میوزک انڈسٹری کی زبوں حالی

- مصنف, سیف اللہ
- عہدہ, لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں جب فلمسازی کا کام کم ہوا تو اس سے میوزک انڈسٹری سے وابستہ لوگ خصوصا پلے بیک سنگر بہت متاثر ہوئے۔ چنانچہ یہ گلوکار، ریڈیو، ٹی وی اور تقریبات میں پرفارم کرنے کے علاوہ اپنے آڈیو البم ریلیز کرنے میں مصروف ہوگئے۔
مگر کچھ عرصے سے پاکستان کے معاشی سیاسی اور امن وامان کے حوالے سے حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ میوزک انڈسٹری کا وجود کہیں نظر نہیں آرہا اور جو گلوکار اور میوزیشنز ریڈیو ٹی وی اور تقریبات میں پرفارم کر کے روزی روٹی کا سلسلہ چلا رہے تھے وہ بھی تقریبا ختم ہوگیا۔ ایک طویل عرصے سے ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں شوز کراتی تھیں مگر سکیورٹی رسک کی وجہ سےانہوں نے بھی یہ سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ موسم بہار میں پہلے بسنت اور پھر جشن بہاراں کے نام سے برس ہا برس سے تقریبات منعقد ہورہی تھیں جس سے گلوکاروں اور میوزیشنز کا کافی کام نکلتا تھا مگر گزشتہ سال جیسے ہی موسم بہار آیا تو لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت خودکش بم دھماکے سے اڑادی گئی۔ اسی طرح ملک کے دیگر حصوں میں بھی بم دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث نہ تو جشنِ بہاراں ہوا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تقریب منعقد ہوسکی۔ ان خراب حالات کی وجہ سے گزشتہ برس میوزک البم بھی انتہائی کم تعداد میں ریلیز ہوئے۔ پورے سال کے دوران ملک بھر میں صرف چھ گلوکاروں شبنم مجید، ملکو، شہزاد رائے، احمد جہانزیب، شفقت امانت علی خاں اور ہارون کے البم ریلیز ہوئے۔ مگر ان میں سے کسی گلوکار کے البم یا گانے کو ملک گیر شہرت حاصل نہ ہوسکی۔
ان چھ گلوکاروں کے علاوہ ابرارالحق، حمیرا ارشد، شاہدہ منی، جواد احمد، علی ظفر، سائرہ ارشد، زین، عاطف اسلم، انور رفیع اور حمیرا چنا سمیت متعدد گلوکاروں کے البم تیار تھے مگر انہوں نے نامناسب ملکی حالات کے پیش نظر ریلیز نہیں کیے۔
اس برس بھی ابھی تک بسنت یا جشن بہاراں نہیں ہوسکا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تقریب منعقد ہوسکی ہے اور اس کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آرہا۔ البتہ ملک میں ہونے والے بم دھماکوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی ضرور آگئی ہے جس سے بچی کھچی میوزک انڈسٹری بھی دم توڑ رہی ہے۔ نئے سال کا تیسرا مہینہ گزر رہا ہے مگر ابھی تک صرف دو گلو کاراؤں حمیرا چنا اور انیقہ علی نے اپنے البم ریلیز کیے ہیں۔ دونوں گلوکاراؤ ں کے البمز کو بالکل پذیرائی نہیں ملی۔
پاکستان کی اس دم توڑتی ہوئی میوزک انڈسٹری کے حوالے سے گلوکار ابرارالحق نے کہا ہے کہ جس وقت ملک میں ہرطرف بارود کی بدبو آرہی ہواور فضا خون سے آلودہ ہو ان حالات میں بلو اور بھنگڑے جیسے گانے نہ لکھے جا سکتے ہیں نہ گائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی سنے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے زیادہ تر گانے ہیپی موڈ میں ہی سنے جاسکتے ہیں۔
گلوکارہ حمیرا ارشد نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ برے حالات موسیقی اور موسیقی سے وابستہ لوگوں کے ہیں۔ ہم سفید پوشوں سے تو غریب اچھے ہیں جو کسی کے آگے فریاد تو کرسکتے ہیں۔ لوگ ہمیں امیر سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ شوز نہیں ہورہے اور نہ ہی البم ریلیز ہورہے ہیں تو پیسے کہاں سے آئیں گے۔ میں نے اپنے اداکار شوہراحمد بٹ کے ساتھ مل کرگھر کے اخراجات چلانے کے لیے لاہور میں ایک کیفے بنایا مگر اس پر ایک قبضہ گروپ قابض ہوگیا ہے۔ اب میں اور احمد بٹ سوچ رہے ہیں کہ کہیں نوکری کرلیں۔ اس ملک میں فنکاروں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی صرف میوزک انڈسٹری کے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے حالات خراب ہیں۔ بجلی نہیں ہے، پانی نہیں ہے، سوئی گیس نہیں، پٹرول، آٹا، چینی نہیں ہے۔ 'جب لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہورہی ہیں تو تفریح کا کیسے سوچیں گے اور ہماری البم اور کیسٹ کیسے خرید پائیں گے؟‘
'میں نے پانچ سال پہلے اپنا تیسرا البم ریلیز کیاتھا پچھلے سال چوتھا البم مکمل تو ہوگیا لیکن غیر مناسب ملکی حالات کی وجہ سے ریلیز نہیں کرسکی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گلوکارہ شبنم مجید نے کہا ہے کہ میوزک انڈسٹری دراصل انٹرٹینمنٹ ہے جس ملک میں لوگ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کررہے ہوں وہاں عام لوگوں کوتفریح کا سوچنا بھی گناہ لگتا ہوگا۔ میں نے پچھلے برس اپنا البم ریلیز کیا مگر کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔
گلوکار جواد احمد نے کہا ہے کہ آج کل ملک کے جوحالات ہیں وہ البم نکالنے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ بے روزگاری ہے اور سیاسی طور پر ایک ابتری نظر آرہی ہے ہر طرف بم دھماکے ہورہے ہیں ایک افراتفری ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں البم نکالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
'پچھلے دو برس میں جتنے بھی البم مارکیٹ میں آئے انہیں کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔ٹی وی پر تھوڑا بہت میوزک چل رہا ہے لیکن گھروں تک نہیں پہنچ رہا یا تو وہ خرید نہیں سکتے یا پھر اس خوشی سے محروم ہیں جس میں میوزک سنا جائے۔آج کل زیادہ تر نیوزچینلز ہی دیکھے جارہے ہیں جو پاکستان میں بدلتے ہوئے حالات کے حوالے سے سنسنی خیز خبریں تبصرے اور مذاکرے نشر کررہے ہیں لیکن میں مایوس نہیں ہوں ملک کے حالات جلد اچھے ہوں گے اور میوزک البم نہ صرف ریلیز ہونگے بلکہ مقبول و کامیاب بھی ہونگے۔‘



















