ماؤنواز رہنما کا موقف

ہندوستان میں ماؤنواز تحریک کے ایک اہم رہنما کوباڈ گاندھی کو حال ہی میں پولیس نے دلی میں گرفتار کیا ہے۔ کوباد گاندھی نکسلی تحریک کے ترقیاتی پروگرامز اورمیڈیا شعبہ کے انچارج رہ چکے ہیں۔
ان کی گرفتاری سے پہلے بی بی سی بنگلہ سروس کے شبھوجیت بگچی نے ان سے ایک خاص ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے اپنی تحریک کے متعلق اہم باتوں کا خلاصہ کیا تھا۔
کوباڈ گاندھی کا کہنا تھا کہ بستر علاقے میں انہوں نے غریب قبائیلیوں کی بنیادی تعلیم اور ان کی صحت کے لیے بہت کام کیے ہیں جسے زمینی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے اس کی تعریف بھی کی ہے۔
ان سے جواب ترقیاتی پروگرامز کے حوالے سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ تشدد کے راستے کے بجائے لوگوں کی زندگی کے لیے کام کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا ' سادہ زبان میں ہاں لیکن وزیراعظم کی زبان میں ہماری تعریف ایک خطرناک وائرس ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ ماؤنوازں کے نکتہ نظر میں ترقی کی کا نظریہ بالکل سادہ ہے۔' ہمارے خیال سے سماج کچھ جاگیردارنہ اور کچھ کلونیل ہے اور جمہوریت کے فروغ کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کا پہلا زینہ اراضی کی تقسیم ہے لیکن حکومت اس کی مخالف ہے بلکہ ہمیں تو یہ پتا ہے کہ بستر کے علاقے میں کان کنی کے لیے بیس اور کمپنیاں آنے والی ہیں۔ تو محتصرا یہ لڑائی زمین کے قبضے کے خلاف ہے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔'
ایک سوال کے جواب میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ حکومت بھی غریبوں کی ترقی کے لیے ایسی ہی باتیں کرتی ہے لیکن وہ ان کا نفاذ نہیں کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ عزت و قار اور براری کی بات کرتے ہیں اس لیے بعض خاص علاقوں میں ان کا اثر و نفوض کافی ہے۔
ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ماؤنواز لوگوں کو زبردستی ہتھیار اٹھانے کے لیے مجبور کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کچھ لوگ زبردستی اپنے نظریہ کو دوسرے لاکھوں لوگوں پر مسلط کرسکیں۔' میں آپ کو بتاتا چلوں کہ نکسلیوں کی ملٹری طاقت کو بتانے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔'
ان سے جب یہ پوچھاگیا کہ کیا یہ درست نہیں کہ ماؤنوازوں کی ایک ملٹری ونگ ہے تو انہوں نے کہا وہ اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتے ہیں۔ ' وہ بالکل مختلف ونگ ہے اور میں معاشی شعبہ میں کام کرتا ہوں۔ ہمیں ویسے بھی دوسروں کے بارے میں اس وقت تک نہیں بتایا جاتا جب تک ضرورت نا ہو۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ بندوق کوئی مسئلہ نہیں ہے حکومت بندوق سے ڈرتی ہے ' لیکن میں آپ کو پورے یقین بتا سکتا ہوں کہ یو پی اور بہار کے گاؤوں میں جتنی بندوقیں لوگوں کے پاس ہیں اتنی ماؤنوازوں کے پاس نہیں ہیں۔ در اصل ڈر نظریہ کا ہے یعنی حکومت کمیونزم سے خائف ہے جو ہم چاہتے ہیں اسی لیے وہ ہمیں ملک مخالف اور مجرم کہتی ہے۔''
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ہتھیار نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ سرکار اسی سے ڈرتی ہے اور ہتھیار نا ہوئے تو حکومت پورے بستر علاقے کو ہی مائننگ کے لیے دیدی گی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی عمل میں وہ اس لیے شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ '' موجودہ صورت حال میں اس ملک میں ایسی جمہوریت کا قیام بہت مشکل ہے جس میں عام لوگوں کو عزت مل سکے۔''



















