آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہ سادہ ٹیسٹ جو آپ کی موت کے خطرے کی پیش گوئی کرتا ہے
- مصنف, جیسمین فاکس-سکیلی
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اگر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آپ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگے یا بس پکڑنے کے لیے دوڑنے کے بعد آپ کو سانس بحال کرنے میں دشواری ہو، تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کی جسمانی فٹنس مثالی سطح پر نہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق صرف ورزش کے دوران جسم کا ردعمل ہی اہم نہیں ہوتا، بلکہ ورزش ختم ہونے کے بعد جسم کتنی جلدی معمول پر آتا ہے، یہ بھی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
اسی مقصد کے لیے دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کا ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد ورزش کے دوران دل کی بلند رفتار اور ورزش روکنے کے تقریباً ایک منٹ بعد دل کی دھڑکن کی رفتار کے درمیان فرق ہے۔
ماہرین کے مطابق دل کی دھڑکن کے معمول پر واپس آنے کی رفتار دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا ایک اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بلند فشارِ خون اور دل کی بیماریوں کے خطرات کے بارے میں بھی اشارے دے سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹیسٹ کی اہمیت صرف دل کی صحت تک محدود نہیں۔ اس کا غیر تسلی بخش نتیجہ جسم میں چھپے دیگر مسائل کی ابتدائی نشاندہی بھی کر سکتا ہے، جبکہ بعض تحقیقات کے مطابق یہ مجموعی طور پر قبل از وقت موت کے خطرے کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سنہ 1999 میں امریکی ریاست اوہائیو کے کلیولینڈ کلینک کے سائنس دانوں نے تقریباً 2400 بالغ افراد پر ایک تحقیق کی۔ چھ برس تک جاری رہنے والے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کے دل کی دھڑکن ورزش کے بعد معمول پر آنے میں زیادہ وقت لیتی تھی، ان میں موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تھا۔
بعد ازاں دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی متعدد تحقیقات نے بھی ملتے جلتے نتائج پیش کیے۔ ماہرین کے مطابق دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار مجموعی صحت اور زندگی کے خطرات کا ایک مضبوط اشاریہ تصور کی جاتی ہے، خواہ بظاہر دل کی کوئی بیماری موجود نہ بھی ہو۔ بعض مطالعات میں نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں اس کا تعلق موت کے خطرے سے بلند فشارِ خون کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پایا گیا۔
گھر میں موجود عام اشیا کی مدد سے بھی دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کا اندازہ لگانے کا ایک آسان طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی شرح معلوم کریں
کوئی نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ اگر ورزش کے دوران چکر آئیں، سینے میں درد یا دباؤ محسوس ہو، یا معمول سے زیادہ سانس پھولنے لگے تو فوراً ورزش روک دیں۔ دل کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے یہ ٹیسٹ طبی نگرانی کے بغیر مناسب نہیں۔
اس ٹیسٹ کے لیے آپ کے پاس وقت نوٹ کرنے کا کوئی ذریعہ اور ایک ٹائمر ہونا چاہیے، جو عموماً موبائل فون میں موجود ہوتا ہے۔ اگر آپ سمارٹ واچ یا جسمانی سرگرمی ریکارڈ کرنے والا کوئی آلہ استعمال کرتے ہیں تو وہ بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سب سے پہلے اپنی دل کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ دھڑکن کا اندازہ لگائیں۔ بعض سمارٹ واچز یہ معلومات خود فراہم کر دیتی ہیں، تاہم اگر ایسا آلہ موجود نہ ہو تو عموماً 220 میں سے اپنی عمر منفی کر کے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے۔
اس کے بعد ایسی ورزش کریں جس سے دل کی دھڑکن اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار کے 70 سے 85 فیصد تک پہنچ جائے۔ آپ کی جسمانی استعداد کے مطابق اس میں دوڑنا، سائیکل چلانا یا روئنگ مشین پر ورزش شامل ہو سکتی ہے۔
دل کی دھڑکن کے بحالی کے اشاریے کا حساب لگانے کے لیے ورزش ختم ہوتے ہی اپنی نبض چیک کریں، جب دل کی رفتار اب بھی بلند سطح پر ہو۔ یہ کام سمارٹ واچ یا فٹنس ٹریکر کی مدد سے آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ سہولت موجود نہ ہو تو گردن پر انگلی رکھ کر 10 سیکنڈ تک دھڑکنیں گنیں اور حاصل شدہ تعداد کو چھ سے ضرب دے کر فی منٹ دھڑکنوں کا اندازہ لگائیں۔
اس کے بعد بیٹھ کر یا لیٹ کر ایک منٹ آرام کریں اور دوبارہ نبض چیک کریں۔ پھر ایک منٹ بعد حاصل ہونے والی تعداد کو پہلی تعداد سے منفی کر دیں۔ یہی آپ کی دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کا اشاریہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ورزش ختم ہونے کے بعد دل کی دھڑکن جتنی تیزی سے معمول پر واپس آئے، اتنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر اگر پہلے ایک منٹ میں دل کی دھڑکن کم از کم 18 دھڑکن کم ہو جائے تو اسے اچھا نتیجہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ تعداد عمر اور دیگر عوامل کے باعث افراد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کمی 12 دھڑکنوں سے کم ہو تو مستقبل میں صحت کے بعض مسائل کے خطرے کی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔
ایک ابتدائی انتباہ
دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق کی ایک ممکنہ وجہ ویگس اعصاب کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ اہم اعصاب دماغ کو جسم کے مختلف حصوں سے جوڑتا ہے اور دل، جگر، آنتوں اور دیگر اعضا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ اعصاب اس بات کو بھی منظم کرتا ہے کہ جسم دباؤ اور خطرے کی صورتحال میں ہے یا پرسکون حالت میں۔ ماہرین کے مطابق ہمارے دل کی رفتار پر دو نظام اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک نظام گاڑی کے ایکسیلیریٹر کی طرح کام کرتا ہے جبکہ دوسرا بریک کا کردار ادا کرتا ہے۔
ورزش کے دوران ایکسیلیریٹر کی طرح کام کرنے والا نظام متحرک ہو جاتا ہے اور جسم کو ’لڑو یا بھاگو‘ کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔ اس دوران دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں تاکہ پٹھوں کو زیادہ آکسیجن مل سکے۔
ورزش ختم ہونے کے بعد جسم کو پٹھوں میں جمع ہونے والے فاضل مادوں، جیسے لیکٹک ایسڈ، کو صاف کرنا ہوتا ہے۔ اس عمل کے لیے بھی آکسیجن درکار ہوتی ہے، اسی لیے کچھ وقت تک دل کی دھڑکن اور خون کی روانی نسبتاً زیادہ رہتی ہے۔
جب یہ مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے تو جسم کا دوسرا نظام، جو بریک کی طرح کام کرتا ہے، سرگرم ہو جاتا ہے اور جسم دوبارہ آرام اور معمول کی حالت میں واپس آنے لگتا ہے۔ دل کی دھڑکن کم ہو جاتی ہے اور جسم سکون کی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جوں جوں کسی شخص کی جسمانی فٹنس بہتر ہوتی جاتی ہے، اس کا جسم ان دونوں نظاموں کے درمیان زیادہ مؤثر انداز میں تبدیلی لانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسے ’بلند ویگل ٹون‘ کہا جاتا ہے، جو اچھی صحت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق بلند ویگل ٹون بہتر ذہنی صحت، بہتر یادداشت اور ذہنی کارکردگی، مضبوط مدافعتی نظام، کم سوزش اور مجموعی طور پر طویل اور صحت مند زندگی سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل کی دھڑکن کے جلد معمول پر آنے کو بہتر صحت اور کم خطرات کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
بہتری کی گنجائش
اگر آپ اپنی دل کی دھڑکن کے معمول پر واپس آنے کی رفتار کے بارے میں فکر مند ہیں تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ڈاکٹر سے رجوع کر کے دل اور خون کی شریانوں سے متعلق مجموعی خطرات کا جائزہ لیا جائے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اگر اس حوالے سے کوئی مسئلہ سامنے آئے تو ضروری نہیں کہ وہ مستقل ہو۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ ورزش کے پروگراموں کی مدد سے دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار بہتر بنائی جا سکتی ہے، اور اس طرح صحت کے بعض خطرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دل اور دورانِ خون کے نظام کو صحت مند رکھنے کے لیے باقاعدگی سے ایسی ورزش کرنا مفید ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو۔ اس میں تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا، جاگنگ، دوڑنا، تیراکی اور رقص جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دل کی دھڑکن کے معمول پر واپس آنے کی رفتار بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ایسی جسمانی سرگرمیاں اپنائیں جو آپ کے دل اور پھیپھڑوں کو متحرک رکھیں اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
اور جب آپ کی دل کی دھڑکن ورزش کے بعد زیادہ تیزی سے معمول پر آنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کی جسمانی فٹنس اور قلبی صحت بہتر ہو رہی ہے۔
نوٹ: اس مضمون میں شامل معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ انہیں کسی ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر کے مشورے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ صحت سے متعلق کسی بھی تشویش یا نئی ورزش شروع کرنے سے قبل طبی مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے۔