’کوئین‘ کے لیڈ سنگر کی یاد میں

میوزیکل بینڈ ’کوئین‘ کے لیڈ سنگر فریڈی مرکری کی موت کے آٹھ برس پورے ہونے پر مغربی لندن میں ان کی یاد میں تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
فریڈی مرکری 1946 میں افریقی ملک زنزبار میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام فرخ بلسارہ تھا اور ان کے والدین کا تعلق ممبئی سے تھا۔
فریڈی نے ابتدائی تعلیم بھارت سے حاصل کی جس کے بعد 1964 میں ان کے والدین لندن آگئے۔ لندن میں انہوں نے فنون لطیفہ کے ایک کالج سے موسیقی کے کیریئر کی ابتدا کی۔
فریڈی کی 87 سالہ ماں جر بلسارہ نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کی دل نیر سے ایک گفتگو کے دوران اپنے مشہور بیٹے کے بارے میں دلچسپ باتیں بتائی ہیں۔
’لندن کے ایک قدرے پرسکون علاقے کے اس بنگلے میں یہ 87 سالہ عورت اپنے بیٹے کی تصویروں کو پرشوق نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ اس کی آنکھیں بھیگتی جارہی ہیں اور بیٹے کی تصویر پر پیار سے انگلیاں پھیرتے اں کا سر فخر سے بلند ہے۔
’مجھے اس پر بہت فخر ہے‘۔
مجھے خوشی ہے کہ مغربی لندن جہاں ہم رہتے تھے وہ اکثر ہمارے پاس آتا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ وہاں کے لوگ اسے یاد کررہے ہیں۔
بلسارہ کا کہنا ہے کہ فریڈی کم عمری سے ہی میوزک کا بے انتہا شوق رکھتا تھا اور اس میں پرفارم کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ وہ ہر طرح کا میوزک پسند کرتا تھا چاہے وہ انڈین ہو، کلاسیکل یا پاپ۔ جب اسے بھارت کے بورڈنگ سکول بھیجا گیا تو وہ اپنے خاندان سے جدا ہونے پر بہت ناخوش تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تاہم جلد ہی وہاں اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ’ہیکٹکس‘ کے نام سے ایک موسیقی کا بینڈ بنا لیا۔ جلد ہی اسے ایک قریبی ہوٹل میں سیاحوں کے لیے پیانو بجانے کے لیے بلایا جانے لگا۔ اس کے بدلے میں اسے مفت کھانا دیا جاتا تھا۔

’جب وہ سولہ سال کا ہوا تو ہم سب لندن آگئے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ پڑھ لکھ کر اکاؤنٹنٹ یا وکیل بنے۔مگر وہ کہتا تھا ’میں اتنا عقلمند نہیں ہوں ماں۔ میں یہ نہیں کرسکتا‘۔
’جلد ہی ہمیں معلوم ہوگیا کہ وہ میوزک میں اپنا کیریئر بنانا چاہتا ہے۔ اپنے چھوٹے سے گھر میں اس نے ایسی دھنیں ترتیب دیں جس نے اسے عالمی شہرت دلا دی۔
’میں اس کی ترتیب دی ہوئی دھنوں کے صفحات کو کوڑے سے زیادہ نہیں سمجھتی تھی مگر وہ کہتا تھا ’اسے پھینکنا مت ماں یہ بہت اہم ہیں‘۔
’ہمارے پڑوسی اس کی موسیقی کی آواز سے تنگ تھے۔ اس نے جلد ہی دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ہم اس فیصلے پر بہت اداس تھے۔ وہ مرکزی لندن منتقل ہوگیا مگر باقاعدگی سے ہمارے پاس آتا تھا۔جب وہ سپر سٹار بن گیا،ۙ تب بھی اسی طرح آتا رہا۔ جب وہ اپنی رولز رائس پر ہمارے گھر آتا تو تمام پڑوسی بہت خوش ہوتے تھے۔
اسے میرے ہاتھ کے کھانے بہت پسند تھے‘۔
آج فریڈی کی موت کے اٹھارہ برس بعد بھی ان کا میوزک اسی طری زندہ و مقبول ہے۔ حال ہی میں ’ایکس فیکٹر‘ پروگرام میں اس بینڈ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔



















