بٹلہ ہاؤس: عدالتی تفتیش کا مطالبہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبٹلہ ہاؤس کے عوام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بٹلہ ہاؤس تصادم معاملے کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کررہے ہیں۔
    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

’ہمارے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔ میرا بیٹا بے گناہ ہے۔ وہ ایسا کرہی نہیں سکتا۔ وہ تو پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہے وہ ایسا ہرگز نہیں کرسکتا‘، یہ الفاظ ہیں سکینہ بیگم کہ جو اپنے بیٹے ضیاء الرحمن کے بارے میں ہر شخص سے یہی کہتی ہے کہ انکا بیٹا بے گناہ ہے اور دلی پولیس نے بلا وجہ اسے ایک برس سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بیس سالہ طالب علم ضیاء الرحمن کو دلی پولیس نے گزشتہ برس دلی اور ملک کے مختلف مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ساتھ دو اور نوجوان ساقب نثار اور شکیل احمد بھی ایک سال سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ یہ گرفتاریاں دلی پولیس نے اب سے ایک برس پہلے شدت پسندی پر بڑی کامیابی کا دعوی کرتے ہوئے بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلے کے بعد کی تھیں۔ تصادم میں دو مبینہ شدت پسند عاطف امین اور محمد ساجد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کی کارروائی کے دوران تین نوجوان لڑکوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس تصادم میں دلی پولیس کے ایک انسپکٹر موہن چند شرما بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ تصادم کے بعد پولیس نے دعوی کیا تھا کہ اس نے ہندوستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین کے سرغنہ کو ہلاک کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس واقعہ کو شدت پسندی پر ایک بڑی کامیابی مانا گیا تھا وہیں انسانی حقوق کی تنظیمیوں اور بٹلہ ہاؤس کے رہائشیوں نے سوالات اٹھائے تھے۔ انسان حقوق کی تنظیمیوں کا کہنا ہے کہ تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی غسل کے وقت فوٹوگرافس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عاطف امین کی پیٹھ چھلی ہوئی تھی اور ساجد کے سر پر گولیاں لگی تھیں، تو اگر یہ تصادم صحیح تھا تو ایسا کیوں؟ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر تصادم صحیح تھا تو حکومت معاملے کی عدالتی تفتیش سے کیوں گریز کر رہی ہے ۔

تصادم کے بعد ایک برس سے انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت سے معاملے کی تفتیش کرانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت نے تفتیش نہیں کرائی، این آچ آر سی یعنی انسانی حقوق کے کمیشن نے پولیس کو کلین چٹ دے دی کہ تصادم میں پولیس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی اور ہائی کورٹ نے کہا کہ معاملہ کی آگے تفتیش نہ کی جائے۔

تصادم میں ہلاک اور گرفتار ہونے والوں کے حق کے لیے لڑنے والے جامعہ ٹیچرز سولیڈیرٹی گروپ کی صدر منیشا سیٹھی کا کہنا ہے کہ ’ایک برس سے جن سوالات کو ہم اٹھا رہے ہیں وہ ابھی بھی اپنی جگہ ہیں۔ اس معاملہ کی عدالتی تفتیش نہیں ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے تفتیش کی لیکن وہ یکطرفہ تفتیش ہے۔ کمیشن نے پولیس کی بات سن کر رپورٹ بنادی اور ایک بار بھی متاثرین سے بات نہیں کی۔‘

انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے اس پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا لیکن کمیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ معاملے کی جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اسے کمیشن کا فیصلہ مانا جائے۔ تفتیش پر سوال اٹھانے والوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سوال اٹھانے والوں کو شاید نہیں پتہ کہ کمیشن کس طرح سے کام کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ ’ہائی کورٹ نے این ایچ آر سی کی رپورٹ کے معاملے کی آگے تفتیش نہ کرانے کے لیے اس لیے کہہ دیا کہ کمیشن میں جو لوگ اہم عہدوں پر ہیں وہ ریٹائیرڈ جج ہیں اور ان کی بات وہ شاید نہیں ٹالنا چاہتے تھے۔‘

لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پولیس اگر یہ کہتی ہے کہ تصادم صحیح تھا تو معاملے کی عدالتی تفتیش کرائی جانی چاہیے۔

انکا کہنا ہے کہ این ایچ آر سی کے اصول و ضوابط یہ کہتے ہیں کہ پولیس مقابلے کی عدالتی تفتیش ہونی چاہیے لیکن بٹلہ ہاؤس معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے۔

تصادم میں مارے گئے مبینہ شدت پسند عاطف امین کے والد کا کہنا ہے ’وہ میرے بیٹے کو اٹھاکر لے گئے۔ اسے مار دیا گیا اور کہہ دیا کہ وہ ایک شدت پسند تھا۔ اگر وہ واقعی شدت پسند تھا تو تفتیش سے کیوں بچ رہے ہیں۔ کم سے کم ہمیں تسلی تو ہو۔ پتہ نہیں پولیس کسے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔‘

تصادم کے بعد گرفتار ہونے والے تین طلباء گزشتہ ایک سال سے پولیس اور عدالتی تحویل میں ہیں۔ ضمانت کی عرضی کی باوجود انہیں ضمانت نہیں ملی ہے ایسے میں انکے پاس قانونی راستہ کیا ہے۔ نامور وکیل کامنی جیسوال کا کہنا ہے: ’ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 21 ہر شخص کو یہ حق دیتا ہے کو وہ تیزی سے سماعت کے لیے عرضی دے اور یہ حق غیر ملکی افراد کے لیے بھی ہے۔ اگر ان طلباء کو ضمانت نہیں مل رہی ہے تو ہائی کورٹ جائیں یا سپریم کورٹ۔‘

بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلے کا معاملہ ایک ایسے وقت میں ہوا تھاجب ریاست اور مرکز دونوں میں کانگریس کی حکومت تھی۔ حکومت کی معاملے کی عدالتی تفتیش نہ کرانے کی وجہ کیا ہے۔

وزیر مملکت برائے اقلیتی امور اور کارپوریٹ افئیرز سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ حکومت معاملے کی عدالتی تفتیش کرانے سے ہچکچا نہیں رہی ہے۔ این ایچ آر سی کی رپورٹ آئی ہے۔ اس سے سب لوگ خوش نہیں ہیں۔ رپورٹ وزارت داخلہ اور حکومت کے سامنے ہے اس پر غور کرکے کوئی کارروائی کی جائے گی۔‘

جامعہ ٹیچرز سولیڈیرٹی گروپ کی صدر منیشا سیٹھی کا کہنا ہے عشرت جہاں اور سہراب الدین معاملے پر کانگریس گجرات حکومت پر زبردست تنقید کر رہی ہے لیکن خود بٹلہ ہاؤس معاملے کی تفتیش سے کیوں کترا رہی ہے۔

بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلے کے بارے میں میڈیا اور حکومت کے رویے پر تنقید ہوئی ہے ہے اور ماہرین نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی آزادانہ عدالتی تفتیش نہ کرانے سے ایسا لگتا ہے کہ آج بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ لا کمیشن کے ممبر اور اقلیتی امور کے ماہر طاہر محمد کا کہنا ہے کہ ’بٹلہ ہاؤس معاملے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ پانی سر سے اوپر اٹھ چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان میں پولیس نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ ہمارے یہاں پولیس کا نظام انگریزوں کے دور والا ہے جب داروغہ کے ہاتھ میں لاٹھی اور ڈنڈے ہوا کرتے تھے، اب اس کی جگہ بندوقوں نے لے لی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پولیس ریفارم کرے۔‘

بٹلہ ہاؤس تصادم پہلا ایسا معاملہ نہیں ہے جس میں پولیس اور حکومت کی نیت پر شک کیا گیا ہوا۔ ہندوستان میں اس سے پہلے انسل پلازہ تصادم، اور حال ہی میں گجرات میں دو ہزار چار میں سہراب الدین اور عشرت جہاں کے تصادم کے فرضی ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایسے میں بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلے کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کرنے والوں کو یقین ہے کہ ایک دن حکومت اس معاملے کی تہہ تک جانے کی کوشش کرے گی ۔