
جرمنی کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔
جرمنی میں اراکینِ پارلیمان ختنے سے متعلق ایک قرارداد کی منظوری دینے والے ہیں۔ اِس قرارداد کو پارلیمان میں ہر جماعت کی حمایت حاصل ہے۔
اِس سے پہلے جرمنی کی ایک عدالت نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔
آج جرمنی کی پارلیمان میں جو قرارداد پیش کی جا رہی ہے اُس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ لڑکوں کی ختنہ کی اجازت سے متعلق قانون بنائے۔
جمعرات کو پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں اِس قرارداد پر رائے شماری سے پہلے جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ مجوزہ قرارداد ظاہر کرتی ہے کہ جرمنی ایک کثیرالثقافتی اور روادار ملک ہے۔
اِس سے پہلے یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیمیں اِس ایک معاملے پر متحد ہوگئی تھیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر جرمنی کے قانون سازوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ کے حق کا تحفظ کریں۔
جرمنی کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت کے اِس فیصلے پر تنقید کی تھی۔
"جمعرات کو پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں اِس قرارداد پر رائے شماری سے پہلے جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ مجوزہ قرارداد ظاہر کرتی ہے کہ جرمنی ایک کثیرالثقافتی اور روادار ملک ہے۔"
پچھلے ماہ کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ نہیں کریں سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔
یہودی اور مسلمان تنظیموں کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی اس روایت کا بھرپور دفاع کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ جرمنی کی پارلیمان اور تمام سیاسی جماعتوں سے عدالت کے اس فیصلے کو کلعدم کروانے کے لیے استدعا کریں گے۔
بی بی سی کے نامہ کے مطابق جرمنی کی حکومت واضح طور پر اِس فیصلے سے پریشان ہے خاص طور پر اس طرح کے الزامات کے بعد کہ اس ملک میں جہاں ’ہولوکاسٹ‘ یا یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اب وہاں ان کے بنیادی عقائد کو ُغیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا تھا کہ عدالت کے اِس فیصلے سے دنیا بھر میں جرمنی کا مذاق اڑے گا۔
ختنہ کے بارے میں کولون کی جس عدالت نے فیصلہ دیا اسے کے سامنے ایک چار سالہ لڑکے کا معاملہ پیش کیا گیا تھا جس کی ختنہ کے بعد طبی مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ بچوں کا جسمانی تحفظ مذہب اور والدین کے حقوق سے زیادہ اہم ہے۔
جرمنی میں ہر سال ہزاروں مسلمان اور یہودی بچوں کی ختنہ کروائی جاتی ہیں۔
.






























