ہم جنس پرستی:’حکومت فیصلے کی مخالف نہیں‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنایک اہم فیصلے میں ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیا تھا۔
وقت اشاعت

ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کے درمیان جنسی رشتوں کے جائز قرار دیے جانے کے بارے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گی اور اس معاملے پر سپریم کورٹ کو جو بھی فیصلہ لینا ہے اس کے لیے اٹارنی جنرل ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

حکومت نے یہ فیصلہ جمعرات کو کابینہ کے اجلاس میں کیا ہے۔

کابینہ کے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے اطلاعات اور نشریات کی وزیر امبیکا سونی نے کہا ’ہم جنس پرستوں کے درمیان جنسی رشتوں کو جائز قرار دیے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ اٹارنی جنرل سے جو بھی مدد چاہتی ہے وہ مدد دی جائے گی۔‘

اطلاعات کے مطابق کابینہ کے تین وزراء پر مشتمل ایک گروپ نے حکومت کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہ کرے۔

واضح رہے کہ دلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔ سی پی آئی ایم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا جبکہ دیگر جماعتوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔

دلی ہائی کورٹ نےدو جولائی کو اپنے فیصلےمیں ہم جنسوں کے درمیان جنسی رشتے کو جائز قرار دیا تھا۔ دلی ہائیکورٹ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دفعہ شخصی آزادی کے منافی ہے جس کی آئین ضمانت دیتا ہے۔ اس دفعہ کے تحت مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق ہی جائز جنسی فعل مانا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا جہاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور دیگر سماجی کارکنان نے خیرمقدم کیا تھا وہیں بعض مذہبی لیڈرز نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔

دلی کے معروف نجومی سریش کمار کوشل نےسپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں سماج کے اکثریتی طبقے کےجذبات و خیالات کو مدنظر نہیں رکھا۔ اس کے علاوہ ایک مذہبی گروپ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کی تھی۔ ان عرضداشت کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا تھا کہ اس معاملے پر حکومت اپنا موقف دے۔

اپیل کی ابتدائی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالا کرشنن نے کہا کہ ’ اگر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی عبوری حکم جاری کرنا ضروری بھی ہوا تو سبھی فریقین کے موقف کو سننے کے بعد ایسا کیا جائے گا۔‘ اس معاملے میں ہم جنس پرستی کے لیے کام کرنے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم ناز فاؤنڈیشن کو بھی نوٹس جاری کیا ہے جس نے دلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، عیسائیوں اور ہندوؤں کے مذہبی رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر نکتہ چینی بھی کی۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مولانا جلال الدین عمری نے کہا تھا کہ ’یہ تمام ہندوستانیوں کے مزاج اور مذاہب کے خلاف ہے۔ ہم جنس پرستی سے سماج میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں واضح قانون وضع کرے۔ دوسرے مذہبی رہنماؤں کا بھی کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ میں وہ موقف سامنے رکھے جس کی نمائندگی عام سماج کی طرف سے ہوتی ہو۔