اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے دبئی اور برطانیہ میں پارسل بموں کی برآمدگی کے سلسلے میں گرفتار خاتون کو رہا کر دیا ہے۔
حنان السماوی نامی طالبہ کو سنیچر کے روز ان کی والدہ سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔
یونانی حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس خاتون کی شناختی دستاویزات کو چوری کر کے انہیں پارسل بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یمن میں ہونی والی تحقیقات کا رخ القاعدہ کے بم بنانے کے ماہر ابراہیم حسن الازیری کی تلاش کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
ابراہیم حسن الازیری سعودی شہری ہیں اور یمن میں سرگرمِ عمل القاعدہ دھڑے القاعدہ ان عریبیئن پینینسولا سے منسلک ہیں۔
سنیچر کے روز گرفتار ہونے والی خاتون کے وکیل عبدالرحمٰن برمن کا کہنا ہے کہ وہ طالبہ ہیں اور انہیں ان کی والدہ سمیت حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے اس خاتون کو ان کے علم کے بغیر اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔
’یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جو شخص اس طرح کی کارروائی کرے گا وہ اپنی تصویر والا شناختی کارڈ اور فون نمبر بھی وہاں چھوڑ جائے گا۔‘
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جو شخص اس طرح کی کارروائی کرے گا وہ اپنی تصویر والا شناختی کارڈ اور فون نمبر بھی وہاں چھوڑ جائے گا
عبدالرحمٰن برمن
اس سے پہلے دبئی پولیس نے کہا ہے کہ دبئی ایئرپورٹ سے برآمد ہونے والے مشتبہ پیکٹ میں ایک قابلِ استعمال بم تھا۔ انسداد دہشتگردی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر القاعدہ تنظیم کی چھاپ محسوس ہوتی ہے۔
تفتیش کاروں نےکہا ہے کہ یمن سےمال بردار جہاز پر بھیجا جانے والے پیکٹ میں ایک کمپیوٹر پرنٹر کے کارٹرج میں دھماکہ خیز مواد بھرا گیا تھا اور وہ ایک الیکٹریکل سرکٹ سے جڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ موبائل فون کی ایک سم بھی لگی ہوئی تھی۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ پارسل بم کو بھیجنے والے مشبہ دہشت گرد مال بردار طیارے میں دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔ اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیش کاروں ابھی تک یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایسٹ مڈلینڈ ائیر پورٹ سے برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو کب اڑایا جانا تھا۔
یمن میں حکام نے ان دو بڑی امریکی کارگو کمپنیوں یو پی ایس اور فیڈایکس کے دفاتر بند کر دیئے ہیں جن کے ذریعے یہ دھماکہ خیز مواد امریکہ روانہ کیا گیا تھا۔
درایں اثنا جرمنی کے وزیر داخلہ نے سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک یمن سے آنے والے مال بردار ٹریفک کو روکے گا۔ برطانیہ، امریکہ اور فرانس براہِ راست یمن سے آنے والی مال بردار پروازیں پہلے ہی معطل کر چکا ہے جہاں حکام نے سنیچر کو چھبیس اور مشتبہ پارسلوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کو انتہائی ماہرانہ انداز میں پرنٹر کارٹیج میں بھراگیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی ساخت بلکل وہی ہےجو اس سے پہلے یمن سے تیار ہوکر نکلنے والے نائجبرین باشندے عمر فاروق عبدالمطلب کے انڈرویر میں نصب بم سے برآمد ہوا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما کے انسداد دہشتگردی کے مشیر جان برینن نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس پیکٹ کی برآمدگی کے بعد دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنایا جا چکا ہے یا نہیں۔ انہوں نےکہا امریکہ اب بھی انتہائی الرٹ ہے۔
اس سے قبل جمعہ کے روز برطانیہ کے ایسٹ مِڈلینڈ ائیرپورٹ سے ایک مشتبہ پیکٹ ملا تھا جسے امریکہ بھیجا جا رہا تھا۔
برطانوی وزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا ہے کہ اس پیکٹ میں قابل استعمال بم تھا اور اگر وہ دوران پرواز پھٹ جاتا تو طیارہ تباہ ہو سکتا تھا۔
برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے یمن سے آنے والے ہر ایسے سامان کو روک دیا ہے جس کے ہمراہ اس کا مالک نہ ہو۔
برطانوی وزیر داخلہ کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دھماکے کا منصوبہ برطانوی حکومت کے ابتدائی اندازوں سے زیادہ گھناؤنا اور گھمبیر تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کے بارے میں سعودی عرب نے معلومات فراہم کی تھیں۔ برطانیہ کے روزنامہ ڈیلی ٹیلگراف نے خبر دی ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سیکس کے ایک افسر کو اس حملے کی خبر ملی تھی۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے جمعہ کی رات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ابھی تک تمام حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن اب تک ملنے والے شواہد سےیہ پتہ چلتا ہے کہ یہ مشتبہ پیکٹ یمن سے روانہ کیے گئے۔ انہوں نے کہا امریکہ جانتا ہے کہ جزیرہ نما عرب میں متحرک القاعدہ کے دہشتگرد امریکہ پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی میں لگے ہوئے ہیں۔
کارگو کمپنیوں فیڈایکس اور یوپی ایس نے یمن سے تمام مال کو اٹھانا فوری طور پر بند کر دیا ہے۔ان پیکٹوں کو امریکہ یہودیوں کی عبادت گاہ کے پتہ پر ارسال کیے تھے۔
صدر اوباما نے کہا کہ ان کی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق تحقیقات میں اپنے ملک کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یمن کے دارالحکومت صنعاء سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کہ وہاں ایک سکیورٹی کریک ڈاون شروع ہو چکا اور سکیورٹی ادارے ہر طرف گاڑیوں کی چیکنگ کرتے نظر آرہے ہیں۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔