’مائیکل اینجلو کے دو نایاب مجسموں کی نشاندہی‘

19ویں صدی میں بھی ان دونوں مجسموں کو مائیکل اینجلو سے منسوب کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشن19ویں صدی میں بھی ان دونوں مجسموں کو مائیکل اینجلو سے منسوب کیا گیا تھا
وقت اشاعت

برطانیہ میں آرٹ کے ماہرین کے مطابق وہ ممکنہ طور پر مشہور اطالوی مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے بنائے گئے کانسی کے دو مجسموں کی نشاندہی میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یہ دونوں آج کے دور میں موجود اس ماہر مجسمہ ساز کے ہاتھوں تراشے جانے والے کانسی کے آخری دو مجسمے ہیں۔

نشاۃِ ثانیہ کے دور کے اطالوی مجسمہ ساز نے ان ایک میٹر اونچے مجسموں میں دو تنومند بےلباس مردوں کو چیتوں کی سواری کرتے دکھایا ہے۔

16ویں صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے ان مجسموں پر مجسمہ ساز کے دستخط موجود نہیں اور ماضی میں ان کا خالق دیگر غیرمعروف مجسمہ سازوں کو قرار دیا جاتا رہا۔

تاہم اب برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کی زیرِ قیادت ایک عالمی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کی مائیکل اینجلو کے مجسموں کے طور پر تصدیق میں ان کے ایک شاگرد کی 500 سالہ قدیم ڈرائنگ کلیدی سراغ ثابت ہوئی ہے۔

اس مہم میں فٹز ولیم میوزیم کے ماہرین بھی شریک رہے اور یہیں پیر سے ان مجسموں کی نمائش شروع ہو رہی ہے جو اگست تک جاری رہے گی اور اسی دوران جولائی میں ان کے اصل ہونے یا نہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

عجائب گھر میں ایپلائیڈ آرٹس کے شعبے سے تعلق رکھنے والی وکٹوریا اویری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس تاریخ ساز منصوبے کا حصہ بننا شاندار تھا اور کانسی کے یہ مجسمے آرٹ کا انتہائی عمدہ نمونہ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی باریکی سے معائنے کے حقدار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگ آئیں گے اور خود ان کا جائزہ لیں گے اور اس جاری بحث کا حصہ بنیں گے۔‘

19ویں صدی میں ان دونوں مجسموں کو مائیکل اینجلو سے منسوب کیا گیا تھا تاہم کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہونے اور مجسمہ ساز کے دستخطوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے گذشتہ 120 برس میں یہ دعویٰ جھوٹ سمجھا جاتا رہا۔

تاہم گذشتہ برس کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر پال جوائنڈس نے ایک ایسا خاکہ دریافت کیا جس نے اس خیال کو بدل دیا۔

یہ خاکہ مائیکل اینجلو کے ایک شاگرد کی دستاویزات سے ملا جن میں اطالوی مجسمہ ساز کے فن پاروں کی نقول موجود تھیں۔

اس کے بعد کانسی کے مجسموں پر مزید تحقیق سے پتہ چلا کہ ان کی طرز اور انداز مائیکل اینجلو کے سنہ 1500 سے 1510 کے دوران بنائے گئے مجسموں سے ملتا ہے۔

اگرچہ مائیکل اینجلو نے کانسی کے کئی مجسمے بنائے تھے لیکن عام خیال یہی ہے آج کے دور میں ان میں سے کوئی موجود نہیں۔

ان مجسموں میں سے ایک مائیکل اینجلو کے مشہورِ زمانہ ڈیوڈ کے مجسمے کی چھوٹی شکل بھی تھی جو انقلابِ فرانس کے دوران غائب ہوگئی تھی۔