انڈیا:سیلاب سے200 سے زائد ہلاک

جنوبی ہندوستان میں شدید بارش کے سبب آنے والے سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہےاور اب یہ تعداد سے دو سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ وہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں بھی تیز بارش سے 25 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ریاست کرناٹک اور آندھرا پردیش کے کئی گاؤں سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ ریاست کرناٹک میں بارش قدرے کم ہوئی لیکن وہاں بڑی تعداد میں کھیت پوری بری طرح متاثر ہوئے اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امدادی کام اور بازآبادکاری کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت پڑے گی۔
کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدورپا نے کہا کہ ان کی ریاست میں سیلاب سے 170 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے چودہ اضلاع میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوگئے ہیں اور کم از کم بیس لاکھ گھر تباہ ہوگئے ہیں۔ساڑھے تین سو سے زیادہ گاؤں اب بھی پانی سے گھرے ہوئے ہیں۔
تقریباً ایک ہفتے سے جاری بارش سے کسانوں کے ہزاروں جانور مرچکے ہیں۔وزیر اعلی یدورپا نے ان حالات کو ’ انتہائی سنجیدہ حالات‘ قرار دیا ہے۔
بنگلور میں صحافی حبیب بیری کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگ بغیر چھت کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ پی چدامبرم حالات کا جائزہ لینے کے لیے کرناٹک اور آندھرا پردیش کا دورہ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بیماری پھیلنے کا ڈر ہے اور اسے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں گزشتہ پانچ دنوں سے جاری بارشوں کی وجہ سے اب تک پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہزارہا گھر تباہ ہو گئے ہیں۔
جنوبی مہاراشٹر اور اس کے ساحلی علاقوں رتناگیری، رائے گڑھ، سندھو درگ، کولہا پور، شولاپور اور سانگلی میں جمعرات کے روز سے شروع ہونے والی طوفانی بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔
رتنا گیری میں چٹان کھسکنے سے تیرہ افراد کی موت واقع ہوگئی تھی جس میں آٹھ افراد ایک ہی خاندان کے تھے۔ شولاپور میں بارش نے دس افراد کی جان لے لی۔ سانگلی، سندھودرگ اور شری وردھن میں ایک ایک فرد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گوا میں قہر برپا کرنے کے بعد اب بارش کا رخ مہاراشٹر کی طرف ہو گیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں کم دباؤ کی وجہ سے بارش ابھی مزید دو تین دن تک جاری رہے گی۔
مقامی باشندہ کرشنا بھاؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ساونت واڑی میں واقع موتی ندی تین دہائیوں کے بعد چھلکی ہے۔ علاقے میں بجلی گرنے سے ایک فرد کی موت واقع ہو چکی ہے اور حالات خراب ہیں۔ کئی افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہیں محفوظ مقامات پر پہچانے کا کام جاری ہے۔ علاقے میں دو سے تین فٹ پانی بھرا ہے۔
کرشنا کے مطابق علاقے میں بجلی بھی نہیں ہے۔ کسی لیڈر نے یہاں کا دورہ بھی نہیں کیا ہے البتہ حکومت کی جانب سے کچھ افراد آئے تھے جنہوں نے مرنے والوں کے ورثاء کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
رتناگیری میں گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر چار سو بیالیس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اتنی بارش تین دہائیوں کے بعد ہوئی ہے۔
ممبئی کو کیرالا ،گوا اور مغربی ساحلوں سے جوڑنے والی کوکن ریلوے بری طرح متاثر ہے۔

مہاراشٹر کے چیف سیکرٹری جانی جوزف نے متاثرہ کولہا پور، شولاپور علاقوں کا دورہ کیا لیکن خراب موسم کی وجہ سے وہ رتناگیری اور سندھ دورگ علاقوں تک نہیں پہنچ سکے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق اب تک بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا ابھی تک تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔
مہاراشٹر کے ان اضلاع کے ساتھ ہی پونے اور مبمئی میں بھی طوفانی ہواؤں اور گھن گرج کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ممبئی میں حالانکہ سیلابی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن بیشتر نشیبی علاقوں میں پانی بھر چکا ہے۔ جگہ جگہ ٹریفک جام ہوگیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مطابق جھیلوں کے اطراف ابھی بھی اتنی بارش نہیں ہوئی ہے جتنی ضرورت ہے۔ کئی جھیلیں ابھی چھلکی نہیں ہیں اس لیے پانی کی کٹوتی جاری رہنے کے امکانات ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مزید دو سے تین دنوں تک بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔



















