پاکستان کے نام پر بھوجپوری فلموں کا کاروبار

وشال کہتے ہیں: ’پاکستان لفظ فلم کے کینوس اور کمائی دونوں کو وسیع کر دیتا ہے۔ آپ دیکھیں میری فلم کامیاب رہی اور اس کے بعد مارکٹ میں پاکستان ٹائٹل والی فلموں کے سیلاب آ گئے‘
،تصویر کا کیپشنوشال کہتے ہیں: ’پاکستان لفظ فلم کے کینوس اور کمائی دونوں کو وسیع کر دیتا ہے۔ آپ دیکھیں میری فلم کامیاب رہی اور اس کے بعد مارکٹ میں پاکستان ٹائٹل والی فلموں کے سیلاب آ گئے‘
    • مصنف, سیٹو تیواری
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے، پٹنہ بہار سے
  • وقت اشاعت

گذشتہ سال سنہ 2015 میں جب بھوجپوری فلم ’پٹنہ سے پاکستان‘ آئی تو کچھ لوگوں کو اس کے نام پر حیرت ہوئی، بعض کے لیے یہ عام بات تھی اور کچھ نے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

لیکن تقریباً ایک سال بعد یعنی مئی سنہ 2016 میں ’لے آيب دلہنیا پاکستان سے‘ ریلیز ہوئی تو قدرے تحقیق کرنے کے بعد پتہ چلا کہ فلم کے نام میں ’پاکستان‘ لفظ کے استعمال کا بھوجپوری فلموں میں فیشن چل پڑا ہے۔

فی الحال ’ترنگا پاکستان میں‘، ’دلہن چاہی پاکستان سے‘، ’الہ آباد سے اسلام آباد‘ اور ’غدر‘ جیسے نام سے بھوجپوری فلمیں بن رہی ہے۔ ان فلموں کی کہانیاں جہاں پاکستان کے ارد گرد بني ہوئی ہیں وہیں فلم کے ڈائیلاگ میں پاکستان کے لیے تلخی بھی گھلی ہوئی ہے۔ مثلا ’پٹنہ سے پاکستان‘ میں ہیرو کہتا ہے: ’لاہور سے گجرے (گزرے)گي گنگا، اسلام آباد کی چھاتی پر لہرائے گا ترنگا۔‘

فلم ترنگا پاکستان میں کا پوسٹر
،تصویر کا کیپشنفلم ترنگا پاکستان میں کا پوسٹر

’ترنگا‘ یعنی تین رنگوں کا انڈین پرچم۔

سینے سوسائٹی پٹنہ کے صدر جے منگل دیو کہتے ہیں: ’گذشتہ دو سالوں میں جس قسم کی قوم پرستی پیدا ہوئی ہے اور بڑے جانور کےگوشت پر معاشرے میں جس طرح کا ماحول تیار ہوا ہے بھوجپوری فلمیں اس کا فائدہ اٹھانے یا اسے کیش کرنے میں لگی ہیں۔‘

بھوجپوری فلم کی تقسیم سے منسلک نشانت بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’پاکستان کے نام پر فلم یعنی منافع کا سودا، یہ بھوجپوری سنیما میں ایک سیٹ فارمولا بن گیا ہے۔ پٹنہ سے پاکستان 3 کروڑ میں بنی، اس نے 6 کروڑ کمائے۔ ’لے آيب دلہنیا پاکستان‘ سے صرف بہار اور جھارکھنڈ میں 50 لاکھ کا کاروبار کرکے اپنے اخراجات نکال چکی ہے۔‘

دلہن چاہی پاکستان سے کا پوسٹر
،تصویر کا کیپشندلہن چاہی پاکستان سے کا پوسٹر

خیال رہے کہ بھوجپوری فلمیں صرف بہار، جھارکھنڈ یا اتر پردیش میں ہی نہیں دیکھی جاتی بلکہ جہاں جہاں بھوجپوری بولنے والے لوگ کام کے سلسلے میں گئے، وہاں بھی ان فلموں کی نمائش ہوتی ہے۔

اپنے 50 سال پورا کرنے والی بھوجپوری فلم انڈسٹری میں ہر سال تقریباً 100 فلمیں بنتی ہیں۔ چھوٹے بجٹ کی زیادہ تر فلموں کا مقصد منافع کمانا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ایک سیٹ فارمولے پر چلتی ہے۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’لے آيب دلہنيا پاکستان سے‘ کے ہیرو وشال کہتے ہیں: ’پاکستان لفظ فلم کے کینوس اور کمائی دونوں کو وسیع کر دیتا ہے۔ آپ دیکھیں میری فلم کامیاب رہی اور اس کے بعد مارکیٹ میں پاکستان ٹائٹل والی فلموں کے سیلاب آ گئے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ گفتگو کے دوران ان فلموں سے منسلک افراد لفظ ’پاکستان‘ سے فائدہ اٹھانے کے سوال کو مسترد کرتے ہیں۔ ’دلہن چاہی پاکستان سے‘ فلم کے ڈائریکٹر راج کمار پانڈے کہتے ہیں کہ وہ خوبصورت لو سٹوری بنا رہے ہیں جس میں صرف محبت کے لیے جگہ ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ کہتے ہیں: ’ہمارے فوجیوں کو مار دیا جاتا ہے۔ وہ بے قصور ہوتے ہیں تو عام لوگوں کا خون بھی کھولتا ہے۔ ایسے میں ان سے تھوڑی نفرت تو ہوتی ہی ہے۔‘

لے آیب دلہنیا پاکستان سے کا پوسٹر
،تصویر کا کیپشنلے آیب دلہنیا پاکستان سے کا پوسٹر

پیارے لال یادو، ’پٹنہ سے پاکستان‘، ’لے آيب دلہنيا پاکستان سے‘، ’دلہن چاہی پاکستان سے‘ کے نغمہ نگار ہیں۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’جس طرح بھارت پاکستان کے میچ کے دن لوگ سب کام چھوڑ کر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دو دشمن کس طرح لڑتے ہیں ویسے ہی پاکستان پر مبنی فلم لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتی ہے اور یہی ہمارے لیے بزنس لے کر آتی ہے۔‘

بزنس کی یہ چاہ، بھوجپوری فلموں میں کس قسم کی ثقافت کو جنم دے رہی ہے اس کے بارے میں حال ہی میں اپنی فلم ’متھلا مكھان‘ کے لیے قومی ایوارڈ سے نوازے جانے والے نتن نیرا چندرا بتاتے ہیں: ’بھوجپوری فلم دیکھنے والے ناظرین نہیں ہیں بلکہ شکار ہیں۔ اس انڈسٹری میں فلموں کی کہانی، نام، چہرے سب بے معنی ہیں۔ بس آپ کو ناظرین کو بے وقوف بنا کر اسے پھانسنا ہے تو آپ پاکستان کا لفظ استعمال کر کے قوم پرستی کے جذبے کو کریدیے پھر ناظرین خود ہی آ جائیں گے، پیسہ آ جائے گا۔‘

بھوجپوری فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سیٹ فارمولے پر چلتی ہے
،تصویر کا کیپشنبھوجپوری فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سیٹ فارمولے پر چلتی ہے

ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کے درمیان پاکستان کے نام پر جنون پیدا کرنے کی کوشش پر کوئی لگام کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب فلم ناقد جے منگل دیو دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہمارے مقامی سینیما میں اس طرح جانچ پڑتال نہیں ہوتی جیسی ہندی فلموں میں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر چہ بھوجپوری سینیما کا بازار بڑا ہے، لیکن اس کا ناظرین بہت بااثر نہیں کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ایسے میں سب کچھ بے لگام ہے۔‘