عریاں فلموں کے اداکاروں کے لیے کونڈوم لازمی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی شہر لاس اینجلس کے میئر کی جانب سے منظور کیے جانے والے ایک نئے قانون کے تحت شہر میں عریاں فلموں کے تمام ادا کاروں کے لیے شوٹنگ کے دوران کونڈوم کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
اگرچہ صحت کے حکام نے اس نئے قانون کا خیرمقدم کیا ہے لیکن عریاں فلموں کو بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نافذ ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے انہیں شہر چھوڑنا پڑے۔
واضح رہے کہ لاس اینجلس کی سین فرنانڈو ویلی کو امریکی عریاں فلموں کی انڈسٹری کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
لاس اینجلس میں ایڈز ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اداکار ایڈز اور دیگر بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔
گزشتہ چھ برس سے اس قانون کو نافذ کرانے کے لیے کوشاں فاؤنڈیشن کے صدر مائیکل وائنسٹائین کا کہنا ہے ’لاس اینجلس نے درست فیصلہ کیا ہے۔ ایسا ہونا اداکاروں کے لیے ضروری تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ آئندہ ان فلموں کو بنانے والوں پر کڑی نظر رکھیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ لاس اینجلس چھوڑنے پر وہ کہاں جا کر بستے ہیں۔
دوسری جانب ان فلموں کو منظرِ عام پر لانے والوں کا کہنا ہے کہ جن فلموں میں کونڈوم کا استعمال دکھایا جاتا ہے انہیں لوگ شوق سے نہیں دیکھتے۔
رواں ہفتے پیر کو منظور ہونے والے اس نئے قانون کو فی الوقت نافذ کیے جانے کے طریقۂ کار کے متعلق سوچ بچار جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















