’دیکھ دا جاندا رہ‘، صلاح الدین چل بسے

ادیب، شاعر اور معروف فنکار صلاح الدین کی موت کی دعائیہ تقریب منعقد کی گئی
،تصویر کا کیپشنادیب، شاعر اور معروف فنکار صلاح الدین کی موت کی دعائیہ تقریب منعقد کی گئی
    • مصنف, شبیر حسین امام
    • عہدہ, پشاور
  • وقت اشاعت

پشاور شہر ادیب، شاعر، اداکار اور پسِ پردہ آواز کا جادو جگانے والی ایک ہمہ جہت شخصیت سے محروم ہو گیا۔

صلاح الدین نے اُردو، پشتو اور بالخصوص ہندکو زبان میں سٹیج اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

سٹیج، ٹیلی ویژن، فلم کی دنیا کے نامور فنکار صلاح الدین 28 دسمبر کی نصف شب سے چند گھڑیاں قبل وفات پاگئے۔ اُن کی عمر 64 برس تھی۔

مرحوم نے پسماندگان میں دو بیوائیں، تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے سوگوار چھوڑے ہیں۔ سنہ 1968ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے ’فریب‘ سے اداکاری کا آغاز کرنے والے صلاح الدین نے 2500 سے زائد ہندکو ڈراموں میں کام کیا۔

اُنھوں نے سینکڑوں کی تعداد میں پشتو ٹیلی ویژن ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور فنون لطیفہ سے اُن کی بے لوث وابستگی اور فن کی غیرمشروط خدمت کے عوض سنہ 2001 میں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازہ گیا۔

اداکاری کے شعبے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’تمغۂ حسن کارکردگی‘ پانے والے صلاح الدین کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزرے۔

اُن کی پیدائش پشاور کے ایک تاجر گھرانے میں ہوئی اور عملی زندگی کی ابتدا میں انھوں نے ’شادی پیر چوک کریم پورہ بازار‘ میں پارچہ فروشی کا کاروبار بھی کیا۔ اس کے بعد انھیں اپنے کنبے کی کفالت کے لیے مختلف قسم کے کام کرنا پڑے۔

صلاح الدین کا انتقال اتوار کو 64 سال کی عمر میں ہوا
،تصویر کا کیپشنصلاح الدین کا انتقال اتوار کو 64 سال کی عمر میں ہوا

صلاح الدین کے صاحبزادے نواز الدین کا کہنا ہے کہ ’میرے والد دل، گردے اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور اگر اُن کا خاطرخواہ علاج ہوتا تو اُن کی یوں اچانک موت واقع نہ ہوتی، جس نے صرف اہل خانہ ہی کو نہیں بلکہ پورے پشاور کو سوگوار کر چھوڑا ہے۔‘

صلاح الدین کے ہم عصر فنکار جمیل نوشاہی کا کہنا ہے کہ ’صلاح الدین اپنی طبعی موت نہیں مرا بلکہ ہم سب اُس کے قاتل ہیں۔ حکومت فن اور فنکاروں کے لیے ’ثقافت کی سرپرستی‘ کے نام پر ہر سال مالی وسائل مختص کرتی ہے لیکن وہ مالی امداد کے حقیقی مستحق فنکاروں کو نہیں دی جاتی۔‘

خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کے رکن، صوبائی وزیر اور حلقہ انتخاب ’پی کے 2‘ پشاور سے منتخب ہونے والے شوکت علی یوسفزئی پیر کے روز صلاح الدین کے گھر گئے۔ پسماندگان سے ملاقات کی اور فاتحہ خوانی میں حصہ لیا۔ اس موقعے پر مرحوم کے صاحبزادوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’صلاح الدین ایک اچھے انسان اور منجھے ہوئے فنکار تھے، جنھیں اداکاری پر مکمل عبور حاصل تھا۔‘

انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت مرحوم کے پسماندگان کی مالی مدد کرے گی۔

صلاح الدین کے جنازے میں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں، گلوکاروں، اداکاروں اور ہدایت کاروں نے بھی شرکت کی۔

صلاح الدین کے ہم عصر فنکار جمیل نوشاہی کا کہنا ہے کہ ’صلاح الدین اپنی طبعی موت نہیں مرا بلکہ ہم سب اُس کے قاتل ہیں
،تصویر کا کیپشنصلاح الدین کے ہم عصر فنکار جمیل نوشاہی کا کہنا ہے کہ ’صلاح الدین اپنی طبعی موت نہیں مرا بلکہ ہم سب اُس کے قاتل ہیں

فنکار جمیل نوشاہی کے بقول ’صلاح الدین کی موت کسی ایک فنکار کی نہیں ہوئی بلکہ آج کے دن ہم نے ’فن اداکاری‘ کی اپنے ہاتھوں سے تدفین کی ہے۔ وہ اور اُن کی طرح کے کئی فنکار اداکار گلوکار کہ جنھوں نے اپنی پوری زندگی فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کی خدمت کے لیے وقف کیے ناقدری، بے حسی اور ارباب اختیار کے تجاہل عارفانہ کی بھینٹ چڑھ گئے۔‘

صلاح الدین کی وفات سے خیبرپختونخوا کے فنکاروں اور بالخصوص پشاور کے علمی ادبی حلقوں میں بھی صف ماتم بچھ گئی ہے۔ وہ نہ صرف اداکار، گلوکار، صداکار اور پیشکار تھے بلکہ وہ شاعر اور ادیب بھی تھے اور صلاح الدین نے ہندکو ڈرامے کے حوالے سے ایک کتاب بھی تصنیف کی جو اِس موضوع پر شائع ہونے والی واحد مستند کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔

سنہ 1998ء میں انھوں نے پہلا ہندکو سٹیج ڈرامہ کیا جسے نشتر ہال پشاور اور جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں پیش کیا۔

انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ 28 دسمبر کی شب تک صلاح الدین کی مدد کرنے کوئی نہ آیا۔ ایک مرتبہ مجبور ہو کر اُس نے سربازار اپنے 50 سے زائد اعزازات کی نمائش کچھ اِس انداز سے کی کہ فنون لطیفہ سے وابستہ اور ذرا سا بھی ذوق رکھنے والوں کی آنکھیں بھر آئیں۔

معروف فنکار صلاح الدین اپنے اعزازات کے ساتھ فٹ پاتھ پر تمغوں اور اعزازات لے کر بیٹھ گیا اور اُس نے ’اعزازات برائے فروخت‘ کی آوازیں لگانا شروع کر دیں۔ یار دوستوں نے اُسے ذرائع ابلاغ کے دفاتر کا راستہ بتایا لیکن متعدد اخبارات میں اُس کی روداد شائع ہونے کے باوجود صوبائی یا وفاقی محکمہ ثقافت کو رحم نہ آیا۔

انتقال کی خبر اس طرح پہنچائی گئی
،تصویر کا کیپشنانتقال کی خبر اس طرح پہنچائی گئی

یاد رہے کہ صلاح الدین نے سنہ 1977ء میں اداکاری کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور اس دوران متعدد اُردو، پشتو اور ہندکو ڈراموں میں کام کیا تھا جن میں موسم، مٹی اور مشکیزہ اور ’’دیکھ دا جاندا رے‘ بہت مقبول ہوئے۔

’دیکھ دا جاندا رے‘ کے نام سے جب اُنھوں نے ہندکو مزاحیہ ڈراموں میں اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے تو گلی گلی اور گھر گھر مقبول ہوئے۔ ایک سال تک پاکستان ٹیلی ویژن سے چلنے والی مقبول ترین اِس ڈرامہ سیریز میں اُنھوں نے کئی کردار ادا کیے۔