’بات چیت کريں گے ہتھیار نہيں ڈالیں گے‘

- مصنف, سلمان روی ، ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی رانچی ، ممبئی
- وقت اشاعت
ہندوستان کی کئی ریاستوں میں سرگرم ماؤنواز باغیوں نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ہتھیار ڈالنے کی شرط وہ نہیں مان سکتے ہیں۔
ماؤنواز باغیوں کے ترجمان کوٹےشور راؤ عرف کشن جی نے ریاست جھارکھنڈ میں بی بی سی سے بات چیت میں کہا ' مرکزی حکومت نے نکسلیوں کے خلاف کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز میں اضافہ کیا ہے اتنا ہی نہيں فضائیہ حملے کی بھی دھمکی دی ہے۔ اب وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بات چیت سے انکار نہيں کرتے لیکن ہتھیار نہیں ڈاليں گے۔'
بدھ کو ممبئی میں مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا تھا کہ اگر ماؤنواز تشدد کا راستہ چھوڑ دیں تو ان سے بات چیت کی جائے گی۔
وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ممبئی میں کہا تھا کہ ہمارا شمار مہذب اور جمہوری ممالک میں ہوتا ہے جہاں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ نہیں کی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے ماؤ نواز گوریلوں کو علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک ختم کردینا چاہئے تاکہ حکومت اور ان کے درمیان مفاہمت کے لیے مذاکرات کی راہیں کھل سکیں۔
مہاراشٹر میں تیرہ اکتوبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ممبئی کے ایک روزہ دورے پر آئے وزیر داخلہ نے گاندھی بھون میں صحافیوں سے ملاقات میں ملک میں بڑھتے نکسلی حملوں پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماؤ نوازوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کسی طرح کی جنگ نہیں ہے بلکہ خود نکسلی تشدد میں یقین رکھتے ہیں اور یہ وہی ہیں جنہوں نے اسے جنگ کا نام دے دیا ہے۔
وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ گزشتہ دس سے بارہ برسوں کے درمیان نکسلی تحریک میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اب ان کی تحریک کو ختم کرنے کے لیے کوئی اور راستہ نہیں بچا سوائے اس کے کہ ہم سکیورٹی فورسز کو انہیں روکنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دیں۔

پی چدمبرم نے نکسل تحریک کے بارے میں مزید کہا کہ جب تک تشدد نہیں رکتا ترقی کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کوئی بھی ملک جو جمہوری اقدار کا پاسدار ہو وہ علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک کو قبول نہیں کرے گا۔
وزیر داخلہ نے نکسلی تحریک کو غیر ملکی فنڈز ملنے کی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ( نکسلیوں کو ) اپنی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے کوئی غیر ملکی فنڈ نہیں مل رہا ہے بلکہ وہ ملک میں بینک لوٹ کر، لوگوں کو اغواء کر کے تاوان کی رقم سے اپنی تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ برس ممبئی پر ہوئے حملوں کی رام پردھان کمیٹی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے لیے کیے گئے سوال کے جواب میں چدمبرم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت مہاراشٹر اسے ’مناسب وقت‘ آنے پر لوگوں کے سامنے پیش کرے گی لیکن کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد جاری ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ہمارا ملک مضبوط ملک ہے اور سکیورٹی نظام بھی مضبوط اور محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کو جدید اسلحہ سے لیس بھی کیا جا رہا ہے۔



















