کارپوریٹ سیاست اور مہاراشٹر انتخابات

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
- وقت اشاعت
سیاست میں کارپوریٹباپ کا پیشہ اور اس کی وراثت بیٹا سنبھالتا ہے اور یہ پیڑھی دو پیڑھی چلا آتا تھا کچھ عرصہ سے نئی نسل اور نوجوانوں کی سوچ نے اسے بدل دیا تھا البتہ سیاست میں اب کارپوریٹ کلچر گھس آیا ہے۔ ہر لیڈر چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی بیٹی ، بیوی یا پھر اس کا کوئی قریبی رشتہ دار سیاست میں ضرور داخل ہوں اور وہ پارٹی سے انہیں ٹکٹ دلانا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں یہ کلچر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست کے قدآور لیڈران اس میں سر فہرست ہیں۔ ولاس راؤ دیش مکھ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے امیت کو لاتور سے ٹکٹ دیا جائے۔ مرکزی وزیر توانائی سشیل کمار شندے اپنی بیٹی پرنیتی کے لیے ٹکٹ کے خواہشمند ہیں تو وہیں ممبر پارلیمنٹ گروداس کامت اپنے بھانجے سمیر دلوی کو الیکشن لڑانا چاہتے ہیں۔ صحیح ہے اقتدار کا نشہ اتنا سر چڑھ کر بولتا ہے کہ کوئی بھی اسے اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔ ویسے اب یہ کلچر کانگریس میں نہرو خاندان ہی نہیں ہر سیاسی جماعت اور ہر لیڈر میں پنپنے لگا ہے۔ صدر جمہوریہ پاٹل کے بیٹے کو ٹکٹ
صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹل کے بیٹے راجیندر عرف راؤ صاحب شیخاوت کو مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے لیے امراؤتی سے ٹکٹ دے دیا گیا۔ کانگریس نے بدھ کی شام جب اپنے ایک سو انسٹھ امیدواروں کی فہرست کا اعلان کیا تو ان میں راؤ صاحب شیخاوت ایسا نام تھا جو ٹی وی چینلز کی سرخیاں تو بنا ہی لیکن ساتھ ہی کانگریس کے سینئر لیڈر سنیل دیش مکھ کو بغاوت پر آمادہ کر گیا۔ دیش مکھ اس وقت مہاراشٹر میں وزیر مملکت برائے مالیات کے عہدے پر فائز ہیں۔ دس برسوں سے وہ اپنےحلقے سے الیکشن لڑتے آئے ہیں جہاں سے اب انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ویسے اب دیش مکھ کو یہ تو سمجھ ہی جانا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا ہے کیونکہ وہ اتنے طویل عرصہ سے سیاست میں ہیں۔
جمہوریت ہے بھئی جمہوریت
یہ جمہوریت کی ہی دین ہے جس کی وجہ سے جیل کے سلاخوں کے پیچھے سے ایک مافیا ڈان اور ایک ملزم الیکشن لڑ سکتا ہے۔ ممبئی کے سابق مافیا سرغنہ ارون گاؤلی ایک بار پھر الیکشن کے میدان میں اترے ہیں۔ ویسے وہ اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے سزا کاٹ رہے ہیں لیکن انتخابی میدان میں ان کی بیٹی ان کی بھابھی اور ان کی بیوی ان کے لیے الیکشن لڑیں گی۔ مافیا سرغنہ چھوٹا راجن کے بھائی دیپک نکھالجے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی سیاست کے اس اکھاڑے میں قسمت آزمائی کرنے اترے ہیں ویسے ان کے خلاف بھی پولیس میں آٹھ مقدمات درج ہیں لیکن جب جیل کی سلاخیں الیکشن لڑنے سے روک نہیں سکتیں تو پھر آٹھ مقدمات کیا معنی رکھتے ہیں؟















