سفری اجازت نامہ: فنکاروں کا احتجاج

مدیحہ گوہر کے مطابق حکومتی فیصلہ تمام فنکاروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے مترادف ہے
،تصویر کا کیپشنمدیحہ گوہر کے مطابق حکومتی فیصلہ تمام فنکاروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے مترادف ہے
وقت اشاعت

پاکستانی فنکاروں نے بیرون ملک جانے کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت لینے کی پابندی کے فیصلے کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

فنکاروں نے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن اور سپریم کورٹ بار نے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔

معروف فنکارہ مدیحہ گوہر نے جمعے کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی جمہوری اور ترقی پسند حکومت کا یہ وطیرہ نہیں ہے کہ اس کے شہری کو قانونی پاسپورٹ اور ویزا ہونے کے باوجود بیرون ملک جانے کے لیے کسی قسم کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

اِخبارات میں شائع ہونے والے وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک کے بیان کے مطابق پندرہ مارچ کے بعد پاکستانی فنکاروں کو بیرون مک جانے کے لیے حکومت سے ’این او سی‘ لینا ہوگا ۔

پریس کانفرنس میں ثمینہ احمد، نعیم طاہر، عثمان پیرزادہ، سلمان شاہد، ثمینہ پیزادہ اور ڈرامہ اصغر ندیم سید نے اپنی آرا کا اظہار کیا اور شدید الفاظ اس فیصلے کی مذمت کی۔

نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ مدیحہ گوہر نے حکومت فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے کہیں ایسا نہیں لگتا کہ وہ بھٹو کے نظریات اور سوچ کو لے آگے بڑھ رہے ہیں۔

’وفاقی وزیر کے موقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ضیاء کی باقیات ہیں کیونکہ کچھ اسی طرح کا حکم نامہ سابق فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں نافد کیا گیاتھا۔‘

انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اس پابندی کو ختم کیا تھا لیکن آج وہی حکومت اس کو پابندی کو نافذ کررہی ہے جس کی متقول سربراہ نے اسے ختم کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی فیصلہ تمام فنکاروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول این او سی لینے کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مدیحہ گوہر نے کہا کہ فنکار اس فیصلے کے خلاف ہر جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج کریں گے۔ ان کے بقول اس فیصلے کو عدالت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیے ان کے سینئر وکلا سے صلاح مشورے جاری ہیں۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عاصمہ جہانگیر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افسر شاہی کا یہ فیصلہ بنیادی حقوق پر کاری ضرب ہے اور یہ فیصلہ شہریوں کو پابند رکھنے اور ان کی آزادی سلب کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ فنکار ثفافتی اور عالمی سفیر ہوتا ہے اور اس طرح کے فیصلے سے ثفافتی سرگرمیاں مانند پڑنے کا خدشہ ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ بنیادی حقوق پر احمقانہ پابندی عائد کرنا قابل مذمت ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب ملک کے وقار کو بحال کرنے کے لیے اچھے اقدامات کیے جارہے ہیں تو غیرملکی سفر پر پابندی ان اقدامات کے مضر ہے۔