گلوکارہ لِلی ایلن پولیس کے رویے سے نالاں

برطانوی گلوکارہ لِلی ایلن پر حملہ کرنے والے 30 سالہ شخص ایلکس گرے سے تحقیقات جاری ہیں تاہم اداکارہ کا کہنا ہے کہ پولیس کا ان کے ساتھ ایسا رویہ تھا جیسے وہ مصیبت زدہ نہیں بلکہ پریشانی کا باعث تھیں۔
روزنامہ دی آبزرور سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پولیس نے وہ ثبوت تباہ کر دیے ہیں جو ان کے کیس کو مضبوط کر رہے تھے اور اب انھیں وہ تصاویر بھی نہیں دکھائی جا رہیں جن میں انھیں ایک شخص ہراساں کر رہا ہے۔
ایلکس گرے کو ہیرو کراؤن کورٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی نقب لگانے اور ہراساں کرنے پر مجرم قرار دیا تھا۔
میٹرو پولیٹن پولیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تعاقب کرنا بہت سخت جرم ہے۔
ایلن کہتی ہیں کہ اس طویل مہم نے انھیں تبدیل کر دیا ہے اب وہ خصوصی توجہ نہیں چاہتی فقط دوبارہ سے یقین دہانی اور توثیق چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایلکس گرے نے انھیں سنہ 2009 میں ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے برا بھلا کہنے کا سلسلہ شروع کیا۔ انھوں نے lilyallenRIP کے نام سے ایک اکاؤنٹ بنایا۔
انھوں نے ایلن کو خطوط بھی ارسال کیے جن میں انھیں دھمکیاں دی جاتی تھیں جن کا ریکارڈ بعد میں پولیس کو بھی دیا گیا۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گرے نےگذشتہ برس ایلن کے گھر اور پھر کمرے میں داخل ہونے سے پہلے کئی راتیں ان کے گھر کے باغ میں گزاریں۔ ایلن کے ایک دوست نے انھیں گھر سے نکالا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایلن کہتی ہیں کہ وہ گرے سے نالاں نہیں جنھیں اگلے ماہ سزا سنائی جائے گی۔ کیونکہ وہ ذہنی مریض ہے تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ اس نظام نے انھیں ناکام بنایا ہے اور جب تک گرے کا درست علاج نہیں ہوتا اور صحیح معنوں میں اسے مدد نہیں ملتی ’میں محفوظ نہیں ہوں۔‘
ان کے اس بیان پر پولیس نے کوئی بھی بیان دینے سے انکار کیا ہے۔



















