بگلیہار پروجیکٹ سے حادثات میں اضافہ

ڈوڈہ حادثہ
،تصویر کا کیپشنحادثے میں دس مسافر شدید زخمی ہوئے ہیں۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کشمیر
  • وقت اشاعت

جنوبی کشمیر کے ڈوڈہ خطے میں دریائے چناب کے کنارے واقع عَسَر گاؤں کے قریب سوموار کو رونما ہوئے ایک بس حادثہ میں پولیس کے مطابق کم از کم پچیس افراد ہلاک اور دس مسافر شدید زخمی ہوگئے۔تاہم غیر سرکاری ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد پینتیس ہوگئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈوڈہ سے جموں جانے والی ایک مسافر بس عَسَر کے مقام پر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگئی اور پانچ سو فٹ گہرے نالے میں جاگری۔ فوج ، پولیس اور مقامی آبادی نے فوری طور امدادی کارروائی شروع کر دی۔ زخمیوں کو جموں کے جی ایم سی ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خطے میں دریائے چناب کے کنارے قائم بگلیہار پن بجلی پروجیکٹ کی وجہ سے دریا میں پانی کا دباؤ بڑھ گیا ہے جس نے سڑک کو کئی مقامات پر نقصان پہنچایا ہے۔

ڈوڈہ کے ممبر اسمبلی عبدالمجید وانی کا کہنا ہے کہ بگلہار بجلی پروجیکٹ کی وجہ یہ پوری شاہراہ جان لیوا بن گئی ہے کیونکہ پانی کے دباؤ سے سڑک کے کنارے مسلسل کٹاؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو بھی یہ احساس ہے۔ اسی لیے وزارت جنگلات نے کیچمنٹ ایریا ٹریٹمنٹ ڈویژن نام سے ایک ادارہ بنایا ہے اور بٹوٹ سے ڈوڈہ تک کی ساٹھ کلومیٹر مسافت کے لیے متبادل شاہراہوں کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے‘۔ گیا۔'

مسٹر وانی کے مطابق اس سڑک کو محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ نے پہلے ہی آمدروفت کے لیے باضابطہ طور غیرمحفوظ قرار دیا ہے جب کہ پچھلے پانچ ماہ کے دوران اس سڑک پر رونما ہونے والے مختلف حادثوں میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔