’ہدایتکاری کے ساتھ اداکاری کرنا مشکل ہے‘

نندیتا داس
،تصویر کا کیپشن’میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس بہت کام ہے اور سوچنےکا وقت بہت کم ہے‘
    • مصنف, سنجیو سری واستو
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دلی
  • وقت اشاعت

بی بی سی ہندی کے خاص پروگرام ایک ملاقات میں ہم بھارت کی مشہور ہستیوں کی زندگی کے خاص پہلوؤں سے آپ کو متعارف کرواتے ہیں۔ اس مرتبہ ہم آپ کی ملاقات فلم ’فائر‘ سے مشہور ہونے والی اداکارہ اور اب ہدایتکاری کے میدان میں قدم رکھنے والی نندیتا داس کے ساتھ کروارہے ہیں۔

سنجیو: آپ کی تعریف میں لوگ طرح طرح کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ آپ کو مکمل کلاکار مانا جاتا ہے یعنی اس خاص درجے میں؟ نندیتا: یہ تو لوگوں پر دارومدار ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بڑی آرٹی ٹائپ ہے، دلی میں رہتی ہے، کمرشل سنیما نہیں کرتی، اپنے آپ کو بہت سمجھتی ہے۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں لیکن سب کو اپنی اپنی رائے رکھنے کا پورا حق ہے۔

س: تو خود کے بارے میں یہ رائے کیسی لگتی ہے؟ ج: پہلی بات تو یہ ہے کہ میں خوش قسمت ہوں۔ میرے پاس بہت کام ہے اور اپنے بارے میں سوچنے کا بہت کم وقت ملتا ہے۔ شروع شروع میں جب زیادہ کام نہیں تھا، تب ضرور غصہ آتا تھا کہ یہ لوگ تو مجھے جانتے بھی نہیں اور میرے بارے میں رائے دے دیتے ہیں۔ اب مجھے فلم انڈسٹری میں 12-10 سال ہو گئے ہیں، اس لیے میں اب لوگوں کی رائے پر غصہ نہیں کرتی۔

س: آپ ہمیشہ سے ہی اداکارہ بننا چاہتی تھیں کیا؟ ج: بلکل نہیں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اداکارہ بنوں گی۔ نہ کوئی خواہش تھی اور نہ ہی کبھی خواب تھا۔ میں نے بھوپال سے گریجویشن کی۔ مجھے یہ موضوع اچھا لگا۔ بی اے کرنے کے بعد لگا کہ بھوپال میں کوئی دلچسپ نہیں ہے۔ اس وقت یہ بھی لگتا تھا کہ پڑھائی سے کیا فائدہ ہے۔ ایمانداری سے کہوں تو میں آگے نہیں پڑھنا چاہتی تھی، لیکن میرے والدین کا کہنا تھا کہ میں اچھی سٹوڈنٹ ہوں اور مجھے ایم اے کرنا چاہیئے۔ میں نے اپنے والدین کا کہنا تو مان لیا لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس موضوع میں ایم اے کروں۔ میں نے رشی ویلی سکول میں چار مہینے تک پڑھایا اور پھر مجھے لگا کہ مجھے ایسا کچھ کرنا چاہیئے کہ پڑھائی کم ہوجائے اور لوگوں کے درمیان رہ کر زیادہ کام ہو۔ میں نے ایم اے سوشل ورک میں کیا۔ میں این جی او میں کام کر رہی تھی اور اتفاق سے فلم مل گئی۔

س: آپ تھیٹر بھی کرتی تھیں؟ ج: تھیٹر تھوڑا بہت کرتی تھی، سٹریٹ تھیٹر کرتی تھی۔سکول کے بعد میں نے صفدر ہاشمی کے گروپ جنائٹے منج میں چار پانچ سال تک کام کیا تھا۔ اس میں ناٹکوں سے میں نے کافی کچھ سیکھا اور اس کا اثر میرے سماجی کاموں اور ذاتی زندگی پر بھی پڑا ہے۔

س: تھیٹر سے فلموں میں کیسے آئیں؟ ج: میں این جی او میں عورتوں کے موضوع پر بہت کام کرتی تھی، میں نے ایک چھوٹی سی فلم ’ایک تھی گونجا‘ کی تھی۔ یہ فلم ایک دیہاتی عورت کی سچی کہانی پر مبنی تھی۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح سے وہ عورتوں کی تعلیم کے لیے لڑتی تھی۔ اور معاشرے کی سخت مخالفت پر وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس فلم کے بارے میں کسی نے لکھا، کسی نے دیپا مہتا سے اس کا ذکر کیا۔ ’فائر‘ میری پہلی فلم تھی جو ریلیز ہوئی اور لوگوں نے میرے بارے میں جانا۔ تو مجھے کہیں نہ کہیں یہ لگتا تھا کہ اداکاری بھی اپنی بات کہنے کا ایک ذریعہ ہے۔

س: ابھی آپ نے ’فائر‘ کی بات کی۔ اس فلم نے آپ کو کیسے بدلا؟ ج: ہر چیز کا آپ کی زندگی پر جانے انجانے اثر تو پڑتا ہی ہے۔ دیپا مہتا کے ساتھ میں نے ’واٹر‘ بھی شروع کی تھی لیکن پھر یہ متنازع ہوگئی اور بن نہیں پائی۔ لیکن جب بعد میں یہ شروع ہوئی تو میں اس میں کام نہیں کر پائی۔ تو فلموں کا اثر تو پڑا اور خاص کر ’فائر‘ کا۔دس بارہ سال پہلے ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرستی پر بات کرنے سے ڈر لگتا تھا۔ ان بارہ سالوں میں اس موضوع کے بارے میں مجھے زیادہ سمجھ آئی ہے۔ ان فلموں کی تھیم اس وقت ہی نہیں بلکہ آج کے حساب سے بھی کافی بولڈ تھی۔

س: تو بولڈ تھیم چنتے ہوئے کوئی جھجک تھی؟ ج: مجھ سے اکثر لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے پہلی فلم اتنی بولڈ کیوں لی، لیکن حقیقت یہ تھی کہ جب آپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ آپ کی دوسری فلم ہوگی بھی یا نہیں تو آپ اسے پہلی فلم کے حساب سے نہیں دیکھتے۔ جب میں نے ’فائر‘ کی سکرپٹ پڑھی تو بڑی دلچسپ لگی۔ میرا خاندان کافی لبرل ہے پھر بھی ہمارے خاندان میں ہم جنس پرستی پر کبھی بات نہیں ہوئی۔ یہ پتہ تھا کہ سب کو اپنے طریقے سے جینے کا حق ہے۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ کچھ مشکلیں آئیں گی لیکن جو مخالفت ہوئی اس کا اندازہ نہیں تھا۔

س: مخالفت تو زبردست ہوئی؟ ج: آپ کو یاد ہو تو فلم ریلیز ہونے کے 13 دن تک کچھ نہیں ہوا لیکن پھر کچھ لوگوں نے ہلا مچانا شروع کر دیا ان میں سے کچھ لوگوں نے فلم دیکھی بھی نہیں تھی۔ کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ فلم بھارتی تہذیب کے خلاف ہے۔ پھر ملک کے مختلف حصوں میں کچھ لوگوں نے فلم کی حمایت کی اور کہا کہ احتجاج کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے اور اظہار کی آزادی پر حملہ ہے۔ تو اس فلم کے دوسرے موضوع ارینج میریج، عورتوں کے پاس مرضی کی کمی وغیرہ پر بھی بحث شروع ہو گئی۔

س: اس دوران کا کوئی ایسا واقعہ جو آپ کی یادوں میں ہو؟ ج: ’فائر‘ کے بعد کئی واقعے ہوئے، مجھ پر اس موضوع پر بات کرنے کا دباؤ بنایا گیا، جسکے بارے میں میں خود زیادہ نہیں جانتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے بال کٹوانے گئی تھی تو ایک لڑکی نے مجھے کہا کہ میڈم میں اس طرح کی ہوں، میرے ماں باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے حالانکہ میں انہیں ہر مہینے پیسے بھیجتی ہوں لیکن انہوں نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ اپنے ماں باپ کی برائی نہیں کر رہی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ’فائر‘ سے میری سمجھ کافی بڑھی ہے ۔ ان مسئلوں کو ہم اپنی زندگی کا حصہ نہیں مانتے۔ ایڈز، چائلڈ لیبر جیسے مسئلے ہیں جنہیں ہم خود سے جڑا ہوا نہیں مانتے۔

س: آپ کا چہرا خوبصورت ہے اور بھارتی ہے۔ یہ بہت کچھ کہتا ہے، تو آپ کی شخصیت میں اس کا کتنا حصہ ہے؟ ج: میرا تو ماننا ہے کہ میرا چہرا عام بھارتی سا ہے۔ مجھے کئی بار لوگ ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری بہن کی شکل آپ سے ملتی ہے۔ میں جب ایسی فلمیں کرتی ہوں جس میں مجھے نچلے درجے یا دلت عورت کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے تو سانولے رنگ سے فرق نہیں پڑتا۔ جب ایک فلم میں اعلیٰ درجے کی عورت کا کردار ادا کر رہی تھی تو ڈائریکٹر میرے پاس آئے اور وائیٹننگ کریم لگانے کو کہا۔ بھارت میں دیکھیئے کتنے اقسام ہیں، کشمیر بھی ہے، کیرالا بھی ہے اور گجرات بھی ہے۔ آپ کس کی نمائندگی زیادہ مانیں گے۔ اب میں بھی ڈائریکٹر بن گئی ہوں اس لیے جانتی ہوں کہ کردار کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ کچھ کرداروں میں آپ فٹ ہوتے ہیں تو کچھ میں نہیں۔

نندیتا داس پاکستان کے دورے پر
،تصویر کا کیپشننندیتا داس پاکستان میں بھی اتنی ہی مقبول ہیں جتنی انڈیا

س: جب آپ شروع شروع میں آئیں تھیں تو لوگ کہتے تھے کہ یہ لڑکی سمیتا پاٹل کی یاد دلاتی ہے؟ ج: شاید اس لیے کہ وہ بھی سانولی تھی اور میں بھی۔ انہوں نے بھی کچھ آرٹ فلمیں کی تھیں اور میں نے بھی کیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ لوگ بہت جلدی موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ اگر آپ سماجی کام کر رہی ہیں تو شبانہ اعظمی کے راستے پر چل رہی ہیں۔ اگر آپ سانولی ہیں، آرٹ فلمیں کر رہی ہیں تو سمیتا پاٹل کی راہ پر چل رہی ہیں۔

س: آپ نے سمیتا پاٹل کی فلمیں دیکھیں ہیں؟ ج: میں نے سمیتا پاٹل کی کئی فلمیں دیکھیں ہیں۔ میں ان کی بہت بڑی مداح ہوں۔ انہوں نے بہت شاندار کام کیا ہے۔ میرا تو کہنا ہے کہ آجکل ویسی فلمیں بنتی ہی نہیں ہیں۔ بھومیکا، منتھن، ارتھ، مرچ مسالا، چکر، صبح کئی فلمیں کی ہیں اس لیے ایسا کہنا غلط ہے کہ ان دو کلاکاروں کا سفر ایک سا ہے۔

س: بی بی سی ایک ملاقات میں نندیتاداس کے پسند کے گانے؟ ج: دیو آنند کی فلم کا گانا ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر، تنوجا اور سنجیو کمار پر فلمایا گانا مجھے جاں نہ کہو میری جان۔ چین سے کبھی ہم کو آپ نے جینے نہ دیا، یہی وہ جگہ ہے یہی وہ فضا ہے۔ بھیگی بھیگی خشبو تیری ہے اور ارتھ کا گانا ریتو آ گئی رے، مجھے بہت پسند ہیں۔ اس کے علاوہ پھولوں کے رنگ سے اور گرودت کی فلم کا گانا ہم آپ کی آنکھوں میں اس دل کو بسا لیں تو، کافی پسند ہیں۔

س: تو ڈائریکٹر بننے کی کیسی سوجھی؟ ج: کہیں نہ کہیں اداکاری کرتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر کہانی میں اپنے طریقے سے کہوں تو زیادہ مزہ آے گا۔ کئی سال سے سوچ رہی تھی کہ اپنا کام کروں گی۔ میں ایک سکرپٹ لکھ بھی رہی تھی لیکن پتا نہیں کہاں چھوٹ گئی۔ لیکن ’فراق‘ کا جنم الگ طریقے سے ہوا۔ اس میں میرے انسانی کاموں کا بہت حصہ ہے۔ تو ’فراق‘گجرات فسادات کے پس منظر کے ایک مہینے کے بعد کی کہانی ہے۔

س: آپ اس میں اداکاری بھی کر رہی ہیں کیا؟ ج: نہیں، میں اس میں اداکاری نہیں کر رہی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈائریکشن خود بڑا کام ہے۔ تو ہدایتکاری کے ساتھ اداکاری مشکل ہوتی ہے۔ فلم میں بہت اچھے اداکار ہیں۔ نصیرالدین شاہ، رگھو ویر یادو، دیپتی نول، پاریش راول، سنجے سوری، نواز جیسے اداکار ہیں۔ ایک سات سال کا بچہ بھی ہے جو پہلی بار کیمرے کا سامنا کرے گا۔

س: نصیرالدین شاہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ؟ ج: میں نصیر کو کئی سالوں سے جانتی ہوں۔ میں اکثر ان سے کہا کرتی تھی کہ میری سفارش کیجیئے تو بطور اداکار ساتھ ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن وہ تو ہو نہ سکا، اب میں انہیں ڈائریکٹ کر رہی ہوں۔

س: نصیرالدین شاہ کے علاوہ اور کون سے اداکاروں کے ساتھ مزا آیا؟ ج: میرے خیال سے رگھو ویر یادو بہترین اداکار ہیں۔ پاریش راول کے ساتھ بھی کام کرنے میں بہت مزا آیا۔ پاریش راول کو ہم نے زیادہ تر کامیڈی رول میں دیکھا ہے۔ انہیں اس فلم میں سنجیدہ کردار کرتے ہوئے دیکھتے ہوئے مزہ آیا۔ اس فلم میں چار زبانیں ہیں۔ ہندی، اردو، گجراتی اور انگریزی۔ پاریش راول نے گجراتی زبان بولی ہے کیونکہ یہ ان کی مادری زبان ہے۔ دیپتی نول کا کام لوگوں نے پسند کیا اور شھانہ گوسوامی بہت اچھی اداکارہ ہے۔

س: تو ’فراق‘ کب رلیز ہو رہی ہے؟ ج: یہ فلم 20 مارچ کو رلیز ہو رہی ہے۔

س: کمرشل سنیما سے کچھ اعتراضات یعنی کمرشل سنیما میں آپ کی کتنی دلچسپی ہے؟ ج: کچھ اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری پرورش کچھ ایسی ہی ہوئی۔ میں نے بچپن سے ایسی فلمیں نہیں دیکھیں۔ میرے والدین نے نہیں دیکھیں تو شاید مجھے بھی نہیں دکھائیں۔ کمرشل فلموں کی طرف میرا روجھان نہیں رہا۔ ہم لوگ تھیٹر دیکھنے جاتے تھے۔

س: تو آپ بھی کمرشل فلمیں نہیں دیکھتیں؟ ج: بہت کم۔

س: گوندا کی فلمیں نہیں دیکھیں؟ ج: فلمیں تو نہیں دیکھیں لیکن گانے دیکھے ہیں۔ ان کے گانے اور ڈانس بہت اچھا ہوتا ہے۔ اب بالی وڈ کی کچھ فلموں کی بات کریں تو ’چک دے انڈیا‘ مجھے اچھی لگی۔ ’راک آن‘ بھی مجھے اچھی لگی۔

س: آپ کے پسندیدہ اداکار؟ ج: فیوریٹ میں کسی کو نہیں مانتی۔ کئی اچھے اداکار ہیں لیکن پسندیدہ پوچھیں گے تو مشکل ہو گا۔ اگر کوئی یہ پوچھے کہ آپ کی پسندیدہ جگہ کون سی ہے تو دنیا بھر میں اتنی ساری اچھی جگہیں ہیں کیسے ایک جگہ بتا سکتے ہیں۔

س: جب آپ کام نہیں کر رہی ہوتی ہیں تو کیا کرنا پسند کرتی ہیں؟ ج: میں اپنے کام میں بہت مزہ لیتی ہوں۔ میں وہی کام کرتی ہوں جس میں مزہ آئے۔ کرییٹو کام اور لوگوں سے ملنا جلنا مجھے پسند ہے۔

س: مجھے لگ رہا ہے کہ ان دنوں آپ کچھ زیادہ محنت کر رہی ہیں۔ کہنے کا مطلب کچھ دبلی۔پتلی لگ رہی ہیں؟ ج: میں زندگی میں پہلی بار ورزش کر رہی ہوں۔ میں بہت سست رہی ہوں۔ میرے کئی خیرخواہ فلم ڈائریکٹر کہا کرتے تھے کہ تم نے تو اس کا بہت ویلیو بنا لیا ہے کہ میں ورزش نہیں کرتی۔ اب میں ایک فلم کے لیے کر رہی ہوں لیکن مجھے اب اس میں مزہ آنے لگا ہے اور جب آپ کوئی کام کسی مقصد کے لیے کرتے ہیں تو یہ آسان ہو جاتا ہے۔

س: لگتا ہے کہ آپ یہ محنت کسی کمرشل فلم کے لیے کر رہی ہیں؟ ج: فی الحال تو میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ اس فلم میں بہت تجسس ہے۔ ایسا کردار میں نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں میں آپ کو اس بارے میں پتا چل جائے گا۔

س: آپ کے والدین بہت جانے پہچانے ہیں، خاندان میں سبھی لوگ دانشور ہیں، تو کبھی ایسا لگا کہ دوسرے بچوں سے کچھ الگ ہیں؟ ج: ایسا کچھ نہیں ہے کیونکہ ہر چیز کی اہمیت الگ ہے۔ جیسے ڈاکٹروں کے بچوں کو پتا ہوتا ہے کہ کون سی دوا کس بیماری کے لیے ہے، جو ہم نہیں جانتے۔ مجھے یاد ہے جب گجرات میں زلزلہ آیا تو ہم احمدآباد میں تھے اور ہم بری طرح ھل گئے تھے۔ تب مجھے لگا کہ میں کیسا کام کر رہی ہوں جس کا لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کاش میں ڈاکٹر ہوتی تو لوگوں کی مدد کر سکتی تھی۔ تو یہ ماحول پر دارومدار کرتا ہے۔ ہمیں فلموں، گانوں کا پتا ہے تو دوسرے بچوں کو کچھ اور پتا ہوتا ہے۔

س: میں اکثر سب سے پوچھتا ہوں کہ اگر آپ یہ نہیں ہوتیں تو کیا ہوتیں، لیکن آپ تو اتنا کچھ کر رہی ہیں؟ ج: میں الگ الگ چیزیں کرنا پسند کرتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں ایک چیز کرتی ہوں تو پاگل ہو جاتی ہوں۔ پچھلے دو سالوں سے میں نے ’فراق‘ کے علاوہ بہت کم دوسری چیزیں کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب میں تھک سی گئی ہوں اور چاہتی ہوں کہ فلم جلدی سے ریلیز ہو جائے۔

س: کچھ خاص کرنے کی تمنا؟ ج: کہیں پہنچنے کی تمنا تو نہیں ہے۔ میرا زور سفر پر زیادہ رہتا ہے، اسے ختم کرنے پر نہیں۔ اگر آپ کو سفر معنیٰ خیز لگ رہا ہے تو منزل پر پہنچنے کی جلدی نہیں ہونی چاہیئے۔ ہاں سپنے کئی ہیں، کبھی لگتا ہے کہ دریا کنارے چھوٹا سکول شروع کیا جائے۔ کبھی لگتا ہے کہ اور فلمیں بنائی جائیں۔

س: آپ خود کو کتنا سلجھا ہوا انسان مانتی ہیں؟ ج: اس کے بارے میں بہت الجھن ہے۔ لگتا ہے کئی چیزیں سلجھ گئی ہیں لیکن کئی اب بھی الجھی ہوئی ہیں۔ زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ ہیں۔ زندگی میں سب کچھ سہی غلط نہیں ہوتا۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں، جن کے بارے میں کافی سوچ بچار کرنا ہوتا ہے اور ہر انسان ان کو اپنے طریقے سے بیان کرتا ہے۔

س: آپ خود کو دو تین جملوں میں کیسے بتائیں گی۔

ج: نندیتاداس آرام کرنا پسند نہیں کرتی۔ مجھے غصہ جلدی آتا ہے لیکن اگر مجھے لگتا ہے کہ میں غلط ہوں تو مجھے معافی مانگنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ میں کئی بار اپنی رائے قائم کر لیتی ہوں لیکن کئی بار مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے۔