’مس لولی‘ کو رشتہ داروں کی لعنت ملامت

،تصویر کا ذریعہMiss Lovely
گذشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی فلم ’مس لولی‘ کی ہیروئین نہاریکا سنگھ کو بھارتی فلم سازوں اور فلم بینوں کے رویے پر سخت اعتراض ہے۔
بی بی سی کی مہدوپال کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ ’مس لولی کو کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں بہت پذیرائی ملی اور ناقدین نے فلم کو خوب سراہا تاہم فلم کو باکس آفس پر کامیابی نہیں مل سکی۔‘
انھوں نے کہا کہ اسے ریلیز کے لیے تقسیم کار بھی بہت مشکل سے ملے۔ نہاریکا سنگھ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس پر افسوس ظاہر کیا: ’یہاں لوگ صرف پیسے کے بارے میں ہی سوچتے ہیں۔ فلاں فلم نے ڈھیر سارے پیسے بنائے تو وہ اچھی فلم ہے۔ یہ فلم پیسے نہیں کما پائی تو بری ہے۔ مجھے ایسی باتیں بہت بور کرتی ہیں۔ فلموں کے معیار اور کوالٹی کی کوئی بات ہی نہیں کرتا۔‘
نہاریكا کے مطابق یہاں لوگ فلمیں سینیما کی محبت کی وجہ سے نہیں بناتے۔

،تصویر کا ذریعہMiss Lovely
’مس لولی‘ میں نہاریکا نے جدوجہد کرنے والی ایک اداکارہ کا کردار ادا کیا ہے، جو سیمی پورن یعنی نیم عریاں فلموں میں کام کرتی ہے۔
انھوں نے کہا: ’میرے دوستوں نے مجھے اس فلم میں اداکاری سے صاف طور پر منع کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میری شبیہ خراب ہو جائے گی۔ یہ ایک سی گریڈ جنسی فلم بن کر رہ جائے گی، لیکن میں نے کسی کی نہ سنی۔ میں سب سے کہتی رہی کہ یار تمہیں پتہ بھی ہے کہ فلم کا سکرپٹ کتنی متاثر کن ہے، لیکن کسی کی سمجھ میں یہ بات آئی ہی نہیں۔‘
نہاریکا نے یہ بھی بتایا کہ ان کے رشتہ دار بھی فلم دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ انھوں نے کہا: ’میرے ماموں اور ممانی فلم دیکھنے گئے اور آدھی فلم چھوڑ کر آ گئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ کیسی عجیب فلم ہے۔ ہمیں اچھی نہیں لگی۔‘
نہاریکا کے مطابق: ’مس لولی‘ کو دیکھ کر لوگوں کے رد عمل دو ہی تھے: یا تو فلم انھیں بہت اچھی لگی یا لوگوں نے اسے بالکل ہی مسترد کردیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
فلم کے ہیرو نوازالدين صدیقی کے بارے میں انھوں نے کہا: ’جب فلم بننی شروع ہوئی تو نہ وہ مجھے جانتے تھے اور نہ میں انھیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سوچا کرتے تھے۔ یار یہ ہے کون؟ ایکٹنگ آتی بھی ہے یا نہیں۔ لیکن بعد میں میں نے جانا کہ نوازالدین کتنے اچھے اداکار ہیں۔‘
نہاریکا نے بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی فلمیں کرتی رہیں گي جو لوگوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں۔



















