رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
آج انتیس اپریل ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں کسے یاد رہ سکتا ہے کہ آج رقص کا عالمی ہے اور رہے گا بھی کیوں؟ اتنے عوامل ہیں کہ آدمی زندگی بھول جاتا ہے۔ انسان ہونا بھول جاتا ہے۔
لیکن یہ اس رقص کی بات نہیں ہے جو اسّی کی دہائی میں متنازع مداخلت سے شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے پاکستان کے گلی کوچوں، شاہراہوں، تعلیمی اداروں اور محفوظ ترین تصور کی جانے والی عبادت گاہوں تک میں در آیا۔ اور اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ موت کے اس جنونی رقص سے محفوظ ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اس کے جنونی رقاص ہر جگہ ساتھ ساتھ چل رہے ہوں، آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں۔
لیکن جب اس رقص کو آغاز دیا گیا تو اس اصل رقص پر پابندی لگا دی گئی لیکن اس پابندی کا اطلاق صرف عورتوں ہی پر کیا گیا۔
عجیب اتفاق ہے کہ اسی اسّّی کی دہائی ہی میں انیس سو بیاسی میں اقوام متحدہ کے ادارے یونسکو نے انتیس اپریل کو رقص کا عالمی دن قرار دیا اور اس لیے قرار دیا کہ یہ جدید بیلے کے خالق جین جورجس نوورے کی پیدائش کا دن تھا۔ اس فرانسیسی رقاص کی پیدائش کو آج دو سو چوراسی سال ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
رقص کا تعلق ہمارے جسم سے ہے اور ہماری روح سے ہے۔ ایک آھنگ ہوتا ہے جو ہر جسم میں ہوتا ہے۔ اس خون میں ہوتا ہے جو ہمارے جسموں میں دوڑتا ہے اور ہمارے دل کو دھڑکتے رہنے اور ایک آھنگ پیدا کرنے پر اکساتا رہتا ہے۔
انسان نے رقص کی ابتدا کب کی اس بارے میں تاریخ ہمیں اندازوں کے سوا کچھ نہیں بتاتی لیکن لازم ہے کہ رقص کا یہ پہلا موقع تب آیا ہو گا جب انسان کو پہلی خوشی ملی ہو گی اور اس بارے میں بھی تاریخ ہمیں کچھ نہیں بتاتی۔
جب انسان کو یہ احساس ہوا کہ رقص خوشی کا اظہار ہے تو اس نے ان کے لیے رقص کرنا شروع کیا جن کی خوشنودی اسے مطلوب ہوئی۔ شاید یہیں سے رقص مذہب اور جبر سے جڑا اور طاقتور نے مجبوروں کو ظلم کے بعد ناچنے پر مجبور کرنا شروع کیا۔
اقوام متحدہ کا ادارہ یونسکو ہر سال ایک ممتاز رقاص کو اس موقع پر بیان جاری کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اس سال یہ اعزاز بلجیم کی اکیاون سالہ اینی ٹریسا کیرس مائیکر کے حصے میں آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
وہ بے پناہ رقاص اور کوریو گرافر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’رقص ایک طرزِ فکر ہے، سوچنے کا ایک ڈھب جو ہمارے وجود کا حصہ ہوتا ہے اور اس کے ذریعے ہم پر وہ تصورات منکشف ہوتے ہیں جو انتہائی تجریدی ہوتے ہیں، رقص ایک رشتہ ہے جو لوگوں کو جوڑتا ہے، ایک دنیا ہوتی ہے جسے ہم اپنے جسموں میں لے کر چلتے ہیں اور جو رقص سے اظہار پاتی ہے‘۔
ذرا ٹریسا کیرس کی بات ذہن میں رکھیں اور سوچیں کو وہ کون ہیں جو رقص کی مخالفت کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟
پاکستان میں رقص کی باقاعدہ مخالفت کی ابتدا جنرل ضیا الحق کے دور سے ہوئی۔ لیکن نوے کی دہائی تک آتے آتے کئی نام سامنے آ گئے ان میں چند سرِ فہرست شیما کرمانی، نگہت چودھری اور تحریما مٹھا تھیں جنہوں نے رقص کو اس کی روایت سے جوڑنے کا عزم کیا۔
لیکن حالات کی ستم ظریفی کے باعث تحریما جلاوطنی اختیار کر کے امریکہ چلی گئیں۔ نگہت نے خود کو ایک خاص طبقے تک محدود کر لیا، ایک شیما ہیں جنہوں اسے اس رشتے کے طور پر استعمال کیا جو لوگوں کو جوڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
یہ کرتے ہوئے ان پر کیا کیا گذری یہ ایک الگ کہانی ہے۔ لیکن وہ اس راستے پر گامزن ہیں جس کے لیے اس سال یونسکو نے اپیل کی ہے کہ ’رقص کرو لیکن اب بند جگہوں پر نہیں کھلی جگہوں پر، سڑکوں پر، بازاروں میں، پارکوں میں اور وہاں، جہاں آنے جانے والے عام لوگوں کی توجہ حاصل ہو‘۔
شاید اس اپیل کا مقصد لوگوں کو یاد دلانا ہے کہ رقص تو ان کے وجود کا وہ حصہ ہے جو انہیں ان کا ہونا یاد دلاتا ہے۔ وہ ہونا جسے حالات کے دباؤ میں آ کر فراموش کر دیا گیا۔
لیکن شیما کرمانی کہتی ہیں کہ ’یہی کافی نہیں ہے، رقص کو فروغ دینے کے ادارے بنانے چاہیں، ادارے بنانے کے لیے مدد دی جانی چاہیے کیوں کہ جمہوریت یہی تقاضا کرتی ہے اور کیوں کہ رقص کا فروغ جمہوریت کا فروغ ہے‘۔



















