دلی: سکول میں بھگدڑ، پانچ طالبات ہلاک

- مصنف, نتن شریواستو
- عہدہ, بی بی سی، دلی
- وقت اشاعت
ہندوستان کے دارالحکومت دلی کے ایک سرکاری سکول میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے پانچ طالبات ہلاک ہوگئی ہيں جس کے سبب علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق اس حادثے ميں 24 بچے زخمی ہیں جن میں سے چار کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
گیارویں کلاس کی سٹوڈنٹ افروز کی والدہ نے اسپتال کے باہر روتے ہوئے کہا ' افروز روزے رکھ رہی تھی اور اب اسپتال والے کہہ رہے ہیں کہ اس کا پوسٹمارٹم کریں گے۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ یہ ہو۔ ہمارا پہلے ہی سب کچھ کھو چکاہے۔'
جس سکول میں یہ حادثہ پیش آیا ہے وہ شہر کے مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ دلی ميں بدھ کی رات سے مسلسل بارش ہو رہی ہے اور جمعرات کی صبح سکول میں یہ افواہ اڑ گئی کہ احاطے ميں جمع پانی میں بجلی کا کرنٹ آ گیا ہے۔
اس کے بعد ٹیچرز نے طالبات کو کمرے خالی کرنے کو کہا جس کے بعد طالبات میں باہر نکلنے کے لیے ہلچل مچ گئی۔ دروازہ چھوٹا ہونے کے سبب طالبات میں دھکا مکی ہوئی اور بھگدڑ مچ گئی جس کے سبب پانچ طالبات ہلاک ہوگئیں۔
وہیں دلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جے پرکاش اگروال نے اسپتال ميں زخمیوں سے ملاقات کے بعد بی بی سی کو حادثے کی وجہ کے بارے ميں بتایا ' دو طرح کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں، پہلی تو یہ کہ یہ سب کرنٹ کی وجہ سے ہوا ، وہيں دوسری جانب یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ پرامتحان ہونے کے سبب پرنسپل نے لڑکوں کو لڑکیوں کے ساتھ ایک ہی کلاس میں بیٹھنے ای اجازت دے دی اور وہاں پر بد مزگی ہو گئی اور جھگڑا ہوا ، جس کے بعد وہاں بھگدڑ مچ گئی ۔ لیکن اب تو پولیس ہی معاملے کی تفتیش کرے گی اور بتائے گی کہ سچائی کیا ہے۔'
زخمیوں کو نزدیکی گرو تیغ بہادر ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جبکہ ریاستی حکومت نے حادثے کی تفتیش کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ دلی کی وزيراعلی شیلا دکشت بھی زخمیوں سے ملاقات کرنے کے لیے اسپتال پہنچ گئی ہیں۔
وزیر اعلی نے ہلاک اوئی طالبات کے لواحقین کو ایک – ایک لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیلہ دکشت نے کہا ہے کہ ابھی ایسا نہيں لگتا کہ سکول کی جانب سے کوئی غلطی ہوئی لیکن اس کی جانچ کی جائے گی۔



















