آواز ہی آئینہ ہو تو تصویر کیسے سمجھ میں آئے؟

،تصویر کا ذریعہKAABIL
- مصنف, دیویہ آریہ
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
- وقت اشاعت
ہیرو اور ہیروئین کے ہاتھ میں چھڑی ہے کیا؟ رتیک روشن باڈی بلڈر جیسا لگ رہا ہے کیا؟ ان کی شادی پر کتنے لوگ دکھائی دے رہے ہیں؟ ان کا گھر کیسا ہے؟ وہ ایک ساتھ رقص کر رہے ہیں یا الگ الگ؟
جب صرف آواز ہی کسی کا آئینہ ہو تو پردے پر چلنے والی پوری تصویر کس طرح سمجھ میں آئے؟
سوچیے ایسے لوگ جو کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے، کیا وہ سنیما ہال میں فلم دیکھتے ہوں گے؟ یا کبھی آپ نے کسی 'بلائنڈ' یعنی نا بینا شخص کے ساتھ فلم دیکھی ہے؟
پہلے تو میں نے بھی نہیں سوچا تھا لیکن 'بلائنڈ' جوڑے کی محبت کی کہانی پر مبنی فلم 'قابل' کے ریلیز ہونے پر یہ سوالات ذہن میں آئے تو جے این یو میں زیرِ تعلیم ایک 'بلائنڈ' طالبہ شویتا منڈل کے ساتھ میں نے فلم 'قابل' دیکھی۔

شاید زیادہ صحیح کہنا یہ ہوگا کہ فلم میں نے دیکھی اور شویتا نے سنی۔ میں شویتا کو فلم کے کئی مناظر سناتی جا رہی تھی۔
لیکن ذہن میں سوال یہ اٹھ رہے تھے کہ شویتا کیا جاننا چاہتی ہوگی؟ کہیں میں بہت زیادہ تو نہیں بول رہی ہوں؟ کیا وہ ڈائیلاگ سن پا رہی ہے؟
رتیک روشن اور يامی گوتم جب ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، اور موسیقی کے علاوہ کوئی اور آہٹ نہیں ہوتی تو اسے کتنی باريکی سے سمجھاؤں؟

،تصویر کا ذریعہKAABIL
میں نے پہلے توجہ نہیں دی تھی کہ فلموں میں محبت کا کس قدر اظہار اشاروں یا احساس سے کیا جاتا ہے، الفاظ سے نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فلم میں ہیرو ہیروئین نابینا ہیں تو مجھے لگا باتیں بہت ہوں گی لیکن اس میں بھی کتنا کچھ تھا جو چھونے یا ایک دوسرے کی نزدیکی اور احساس سے منسلک تھا۔
فلم دیکھ کر شویتا نے اسے پانچ میں سے ڈھائی سٹارز دیے۔
فلم میں بلائنڈ' لوگ اپنی باقی 'سینسز' یعنی حواس کا استعمال کیسے کرتے ہیں یہ بخوبی دکھایا گيا ہے۔
وہ عام زندگی میں کس طرح قابل ہوتے ہیں، جیسے کوئی چیز نیچے پھینک کر آواز سے اس جگہ کی اونچائی کا اندازہ لگانا، دو چیزوں میں فاصلے کو قدموں سے ناپنا وغیرہ۔

،تصویر کا ذریعہKAABIL
لیکن کئی معنوں میں یہ بالی وڈ کی ایک عام مسالا فلم جیسی ہی تھی۔ ہیروئن ایک مصیبت زدہ خاتون یا کمزور لڑکی تھی اور ہیرو اس کا محافظ تھا۔
معاشرے کے معذور لوگوں کی طرف بےرخی شویتا کی اپنی زندگی کے تجربے سے میل نہیں کھاتا۔
ویسے تو پوری فلم اسی ادھیڑ بن میں نکلی کہ 'بلائنڈ' ہیرو ہیروئین کی عکس بندی کتنا صحیح ہے۔ یہ اندازہ میں بھی کر رہی تھی اور شویتا بھی۔
باہر نکلے تو شویتا نے کہا کہ وہ 99 فیصد فلم سمجھ پائی۔ کچھ کہانی وہ انٹرنیٹ پر پڑھ کر آئی تھیں، کچھ میرے ذریعے بتائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہKAABIL
اور میں؟ کچھ نامکمل سا محسوس کر رہی تھی۔ اتنی باریکی سے اس سے پہلے میں نے کوئی فلم نہیں دیکھی تھی۔
شاید اتنی احتیاط سے اور اتنا سمجھ کر دیکھنے کی وجہ سے ہی لگا کہ یہ فلم کسی 'بلائنڈ' شخص کی سمجھ سے نہیں بلکہ آنکھوں میں روشنی رکھنے والے کی طرف سے ہی بنائی گئی ہے۔
میرا تجربہ آج لمحے بھر کا ہی صحیح، لیکن صاف تھا کہ 'بلائنڈ' لوگوں کی کہانی اتنی آرام دہ نہیں ہے۔ ان کی زندگی کو پردے پر اتارنے کے لیے انھیں کی نظر اور نظریے کی ضرورت ہوگی۔




















