ماریو یوسا کے لیے ادب کا نوبل انعام

ماریو لوسا
،تصویر کا کیپشنماریو لوسا نے سنہ 1993 میں ہسپانوی شہریت اختیار کر لی تھی
وقت اشاعت

پیرو سے تعلق رکھنے والے ادیب ماریو ورگاس یوسا نے سنہ 2010 کے لیے ادب کا نوبل انعام جیت لیا ہے۔

ماریو ورگاس یوسا ہسپانوی زبان کے چند مشہور ترین مصنفین میں سے ایک ہیں۔

چوہتر سالہ ماریو نے تیس سے زائد ناول، ڈارمے اور مضامین تحریر کیے ہیں۔

ماریو ورگاس کے بارے میں نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی سویڈش اکیڈمی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’طاقت کے ڈھانچے کی ساخت، فرد کی مزاحمت، بغاوت اور شکست کی جو طاقتور اور شاندار عکاسی‘ کی ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔

یوسا کو ساٹھ کی دہائی ان کے ناول ’دی ٹائم آف دی ہیرو‘ کی بدولت عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی لیکن ان کا ناول ’فیسٹ آف دی گوٹ‘ خاص طور شہرت کا حامل ہے کیوں کہ اس میں فوجی آمریت زدہ ایک ملک اور فوجی آمریت میں حکومتی نظم و نسق کا حصہ بننے والوں کی نفسیات اور کرداروں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اریکوئپا میں پیدا ہونے والے یوسا نے 1990 میں پیرو کے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تھا اور شکست کے بعد سنہ 1993 میں ہسپانوی شہریت اختیار کر لی تھی۔

سنہ 1995 میں انہیں ہسپانوی زبان بولنے والے ممالک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز سروینٹس پرائز بھی دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ 1982 کے بعد پہلا موقع ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے کسی مصنف نے ادب کا نوبل انعام جیتا ہے۔

گزشتہ برس رومانوی نژاد جرمن ادیب ہرٹا مولر نے ادب کا نوبل انعام جیتا تھا جب کہ ان سے قبل فرانسیسی ادیب ژاں ماغی گُستاو لکلیزیو اس انعام کے حق دار ٹھہرے تھے۔