کشمیر، تحریک اور لیڈروں کی شادیاں

لوگوں نے خود سڑکوں پر آکر مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ شادی وادی تو ٹھیک ہے کہیں تحریک کو نہ بھول جانا: یٰسین ملک
،تصویر کا کیپشنلوگوں نے خود سڑکوں پر آکر مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ شادی وادی تو ٹھیک ہے کہیں تحریک کو نہ بھول جانا: یٰسین ملک
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

کشمیر کی مسلح شورش کے بانیوں میں شمار ہونے والے محمد یٰسین ملک جب پاکستان سے دُلہن لے کر سرینگر لوٹے تو انہوں نے پرتپاک استقبال کے دوران کہا: ’دی موومنٹ اِز مائی فسٹ لَو‘، یعنی کشمیر کی تحریک میری پہلی محبّت ہے۔ اس طرح یٰسین نے واضح کیا کہ پاکستان کی معروف مُصّورہ اور فنکار مُشال ملِک ان کی ’دوسری محبّت‘ ہیں۔ مُشال قائد اعظم یونیورسٹی کے سابق سربراہ مرحوم حسن احمد ملک کی بیٹی ہیں اور لندن سکول آف اکنامکس میں فن اور مُصّوری کی طالبہ ہیں۔

پچھلے بیس سال میں یٰسین ملک سمیت تین بڑے علیحدگی پسند لیڈروں نے پاکستان یا امریکی خواتین کے ساتھ شادیاں کی ہیں۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے کشمیری نژاد امریکی خاتون شیبا مسعودی جبکہ پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد غنی لون نے پاکستانی کشمیر کے رہنما امان اللہ خان کی بیٹی اسما خان کے ساتھ ازدواجی رشتہ باندھا ہے۔

دیگر معروف علیحدگی پسندوں نے کشمیر میں ہی شادیاں کی ہیں تاہم متعدد ایسے تحریکی رہنما ہیں جو پینتالیس سے ساٹھ برس تک کی عمر کو پہنچے ہیں لیکن ابھی تک شادی نہیں کی۔ جیل سے رہائی اور شدت پسندی سے کنارہ کش ہونے کے بعد جن نوجوان علیحدگی پسندوں نے شادیاں کیں ان میں پیپلز لیگ کے نعیم احمد خان، حزب اللہ کے سابق چیف کمانڈر آفتاب احمد عرف شاہد الاسلام، لبریشن فرنٹ کے سابق ڈپٹی چیف کمانڈر جاوید احمد میر، حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر عمران راہی اور فاروق ماموسی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ واضح رہے حزب المجاہدین کے اکثر سینیئر کمانڈر شادی شدہ ہیں اور بعض نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہیں۔

کیا کسی خطے میں جاری علیحدگی پسند تحریک کے قائدین کے لیےشادی ان کے مؤقف میں کمزوری یا سرینڈر کا باعث بنتی ہے؟ اس سوال پر مختلف علیحدگی پسند رہنما مختلف رائے رکھتے ہیں۔

اعظم انقلابی
،تصویر کا کیپشنشادی تو مذہبی اور سماجی فریضہ ہے اس سے تحریک کمزور نہیں ہوتی: اعظم انقلابی

باسٹھ سالہ سابق شدت پسند کمانڈر محمد الطاف خان عرف محمد اعظم انقلابی زیر زمین سرگرمیوں، بار بار سرحد پار کرنے کا سفر، گرفتاریوں اور غربت کو ان کی شادی میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں: ’یہ تو مذہبی اور سماجی فریضہ ہے۔ اس سے تحریک کمزور نہیں ہوتی۔ اگر کسی شخص میں تحریک کے لیے خالص جذبہ ہو تو وہ شادی کے بعد ہی زیادہ فعال اور مؤثر ہوجائے گا۔ تاریخ میں مثالیں ہیں۔ فلسطین اور افغانستان کے مجاہدین نے تو شادیاں کیں، ان کا مقصد کمزور کیوں نہیں ہوا۔‘

لیکن چھیالیس سالہ سینیئر علیحدگی پسند رہنما شکیل احمد بخشی، جو ابھی تک کنوارے ہیں، سمجھتے ہیں کہ جب کوئی ہمہ وقتی مزاحمت کار شادی کرتا ہے تو گرہستی کے جھمیلے اسے تحریک کے بارے میں سوچنے کا موقع فراہم نہیں کرتے اور وہ تحریک کے لیے ایک ’پارٹ ٹائم ورکر‘ بن کے رہ جاتا ہے۔ شکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی یہ عہد نہیں کیا کہ وہ شادی نہیں کرینگے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ شادی کرکے وہ بیوی بچوں کی فکر میں گُم ہوکر ’اصل‘ کام سے غافل ہوجائیں گے۔

مسلح شورش کے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے شکیل کہتے ہیں ’مجھے یاد ہے جب شبیر احمد شاہ اور یٰسین ملک سے کہا جاتا تھا کہ وہ شادی کیوں نہیں کرتے تو یٰسین کہتے تھے کہ میں نے تحریک آزادی کے ساتھ شادی کی ہے اور شبیر شاہ کہتے تھے کہ ان کی ماں (کشمیر) جب تک غلام ہے وہ شادی کیسے کرسکتے ہیں۔‘

شکیل کے مطابق جب شبیر شاہ نے جنوبی خطہ ڈوڈہ کی ڈاکٹر بلقیس کے ساتھ شادی کرلی اور کسی نے انہیں ان کا بیان یاد دلایا تو انہوں نے برجستہ کہا ’میں ماں کےلیے بہو لایا ہوں‘۔

تاہم یٰسین ملک نے اپنی شادی سے متعلق محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پاکستان میں مُشال ملک کے ساتھ شادی کے بعد جب وہ سات ستمبر کو یہاں لوٹے تو سینکڑوں لوگوں نے دونوں کا استقبال کیا۔ یٰسین نے اس استقبال کو عوام کی طرف سے ’ویک اپ کال‘ یعنی بیدار کرنے والی آواز سے تعبیر کیا اور کہا ’لوگوں نے خود سڑکوں پر آکر مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ شادی وادی تو ٹھیک ہے کہیں تحریک کو نہ بھول جانا۔ لیکن میں ان سے کہتا ہوں کہ تحریک آزادی میری پہلی محبّت ہے۔‘

حزب اللہ نامی شدت پسند گروپ کے سابق چیف کمانڈر مشتاق الاسلام بھی ابھی تک کنوارے ہیں۔ سینتالیس سالہ مشتاق الاسلام کہتے ہیں ’شادی سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ البتہ جولوگ مزاحمت میں ہوں انہیں چاہیے کہ ہم خیال عورت کے ساتھ نکاح کرلیں جو انہیں بھارت کے خلاف جدوجہد سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور نہ کرے۔‘

افسوس ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے لیڈروں کی شادیاں اخباروں کی زینت بن گئی ہیں: پروفیسر نعیمہ
،تصویر کا کیپشنافسوس ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے لیڈروں کی شادیاں اخباروں کی زینت بن گئی ہیں: پروفیسر نعیمہ

چند سال قبل جب تصادم میں ہلاک ہوئے مسلح شدت پسندوں کی بیوائیں در در بھٹکنے لگیں تو علیحدگی پسند حلقوں میں یہ بحث چِھڑ گئی کہ تحریک کے ساتھ وابستہ غیر شادی شدہ نوجوانوں کو ان ہی بیواؤں کو اپنانا چاہیے۔ لبریشن فرنٹ کے سابق شدت پسند محمد اشرف ڈار ایسے ہی مُٹھی بھر سابق شدت پسندوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے سے بڑی عمر والی بیوہ کے ساتھ شادی کرکے مثال قائم کی۔ اشرف نے لبریشن فرنٹ کے ہی ایک کمانڈر کی بیوہ کو تین بچوں سمیت اپنا لیا۔ دونوں خوشحال ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔

تحریک سے وابستہ افراد کی شادیوں کے سلسلے میں شکیل بخشی کہتے ہیں ’ایسے افراد کی شادی صرف مرضی کا ہی معاملہ نہیں۔ بہت سارے لڑکوں کو ٹارچر کے دوران شادی کے لائق نہیں چھوڑا گیا۔ پوشیدہ اعضاء میں ایک تار داخل کی جاتی تھی اور اسکے بعد کرنٹ لگایا جاتا تھا۔ آج بھی سینکڑوں لڑکے ہیں جو شادی کرنے کے لائق نہیں رہے۔‘

حریت کانفرنس سربراہ میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس کے صوبائی صدر نعیم احمد خان نے اُنیس سو چھیانوے میں کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر حمیدہ کے ساتھ شادی کی۔ اُن دنوں پولیس کو نعیم کی تلاش تھی اور ان پر الزام تھا کہ وہ حکومت کے خلاف لوگوں کو بغاوت پر اُکساتے ہیں۔

پروفیسر حمیدہ نعیم علیٰحدگی پسندوں کی شادیوں سے متعلق کہتی ہیں ’شادی تو ایک نجی فیصلہ ہے اور اسے سادگی سے انجام دینا بہتر ہے۔ اور پھر جب معاملہ لیڈر کا ہو تو زیادہ ہی سادگی کا اہتمام ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے لیڈروں کی شادیاں اخباروں کی زینت بن گئی ہیں۔ یہ ہائپ (مبالغہ) غیر ضروری ہے۔ نعیم صاحب کے ساتھ میری شادی صرف چار افراد کی موجودگی میں ہوئی اور اس کے بارے میں اخبارات اور ٹیلی ویژن پر خبروں کے بلیٹن نشر نہیں ہوئے۔‘