’کیا دہلی، کیا لاہور‘: تقسیمِ ہند کے درد کی کہانی

فلم کا پہلا ٹریلر واہگہ بارڈر پر ریلیز کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنفلم کا پہلا ٹریلر واہگہ بارڈر پر ریلیز کیا گیا تھا
وقت اشاعت

’مون سون ویڈنگ،‘ ’رگھو رومیو‘ اور ’دہلي بیلی‘ جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے ہنر دکھانے والے بالی وڈ اداکار وجے راز اب ہدایت کاری کے میدان میں بھی قدم رکھ چکے ہیں۔ ان کی نئی فلم ’کیا دہلی، کیا لاہور‘ جمعے کو ریلیز ہوئی ہے۔

برِصغیر کی تقسیم کے دوران لوگوں کے دکھ درد کو بیان کرنے والی اس فلم کے پروڈیوسر کرن اروڑا اسے پاکستان میں بھی ریلیز کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

فلم کے بارے میں ہدات کار وجے راز نے بتایا کہ یہ تقسیم کے ’عذاب‘ کو بیان کرنے کے علاوہ کچھ اور بنیادی سوال بھی اٹھاتی ہے۔

تاحال پاکستان میں اس کی فلم کی ریلیز کے معاملات طے نہیں ہوئے ہیں۔

فلم کا پہلا ٹریلر واہگہ بارڈر پر ریلیز کیا گیا تھا، اور مشہور نغمہ نگار، شاعر اور مصنف گلزار اس فلم سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے اس کی تشہیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہدایت کار وجہ راز نے کہا: ’تقسیم کے وقت ہر ہندوستانی اور پاکستانی کو جو تکلیف ہوئی تھی میری فلم اسے بیان کرتی ہے۔ فلم کے کرداروں رحمت علی اور سمرتھ پرتاپ شاستری کے ذریعے ہم نے اس درد کو ظاہر کیا ہے۔‘

ہدایات کے علاوہ وجے راز نے فلم میں کام بھی کیا ہے اور رحمت علی کا کردار ادا کیا ہے جو ایک فوجی ہے اور دہلی کے چاندنی چوک علاقے میں پلا بڑھا ہے لیکن تقسیم کے بعد اسے پاکستان جانا پڑتا ہے۔

اس کی ملاقات سمرتھ پرتاپ شاستری سے ہوتی ہے۔ سمرتھ بھی فوجی ہے اور لاہور میں پلا بڑھا ہے لیکن تقسیم کے بعد اسے بھارت آنا پڑتا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر کرن اروڑا اسے پاکستان میں بھی ریلیز کرنا چاہتے ہیں
،تصویر کا کیپشنفلم کے پروڈیوسر کرن اروڑا اسے پاکستان میں بھی ریلیز کرنا چاہتے ہیں

ہدایت کاری کے میدان میں اترنے کے لیے یہ مشکل موضوع کیوں؟ اس کے جواب میں وجے نے کہا: ’میں نے سوچا نہیں تھا کہ کبھی ڈائریکٹر بنوں گا۔ لیکن جب اداکاری کرنے کے لیے میرے پاس یہ سکرپٹ آیا تو میں اس سے جڑتا چلا گیا اور پھر مجھی سے ہدایات دینے کو کہہ دیا گیا۔‘

بھارتی فوج کے سمرتھ پرتاپ کا کردار منو رشی ادا کر رہے ہیں جو اس سے پہلے ’اوئے لکی لکی اوئے،‘ ’پھنس گئے رے اوباما‘ اور ’آنکھوں دیکھی‘ جیسی فلموں میں کام کر چکے ہیں۔

منو کا کہنا ہے: ’ہمیں نہیں لگتا کہ ہماری فلم پر پاکستان میں پابندی عائد کی جائے گی، کیونکہ اس میں پاکستان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تو بس تقسیم کا درد بتاتی ہے، جو بھارت اور پاکستان دونوں ہی جگہوں کے لوگوں نے برداشت کیا۔‘

انھوں نے کہا: ’ویسے تو یہ فلم ایک سنگین مسئلے پر مبنی ہے، لیکن میں نے اپنے کیریئر میں کئی بار کامیڈی کی، اس لیے ہم اس فلم میں بھی کامیڈی ڈالے بغیر رہ نہیں پائے۔‘