عراقی نژاد خاتون کو فنِ تعمیرات کا طلائی تمغہ

،تصویر کا ذریعہGetty
رائل انسٹیٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس (آر آئی بی اے) نے عراقی نژاد برطانوی خاتون زہا حدید کو تعمیرات کے شعبے میں نمایاں خدمات کے لیے طلائی تمغے سے نوازا ہے۔
وہ پہلی خاتون ہیں جنھیں اس شعبے میں خدمات کے لیے اس اعزاز سے سرفراز کیا گيا ہے۔
زہا حدید نے 2012 کے لندن اولمپکس کے لیے ایکویٹک سینٹر کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ انھوں نے چینی شہر گونگ ژاؤ سے برطانیہ کے گلاسگو شہر تک کئی اہم عمارتیں ڈیزائن کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہafp getty
یہ انعام اس شعبے میں تاحیات گراں قدر خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے ’رائل انسٹیٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس‘ کی جانب سے دیا جاتا ہے اور اور ملکہ برطانیہ خود اس کی منظوری دیتی ہیں۔
ادارے کے صدر جین ڈنکن نے اس موقعے پر زہا حدید کے متعلق کہا کہ وہ آرکیٹیکٹچر میں عالمی سطح پر بہت مضبوط اور اثر انگیز شخصیت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ان کا کہنا تھا: ’وہ زبردست تجرباتی اور سخت محنت کرنے والی ہیں۔ فرنیچر ہو یا عمارتیں، چپل جوتے یا کاریں، ان کا کام صحیح معنوں میں ہی سراہا جاتا ہے اور دنیا بھر کے مختلف برانڈز اور لوگ ان کے ڈیزائن کے خواہاں ہیں۔‘
2012 میں انھیں ملکہ کی جانب سے خصوصی شاہی خطاب ’ڈیم‘ سے نوازا گیا تھا اور حدید اپنی گراں قدر خدمات کے سبب دنیا کے کئی دیگر ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔
2004 میں وہ پریٹزکر آرکیٹیکچر پرائز جیتنے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہpa
زہا حدید کی پرورش عراق میں ہوئی تھی اس کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ برطانیہ آگئی تھیں۔ انھوں نے لندن میں سنہ 1979 میں اپنے پروفیشنل کام کا آغاز کیا تھا۔
سپین کے زاراگوزا میں ان کا ڈیزائن کیا گیا پل، گلاسگو میں ریورسائیڈ میوزیم اور چین کے گوانگ ژاؤ شہر کا اوپیرا ہاؤس ان کے بہترین ڈیزائنوں میں سے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہOther
تاہم اس سال جاپان کی حکومت نے ان کا ڈیزائن کیا گیا اولمپک کے لیے بننے والا سٹیڈیم کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔
دو ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا یہ سٹیڈیم 2020 کے اولمپک کھیلوں کے لیے بنایا جانا تھا لیکن اس تعمیر کی لاگت تخمینے سے تقریباً دگنا تھی اس لیے حکومت نے اپنا منصوبہ بدل دیا۔



















