انڈیا: حصص بازار میں زبردست تیزی

ممبئی اسٹاک ایکسچینج(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنامریکی شیئر بازار میں گراوٹ کے باوجود انڈین بازار میں اس طرح کی تیزی کو حیرت کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ممبئی کے شیئر بازار میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی جب بمبئی سٹاک ایکسچینج سترہ ہزار کے اوپر پہنچ گیا۔

بدھ کی صبح جب بازار کھلا تو وہ 16,956 پر تھا لیکن جلد ہی اس نے چھلانگ لگائی اور 17,024 تک پہنچ گیا۔ نفٹی میں بھی بیالیس پوانئٹس کا اضافہ ہوا۔ نفٹی اس وقت 5,049 پر ہے۔

امریکی شیئر بازار میں گراوٹ کے باوجود انڈین بازار میں اس طرح کی تیزی کو حیرت کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ تیل ، گیس ، دھات اور آئی ٹی سیکٹر میں بتدریج اضافہ ریکارڈ ہوا ہے البتہ این ٹی پی سی اور ٹاٹا موٹرز کو ایک فیصد کا خسارہ ہوا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسی کے ساتھ ریئل سٹیٹ بازار کے حصص میں بھی تیزی آسکتی ہے۔

بازار نے اس سال کی سب سے بڑی گراوٹ تیئس مئی کو دیکھی تھی اس کے بعد سے بازار کچھ سنبھلنے لگا تھا۔ شیئر بازار میں اس طرح کے اضافے سے سرمایہ کاری کرنے والوں میں خوشی کا ماحول ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس مرتبہ کی دیوالی گزشتہ برس کی دیوالی کی طرح سیاہ دیوالی نہیں ہو گی۔

بازار کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اب نہیں تھمے گا۔ بازار میں تیزی آتی رہے گی کیونکہ ایشیاء میں ہندوستانی بازار کی حالت دوسرے ممالک سے بہتر ہے۔

کیمنگ انڈیا لمیٹیڈ کے انڈیا صدر جگر شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال مالیاتی خسارے کے باوجود ہندوستانی بازار میں تیزی اس لیے ہے کہ دنیا میں چین کے علاوہ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں مستقل ترقی ہو رہی ہے۔

شاہ کے مطابق مون سون کی ناکامی کے باوجود انڈیا میں ترقی کی شرح چھ سے سات فیصد کے آس پاس ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت یوروپی ممالک میں حالات بہتر نہیں ہیں اس لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے انڈیا سے بہتر کسی بازار کو نہیں سمجھتے اور جب تک غیر ملکی سرمایہ آتا رہے گا ہندوستانی حصص بازار میں تیزی قائم رہے گی۔

سال دو ہزار آٹھ میں بازار اکیس ہزار پوائنٹس کو پار کر گیا تھا اس وقت سرمایہ کاروں نے خوشی منائی تھی لیکن جلد ہی دنیا بھر میں کساد بازاری کی وجہ سے انڈیا میں بھی بازار میں زبردست گراوٹ شروع ہوئی کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا تھا لیکن بعدمیں انڈیا میں بازار رفتہ رفتہ سنبھلنے لگا۔ شاہ کو یقین ہے کہ آئندہ برس بمبئی سٹاک ایکسچینج ایک بار پھر اکیس ہزار سے زیادہ کے نشان کو پار کر جائے گا۔