بیماریوں پر فلمیں، ایک کامیاب فارمولا

امیتابھ بچن فلم ’پا‘ میں
،تصویر کا کیپشنامیتابھ بچن فلم ’پا‘ تیرہ سال کے بچے بنے ہیں
    • مصنف, پراچی پنگلے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

اورو کی عمر تیرہ برس ہے مگر وہ دیکھنے میں پینسٹھ برس کا لگتا ہے کیونکہ اسے پروگیریا نامی بیماری ہے جو بچوں میں عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔

پیا کی شادی کو بیس برس بیت چکے ہیں لیکن وہ کبھی کبھی اپنے خاوند کو نہیں پہنچانتی کیونکہ اسے الزائمر یا بھولنے کی بیماری ہے۔

ایشان ایک آٹھ سال مصور ہے لیکن وہ حروف اور ہندسوں میں تمیز نہیں کر پاتا۔ وہ ڈسلیکسیا کا مریض ہے۔

ان سب افراد میں مشترک کیا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ یہ مختلف قسم کی ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں بلکہ یہ بھی کہ یہ سب گزشتہ دو برس کے دوران ریلیز ہونے والی کچھ ہندی فلموں کے کردار ہیں۔

بالی وڈ کو ہمیشہ سے ایسی کہانیوں کے بارے میں جانا جاتا ہے جس کا آغاز اور انجام پہلے سے بوجھا جا سکتا ہو۔ لیکن اب وہاں کے فلمساز مختلف قسم کی کہانیوں پر فلمیں بنانے میں دلچسپی لینے لگے ہیں اور تارے زمیں پر، یو می اور ہم اور اپنا آسمان ایسی ہی کچھ فلمیں ہیں۔

ایسی ہی فلموں کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ فلم ’پا‘ کا ہے جس میں امیتابھ بچن نے ایک ایسے تیرہ سالہ بچے کا کردار نبھایا ہے جو پروگیریا کا مریض ہے جبکہ ان کے اپنے بیٹے ابھیشیک بچن اس فلم میں ان کے باپ بنے ہیں۔

’یو می اور ہم‘
،تصویر کا کیپشن’یو می اور ہم‘ میں کاجل نے الزائمر کی مریضہ کا کردار نبھایا ہے

’پا‘ کے ہدایتکار آر بالکی کے مطابق وہ امیتابھ اور ابھیشیک کے ساتھ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے تھے جس میں امیتابھ ابھیشیک کے بیٹے بنیں۔ بالکی کا کہنا ہے کہ ’ ایک مرتبہ میں نے مسٹر بچن کو ابھیشیک سے مذاق کرتے دیکھا جبکہ ابھیشیک سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ جبھی مجھے ایسی فلم بنانے کا خیال آیا جس میں ان باپ بیٹے کا کردار الٹ ہو۔ ہم نے ڈاکٹروں سے مشاورت کی اور پروگیریا کے بارے میں پڑھا۔ لیکن یہ فلم پروگیریا کے بارے میں نہیں ایک باپ بیٹے کے رشتے کے بارے میں ہے‘۔.

’تارے زمیں پر‘ کے مصنف امول گپتے کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فلم والدین کے کردار پر بحث کرنے کے لیے لکھی تھی۔ اس فلم میں آٹھ سالہ ایشان جو کہ ایک مصور بھی ہے ڈسلیکسک بچہ دکھایا گیا ہے۔ تاہم اس کے والدین اس کا موازنہ ہمیشہ اس کے بڑے بھائی سے کرتے ہیں اور ایشان کو اپنے ٹیلنٹ کی پہچان کروانے کے لیے کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑتا ہے۔

امول گپتے کا کہنا ہے کہ وہ فلم ’سماجی تبدیلی اور کسی معاملے کی حساسیت اجاگر کرنے کے لیے‘ بناتے ہیں۔ امول ڈسلیکسیا کو معذوری نہیں بلکہ ایک دماغی بدلاؤ قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسے ’ڈسلیکسیا کا تحفہ کہا جاتا ہے۔ مسئلہ بچوں میں نہیں نظام میں ہے۔ یہ بچوں کو مریض بنا رہے ہیں آپ کسی بچے کو مار پیٹ کر قابل نہیں بنا سکتے۔

فلمی دنیا کے مبصرین کا کہنا ہے کہ شائقین ایک مختلف فلم کو قبول کرتے ہیں اگر اس میں تفریح کا پہلو موجود ہو۔ اس کے علاوہ بھارت میں ملٹی پلیکس سنیما کے فروغ اور گزشتہ چند برس کے دوران فلمی صنعت کی کاروباری شکل اختیار کرنے کے بعد اب متعدد پروڈکشن ہاؤس ایسی فلمیں بنا رہے ہیں جو عام موضوعات سے ہٹ کر ہیں۔

’فلم ’پا‘ پر پیسہ لگانے والی کمپنی ریلائنس بگ پکچرز کے سربراہ سنجیو لامبا کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خیال میں پا ایک شاندار، ہلکی پھلکی فیملی فلم ہے اور اس کا مرکز ایک باپ بیٹے کا محبت بھرا رشتہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ شائقین جلد ہی فلم کے مرکزی کردار اورو سے تعلق جوڑ لیں گے۔ اور جیسا کہ کہانی اس غیر معمولی بچے اور باپ بیٹے کے انوکھے رشتے کی ہے یہ فلم ایک بہتری تفریح ہے‘۔.

تارے زمیں پر
،تصویر کا کیپشنتارے زمیں پر باکس آفس پر ایک ہٹ فلم ثابت ہوئی

ماہرین کا خیال ہے کہ بھارتی شائقین اب چیزوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں اور اسی لیے وہ مختلف خیالات پر مبنی فلمیں پسند کرنے لگے ہیں۔ فلمی دنیا کے ایک ماہر ترن آدرش کے مطابق ’پہلے لوگوں کو صرف ٹی بی اور کینسر کا پتہ تھا۔ لیکن اب لوگوں کے پاس معلومات حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ فلمساز بھی حقیقت پسند ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ اب باپ کے خون کے بدلے اور پیار کی تکون سے آگے بڑھ کر کچھ بنا رہے ہیں‘۔

.ترن کے مطابق ’شائقین زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ اگرچہ پس منظر مختلف بھی ہو تب بھی شائقین اس سے ناتا جوڑ لیتے ہیں کیونکہ وہ اس کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اس لیے اگر ایک فلم کا مرکزی خیال پروگیریا ہے تو یہ ٹھیک ہے کیونکہ اس کا وجود ہے‘۔.

جیسا کہ امول گپتے کہتے ہیں کہ ’کمزور آدمی کا مشکلات پر قابو پانا‘ دنیا بھر کے سنیما کا سب سے مضبوط مرکزی خیال ہے اور اس خیال کے پس منظر میں طبی صورتحال لانا مغربی سنیما میں بھی عام ہے۔

اس وقت بھی بالی وڈ میں ایسی کئی فلمیں زیرِ تکمیل ہیں جن میں مرکزی کردار کسی خاص بیماری کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر شاہ رخ خان اپنے آنے والی فلم میں ’ایسپرجر‘ نامی بیماری کے مریض کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ نانا پاٹیکر اپنے بیٹے کو ایک ایسی فلم میں لا رہے ہیں جو آٹزم پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دیگر فلم کا مرکزی کردار بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار ہے۔

ایسی فلموں کی باکس آفس کارکردگی کے بارے میں سوچا جائے تو ’پا‘ کے ہدایتکار آ بالکی کہتے ہیں کہ اگر فلم شائق سے ناتا جوڑتی ہے تو وہ چلتی ہے۔ ان کے مطابق ’ ایک فیقر فلم کا مقصد تفریح ہے، یہ تبلیغ کا میڈیم نہیں ہے اس لیے یہاں آپ کو شائقین سے رشتہ جوڑنا پڑتا ہے‘۔.