ڈزنی کے مقابلے میں چین کا وانڈا تھیم پارک

وقت اشاعت

چین کے امیر ترین شخص نے امریکہ کی انٹرٹینمنٹ کمپنی ڈزنی کے مقابلے میں بڑا تفریحی پارک تعمیر کیا ہے۔

جنوب مشرقی شہر نانچنگ میں وانڈا سٹی کے نام سے بننے والے اس پارک میں جھولے، شاپنگ سینٹر، ایکیوریئم شامل ہیں اور اس کو بنانے پر تین ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے۔

اس پارک کے مالک وینگ جیانلن کا کہنا ہےکہ وہ مغربی درآمدات سے آگے بڑھنا اور چینی ثقافت پر مبنی عالمی برینڈ بنانا چاہتے تھے۔

ڈزنی آئندہ ماہ شینگھائی میں اپنا ایک تھیم پارک کھولنے والا ہے۔

اس نئے انٹرٹینمنٹ کمپلیکس میں آٹھ سو ملین ڈالر سے بننے والا چینی تھیم پارک ہے جس میں گھمنے والے ’چینی مٹی کے کپ کی شکل کے جھولوں‘ کے ساتھ ساتھ بانسوں کا جنگل اور شاپنگ مال شامل ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں دنیا کا سب سے بڑا اوشن پارک بھی ہے۔

وینگ جیانلن کا پراپرٹی گروپ وانڈا اس قبل بڑے پیمانے پر فلم اور سینیما کے کاروبار میں بھی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ چینی مارکیٹ سے ڈزنی کو ختم کرکے عالمی انٹرٹینمنٹ برینڈ بننا چاہتے ہیں۔

’ہم چین کے نجی کاروباری شخصیات کے لیے مثال قائم کرنا چاہتے ہیں، اور ہم چینی کمپنیوں کے لیے عالمی برینڈ بنانا چاہتے ہیں۔‘

وینگ جیانلن نے ایک ہفتے قبل چائنا سینٹر ٹیلی وژن کو بتایا کہ ’مکی ماؤس اور ڈونلڈ ڈک کا دور ختم ہو گیا ہے، آنکھیں بند کر کے ڈزنی کے پیچھے چلنے والا زمانہ بھی سالوں پہلے گزر چکا ہے۔‘