جب عامر خان شوٹنگ کے لیے تاجکستان پہنچے

عامر خان کی فلم منگل پانڈے کے ایک حصے کی فلم بندی تاجکستان کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی
،تصویر کا کیپشنعامر خان کی فلم منگل پانڈے کے ایک حصے کی فلم بندی تاجکستان کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی
    • مصنف, جیمز كماراسوامي
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

وسطی ایشیا کے سب سے غریب ملک تاجکستان میں دور افتادہ ایک گاؤں میں کچھ سال پہلے ہونے والے ایک منفرد واقعے نے وہاں کے لوگوں کے دلوں میں بہت خوشگوار یادیں چھوڑی ہیں جو اب بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔

سال 2004 میں بالی ووڈ اداکار عامر خان نے اپنی فلم ’منگل پانڈے دی رائزنگ‘ کے ایک حصے کی شوٹنگ افغانستان کی سرحد کے قریب تاجکستان میں کی تھی۔

اس علاقے کے لیے یہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا جہاں روزگار کا سارا دارومدار زراعت پر منحصر ہے۔ فلم میں درجنوں مقامی گھڑسواروں کو ایکسٹرا کے طور پر کام دیا گیا تھا۔

اس بات کو ایک دہائی ہونے کو ہے اور میں سوچتا ہوں کہ اب اس علاقے کے لوگ کس طرح ہوں گے؟ بالی وڈ کے ساتھ اس مختصر تعارف نے اس علاقے پر کیا اثر ڈالا ہوگا؟

میرے سامنے سب سے پہلا چیلنج تھا اس جگہ کو ڈھونڈنا۔

تاجک گاؤں اياچي

تاجکستان میں زراعت ہی روزگار کا اہم ذریعہ ہے
،تصویر کا کیپشنتاجکستان میں زراعت ہی روزگار کا اہم ذریعہ ہے

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کے قریب ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع اياچي گاؤں سے میرے بی بی سی کے ساتھیوں نے اس شوٹنگ کی رپورٹ بھجوائی تھی۔

لیکن یہ بات 2006 سے پہلے کی تھی جب تاجکستان کے مطلق العنان رہنما امام علی رحمانوف نے اپنے نام سے روسی لاحقہ ’اوف‘ لفظ ہٹا دیا تھا اور وسط ایشیائی لگنے والا نام رحمان رکھ لیا تھا۔

اس وقت بڑے پیمانے پر شہر اور قصبوں میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوا اور ہو سکتا ہے کہ اياچي میں بھی ایسا ہی ہوا ہو۔

خاصی دیر ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد آخر دوشنبے کے جنوب میں ایک پہاڑی کے کنارے اياچي گاؤں ہمیں مل ہی گیا۔

سڑک کے کنارے ایک شخص ملا۔ اسے اس فلم کی شوٹنگ کے بارے میں یاد تھا۔ لیکن اس نے بتایا کہ زیادہ تر تاجک نوجوان روزگار کی تلاش میں روس چلے گئے تھے۔

جب ہم نے پوچھا کہ کوئی اب بھی گاؤں میں بچا ہے؟ تواس نے سر كھجاتے ہوئے بتایا کہ دو نوجوان اور 90 سال کے بزرگ اب بھی گاؤں میں ہیں۔

زیادہ تر تاجک نوجوان نوکری کی تلاش میں روس چلے جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنزیادہ تر تاجک نوجوان نوکری کی تلاش میں روس چلے جاتے ہیں

اس پر ہم ان سے ملنے کی امید میں وادی کے پار اس پرانے گاؤں میں پہنچے جہاں شوٹنگ ہوئی تھی۔

لیکن وہاں ہمیں کوئی نشان نہیں ملا یہاں تک کہ کوئی مرد نہیں تھا۔ ایک عورت ملی جو کچھ گائیوں کے ساتھ پلاسٹک کے چار خالی برتن گھوڑاگاڑي پر سے لے جا رہی تھی۔

کئی ہفتے پہلے گاؤں کی پانی کی سپلائی بند ہو گئی تھی اور قریب ترین پانی کا ذریعہ تقریباً 3 کلو میٹر دور تھا۔

خواتین سے بات چیت میں پتہ چلا کہ گاؤں کے تمام مرد ایک جنازے میں گئے ہوئے ہیں۔ہم نے وہاں جانے کا فیصلہ کیا۔

وہاں ہمیں سفید ٹوپی پہنے کچھ نوجوان اور کچھ شرمیلی لڑکیاں اور گھر کے مالک ملے۔

روایتی مشرق ایشیائی دعوت

آخری رسوم میں بھی جو دعوت دی جاتی ہے اس میں روایتی مشرق ایشیائی پکوان شامل ہوتے ہیں
،تصویر کا کیپشنآخری رسوم میں بھی جو دعوت دی جاتی ہے اس میں روایتی مشرق ایشیائی پکوان شامل ہوتے ہیں

حال ہی میں ان کی بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا۔ انھوں نے بہت نرمی سے لیکن زور دے کر ہمیں جنازے کے موقع پر مہمانوں کے لیے تیار شدہ کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی۔

خاص وسط ایشیائی پکوانوں کی طرح اس کھانے میں نان روٹی، انگور، قلاقند، چاول، گوشت اور سبزیاں تھیں۔

انھوں نے فلم کے ایکسٹرا کے طور پر کام نہیں کیا تھا لیکن انھیں اور ان کی بہن کو وہ واقعہ پوری طرح یاد تھا۔

ہم نے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ گاؤں میں فلم کی شوٹنگ پھر ہو؟

میزبانوں نے جواب دیا ’کیوں نہیں، انھوں نے ہر ایک کو 50 سوموني (1000 روپوں کے لگ بھگ) دیے تھے۔ صرف گھوڑے پر بیٹھنے کے لیے اتنا پیسہ کون دے گا؟‘

انھوں نے فلم مکمل ہونے کے بعد اسے دیکھا تھا۔ انھیں فلم میں کوئی مقامی شخص نظر نہیں آیا لیکن وہ جانتے تھے کہ وہ 90 سالہ شخص کہاں ہے۔

اتنی معلومات حاصل کرنے کے بعد ہم نے انھیں الوداع کہا اور پہاڑی کی طرف چل پڑے۔

اور اچانک ہی ہمیں وہ مل گیا جس کی تلاش میں ہم آئے تھے۔ وہ گھر کے باہر ایک چارپائی پر بدھ کے مجسمے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ہی چائے کا برتن تھا اور درخت میں لٹکا منشیات سے بھرا بیگ۔

پہلے تو جھجھک کے ساتھ لیکن جلد ہی گرم جوشی سے انھوں نے اپنی داستان سنائی۔

ان کا نام كوكيپالوون تھا اور وہ اصل میں 93 سال کے تھے۔

ایک دن کے چھ ہزار

فلم میں ایكسٹرا کے طور پر کام کرنے والے كوكيپالوون 93 سال کی عمر میں بھی فٹ نظر آتے ہیں
،تصویر کا کیپشنفلم میں ایكسٹرا کے طور پر کام کرنے والے كوكيپالوون 93 سال کی عمر میں بھی فٹ نظر آتے ہیں

تاجکستان واپس آ کر آگ بجھانے کے عملے کے طور پر کام شروع کرنے سے پہلے انھوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت فوج کے لیے لینن گراد (جسے اب سینٹ پیٹرز برگ کہا جاتا ہے) اور یوکرائن میں لڑائیاں لڑی تھیں۔

ان لڑائیوں میں ان کی دو انگلیاں کٹ گئیں لیکن ان کی شہرت پہلوان کے طور پر برقرار رہی۔

وہ فخر سے بتاتے ہیں: ’ان برسوں میں پہلوانی نے ہی مجھے صحت مند رکھنے میں مدد کی اور یہی وجہ ہے کہ آس پاس کے لوگ مجھے جانتے ہیں۔‘

بالی وڈ شوٹنگ کے وقت کی کون سی بات کو یاد ہے؟ جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ملنے والا پیسہ۔

انھوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے شوٹنگ میں حصہ لینے کے لیے لوگوں پر دباؤ ڈالا تھا، لیکن مجھ پر نہیں۔ وہ مجھے 100 سوموني یعنی قریب 2000 روپے یومیہ کی دہاڑی دیتے تھے۔‘

اس شوٹنگ کی یادیں دھندلی پڑ گئی تھیں اور بہت کچھ واضح نہیں تھا۔

ہم چلنے کو تیار ہوئے اور کچھ تصاویر لینے کی باری آئی تو انھوں نے اپنی سب سے محفوظ کر کے رکھی ہوئی کالی ٹوپی نکال لی اور تصویر کھنچوائی۔