کو بچانے کی کارروائی براہِ راست دکھانے کے لیے قدِ آدم سکرین نصب کی گئی تھی۔ شہر میں بالخصوص اور چلی کے اکثر مقامات پر خوشی کی لہر دوڑ رہی ہے اور کئی جگہوں پر اب تک کے کامیاب آپریشن پر جشن منایا جا رہا ہے۔

چلی کے وزیرِ کان کنی کے اس عندیے کے بعد کہ ممکن ہے کہ زیرِ زمین پھنسے تمام کان کنوں کو اختتامِ شب تک نکال لیا جائے، لوگوں میں توقعات بڑھ گئی تھیں اور اہلِ خانہ اور عام لوگ اس انتظار میں تھے کہ کب تمام کے تمام لوگ سطحِ زمین پر پہنچیں اور کب یہ تاریخی مہم اپنے اختتام پذیر ہو۔

چلی کے صدر سیبیسٹیئن پینارا نے جو دوسرے روز بھی اس کارروائی میں لوگوں کے شریک رہے، کانکنوں کو بچانے کی اس تاریخی مہم کو ایک ایسے تجرے سے تعبیر کیا ہے کہ جہاں زندگی نے موت کو ہرا دیا ہے۔

اس خصوصی ریسکیو مشن کے لیے کئی دنوں سے جاری تیاروں کے دوران ایک خصوصی کیپسول جسے فینیکس ٹو کا نام دیا گیا، تیار کیا گیا تھا جسے زمین میں اتارا جاتا رہا اور ہر بار ایک کان کن اس میں سوار ہو کر سطح تک پہنچ جاتا۔

پہلا کان کان گزشتہ شب کے بعد مقامی وقت کے مطابق بارہ بج کر گیارہ منٹ پر شمالی چلی کے صحرا میں سین جوزف کی کان سے باہر نکالا گیا تھا۔ یہ منظر پوری دنیا میں ٹیلی وژن پر براہِ راست دکھایا گیا جس میں خود چلی کے صدر اور خاتونِ اول تک امدادی کارروائی کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے۔

دوسرے دن بھی چلی کے صدر اپنی اہلیہ اور پھنسے ہوئے کانکنوں کے اہلِ خانہ کے ہمراہ اس مقام پر موجود رہے جہاں ایک ایک کر کے کان کنوں کو زمین سے اوپر کھینچا جاتا رہا۔

باہر نکلنے والے کان کنوں کے میڈیکل چیکس کیے جا رہے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔