دیوا آنند کی ’ہم دونوں‘ پھر ریلیز

دیو آنند
،تصویر کا کیپشنفلم ہم دونوں کو دیو آنند کو بہت پسند ہے
وقت اشاعت

دیوآنند کی انیس سو اکسٹھ میں بنی فلم ’ ہم دونوں‘ اب رنگین ہوگئی ہے۔ چار فروری سے ممبئی کے مختلف سینما گھروں میں اس رنگین فلم کو نمائش کے لیے پیش کیا جائےگا۔

ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے بتایا کہ ستاسی سال کی عمر میں بھی اداکاری اور ہدایت کاری کرنے والے فنکار دیو صاحب گزشتہ کئی دنوں سے بہت مصروف ہیں۔ان کے دل کے بہت قریب فلم ’ ہم دونوں‘ کی ایک مرتبہ پھر نمائش کی تیاریاں جاری ہیں۔

اسی مصروفیت کے دوران انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ اپنی تمام بلیک اینڈ وائٹ فلموں کو رنگین بنانا چاہتے ہیں تاکہ آج کی نئی نسل اسے دیکھے اور اس دور کو سمجھے۔

لیکن کیا ملٹی پلیکس جانے والی نسل ان پرانی فلموں کو آج کے دور سے جوڑ سکتی ہے؟ دیو صاحب کا جواب بالکل واضح تھا۔’اس دور میں بھی جنگ تھی اس دور میں بھی ہے اس دور میں بھی پیار تھا اس دور میں بھی ہے۔ سب کچھ وہی ہےکچھ نہیں بدلا، آپ جا کر فلم دیکھیے پھر کہیےگا۔‘

فلم ’ہم دونوں‘ میں دیو آنند کا ڈبل رول تھا۔ اس فلم میں ان کے مقابل سادھنا اور نندہ دو ہیروئینیں تھیں۔ دیو صاحب نے میوزک کے اجراء کے موقع پر ان دونوں کو بھی مدعو کیا تھا لیکن دونوں ہی حاضر نہیں ہو سکیں۔

’ نندہ بیمار ہیں اور سادھنا کو کارڈ بھیجا تھا لیکن وہ اب کسی طرح کے پروگرام میں آنا نہیں چاہتی ہیں۔‘ پرانے دور کی کئی ہیروئینیں اب گلیمر کی دنیا سے الگ تھلگ رہنے لگی ہیں۔

فلم ’ہم دونوں‘ کو رنگین بنانے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ امریکہ کے لیب میں اسے رنگین بنانے کا کام کیا گیا۔سینما سکوپ میں ڈولبی ڈجیٹل سسٹم میں اسے ڈھالا گیا۔

دیو آنند
،تصویر کا کیپشندیو آنند اپنے زمانے میں صدا بہار ہیرو کہلاتے تھے

دیو آنند اپنی پرانی فلموں کا ری میک کرنے کے سخت خلاف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فلمیں میرے دل کے بہت قریب ہیں میں نے اپنے پرستاروں کی فرمائش پر اسے رنگین بنایا ہے لیکن اس کے ری میک کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتا۔‘

دیو صاحب کی پرانی فلموں میں دلیپ کمار کے ساتھ انسانیت، کالا پانی، منیم جی، ٹیکسی ڈرائیور، تیرے گھر کے سامنے اور پیئنگ گیسٹ جیسی فلمیں ہیں جو اپنے دور کی سپر ہٹ فلمیں ثابت ہوئی تھیں۔

فلم ہم دونوں کے نغمے اپنے دور میں بہت مقبول ہوئے تھے۔ ان میں ’میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا‘ اور ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں‘ اور ’اللہ تیرو نام ایشور تیرو نام ‘ آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں۔ اس فلم میں ساحر لدھیانوی کے نغمے اور جے دیو کا میوزک تھا۔

دیو صاحب انیس سو تئیس میں شکر گڑھ تحصیل گرداس پور نردوالی پاکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ ممبئی چلے آئے تھے۔ انہیں پہلا بریک اداکار اشوک کمار نے دیا تھا۔

لیکن جلد ہی دیو صاحب نے انیس سو انچاس میں ’نوکیتن ‘ نام سے اپنی فلم کمپنی بنائی۔ دو ہزار ایک میں انہیں پدم بھوشن ایوارڈ سے حکومت نے نوازا اور پھر سن دو ہزار دو میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

دیو آنند کی فلم ’گائیڈ‘ سے انہیں بیرون ممالک کافی ستائش حاصل ہوئی تھی۔

بلیک اینڈ وائٹ فلموں کو رنگین بنانے پر فلم انڈسٹری میں متضاد آراء سامنے آئی ہیں۔ اس سے قبل فلمساز روی چوپڑہ نے اپنے والد کی بنائی فلم ’نیا دور‘ کو رنگین بنایا تھا جس میں دلیپ کمار اور وجینتی مالا اہم کردار میں تھے۔

پرانے دور کی ہیروئین وحیدہ رحمٰن کلاسیک فلموں کو رنگین بنانے کے حق میں نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس دور کی خوبصورتی فلم کو رنگین کرنے میں ختم ہو جائے گی ان کے مطابق اگر آپ کاغذ کے پھول جیسی فلم کو رنگین بنائیں گے تو فلم ایک بڑا ڈزاسٹر لگے گی۔