ذرائع ابلاغ کی ’جنگ‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ہند- چین کشیدگی کہ خبریں بے بنیاد ہیں۔
    • مصنف, امت بروا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دلی
  • وقت اشاعت

اس وقت ہندوستان اور چین کے رشتوں کا ایک عجیب و غریب دور دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اگر آپ ہندوستان کے کسی ٹی وی چینل کو دیکھیں اور چینی امور کے ماہرین کی رائے پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کاگلا کاٹنے کےدر پر ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ انڈو تبت بارڈر فورس کے دو سپاہیوں کے چینی افواج کے ہاتھوں زخمی ہونےاور چینی فضائیہ کی بھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی خبریں زور شور سے سنا رہا ہے۔

بھارت کی وزارت خارجہ، بارڈر سیکورٹی فورس اورحتکہ بھارتی فضائیہ بھی اس کی کئی بار تردید کر چکی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ سرحد پر نہ تو کوئی تناؤ ہے اور نہ ہی ہندوستانی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

بھارتی میڈیا میں چینی فوج کی جانب سے ’دراندازی‘ کی خبریں مسلسل نشر کی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارتی میڈیا میں چینی فوج کی جانب سے ’دراندازی‘ کی خبریں مسلسل نشر کی جا رہی ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے انڈو تبت بارڈر فورس کے دو سپاہیوں کے ہلاک ہونے کی خبر پر اپنا ردعمل ایسے دیا:’میں نے اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ ہاں، میں نے یہ ضرور دیکھا ہے کہ بھارتی میڈیا حال میں کچھ بے بنیاد اطلاعات دے رہا ہے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔‘

لیکن ان حکومتی بیانات سے بھارتی میڈیا کا وہ طبقہ بالکل متاثر نہیں ہے جسےصرف اپنی مقبولیت بڑھانے کی فکر ہے اور اپنے اسی مقصد کے لیے چین مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھائے جا رہا ہے۔ چین مخالف کہانیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا’دونوں ممالک کے درمیان زمینی سطح پر کچھ نہیں بدلا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا رویہ سمجھ سے بالا تر ہے۔‘

چین ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ممالک پچاس ارب ڈالر کی تجارت کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کئی دہائیوں پرانے سرحدی تنازعے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔

1976 کے بعد سے بھارت چین سرحد کے پاس کسی بھی ہلاکت کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا۔ لیکن بہت سارے بھارتی 1962 کی چین بھارت جنگ کو آج بھی نہیں بھول پائے ہیں جسے میں چین نے بھارت کو زبردست شکست سے دوچار کیا تھا۔ کچھ بااثر جرنیل اور سفارت اب بھی چین کا حساب چکانے کے خواہاں ہیں۔

بھارت اور چین کےمستحکم رشتوں کو پھر خطرہ پیدا ہو رہا ہے اور حکومتوں کی جانب سے نہیں بلکہ بعض ٹی وی چینلز اور ذرائع ابلاغ سے۔ اگر بعض پرائیوٹ میڈیا چین کے بارے میں سخت رویہ رکھے ہوئے تو چینی میڈیا بھی پیچھے نہیں ہے۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں جون میں ایک آرٹیکل شا‏ئع ہوا تھا جس میں لکھا تھا’ بھارت اپنی ترقی پر اترا رہا ہے لیکن وہ اس بات پر بھی فکر مند ہے کہ چین نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہندوستان چین کو ایسے حریف کے طور پر دیکھتا ہے جسے اس نے پیچھے چھوڑنا ہے۔

قومی اخبارات کے ایڈیٹرز سے بات کرتے ہوئے بھارت کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ پریس کو اس طرح کا رویہ دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ایسا لگتا نہیں کہ میڈیا کا وہ طبقہ جو یہ ہیجان پھیلا رہا ہے وہ اس اہلکار کی بات پر عمل کرے گا۔